ہندوستان میں ٹی وی ڈراموں کی کبھی گھر گھر مشترکہ تفریح کے طور پر مضبوط گرفت تھی، لیکن او ٹی ٹی، سوشل میڈیا اور دیگر ڈجیٹل پلیٹ فارموں کے پھیلاؤ نے ناظرین کے دیکھنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ اب ناظرین مقررہ وقت کے بجائے اپنی سہولت اور پسند کے مطابق مواد دیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے ٹی وی کی اجتماعی ناظرین پر گرفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
توجہ اب نایاب ہے، اور ہر اسکرین اسی توجہ کیلئے مقابلہ کر رہی ہے ۔ تصویر: آئی این این
کیا آپ نے وہ ہندوستان دیکھا یا اس کے بارے میں سنا ہے جب رات آٹھ بجے کے بعد گھروں کا منظر ایک جیسا ہوتا تھا؟ کھانا جلدی تیار ہوتا، بچے اپنی جگہ سنبھالتے، بزرگ ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھتے اور گھر کی گفتگو کسی نہ کسی سیریل کے گرد گھومتی۔ ٹی وی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں تھا؛ وہ ایک مشترکہ سماجی تجربہ تھا۔ کروڑوں ہندوستانی اب بھی ٹی وی دیکھتے ہیں، مگر ایک تبدیلی نمایاں ہے: ٹی وی ڈراموں کی طاقت کم ہوگئی ہے۔ مگر کیا او ٹی ٹی کی طاقت بڑھی ہے؟ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ لوگ کیا اور کیسے دیکھ رہے ہیں؟ ٹی وی ایسے دور کی پیداوار تھا جہاں وقت مقرر تھا اور ناظرین کو اسی وقت اسکرین کے سامنے حاضر ہونا پڑتا تھا۔ کوئی قسط چھوٹ جائے تو کہانی کا اہم حصہ ہاتھ سے نکل جاتا۔
یہ بھی پڑھئے: گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں اگر ملک میں کچھ برا ہوا ہے... تو اب کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے
او ٹی ٹی نے یہ پابندی ختم کردی۔ ناظر جب چاہے، جہاں چاہے اور جتنا چاہے مواد دیکھ سکتا ہے۔ پوری سیریز ایک رات میں ختم کرنی ہے یا روزانہ ایک قسط دیکھنی ہے؛ فیصلہ ناظر کا ہے۔ اس اختیار نے ناظر کی توقعات بھی بدل دی ہیں۔ یہ تبدیلی ہندوستانی معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی جڑی ہے۔ خاندان چھوٹے ہوئے، نوجوان تعلیم اور روزگار کیلئے دوسرے شہروں میں گئے، کام کے اوقات بدلے اور موبائل فون روزمرہ زندگی کا اہم آلہ بن گیا۔ ایسے ماحول میں تین سو یا چار سو اقساط پر پھیلی کہانی کیلئے پہلے جیسا تحمل مشکل ہے۔ ناظرین تیز رفتار کہانیاں، مختصر ویڈیوز، مختلف زبانوں کا مواد اور اپنی پسند کے مطابق انتخاب چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ناظر کی زندگی کس رفتار سے چل رہی ہے۔
یہاں ایک اور فرق اہم ہے: او ٹی ٹی، ناظرین کو صرف انتخاب نہیں دیتا، وہ ان کے انتخاب کا ڈیٹا بھی سمجھتا ہے۔ کس نے کیا دیکھا اور کہاں چھوڑا، یہ معلومات مواد کے اگلے فیصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ روایتی ٹی وی میں ناظر کا رویہ بڑی حد تک ریٹنگ کے ذریعے نظر آتا تھا؛ ڈجیٹل دنیا میں اس کی تفصیل زیادہ مہین ہو گئی ہے۔ یہاں کاروبار کا حساب بھی بدلتا ہے۔ روایتی ٹی وی کی معیشت ناظرین کی تعداد اور اشتہارات کے رشتے پر قائم ہے۔ زیادہ ریٹنگ کا مطلب زیادہ اشتہاری قدر لیکن جب ناظر کی توجہ ٹی وی، او ٹی ٹی، یوٹیوب، سوشل میڈیا، موبائل گیمز اور شارٹ ویڈیوز میں تقسیم ہو جائے تو مشتہر بھی اپنی رقم تقسیم کرتا ہے۔ ایک برانڈ اب صرف یہ نہیں پوچھتا کہ ٹی وی پر کتنے لوگ اشتہار دیکھیں گے؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ کس پلیٹ فارم پر مخصوص صارف تک زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچا جا سکتا ہے۔ یوں مقابلہ صرف چینلوں کا نہیں، اشتہاری بجٹ کا بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی وی کا اصل حریف او ٹی ٹی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرولنگ چند سیکنڈ میں اگلا مواد سامنے لے آتی ہے، گیم کھیلنے کیلئے کسی مقررہ وقت کی ضرورت نہیں، آن لائن خریداری تفریح کے ساتھ گھل مل گئی ہے۔ توجہ اب نایاب ہے، اور ہر اسکرین اسی توجہ کیلئے مقابلہ کر رہی ہے۔ پھر بھی ٹی وی کو مردہ قرار دینا غلط ہوگا۔
ہندوستان میں ٹی وی کی رسائی اب بھی وسیع ہے، خصوصاً چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جہاں ٹی وی اب بھی گھر کی مرکزی اسکرین ہے۔ کھیل، مذہبی پروگرام، خبریں اور مقبول تفریحی شوز اب بھی اجتماعی ناظرین جمع کر سکتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ڈراما پہلے جیسی واحد قومی گفتگو پیدا نہیں کر پاتا۔ ایک ہی گھر میں چار افراد چار اسکرینوں پر چار مختلف دنیاؤںمیں گم ہو سکتے ہیں۔ اس تبدیلی نے مواد بنانے والوں کی ترجیحات بھی بدل دی ہیں۔ پروڈیوسر اب صرف ٹی آر پی نہیں دیکھتا؛ اسے یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ کہانی کا کون سا حصہ مختصر ویڈیو بن سکتا ہے، کردار سوشل میڈیا پر گفتگو کیلئے مجبور کرینگے یا نہیں، اور ناظر اگلی قسط کیلئے واپس آئے گا یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر چلا جائے گا۔ مواد کی قیمت صرف نشر ہونے کے لمحے میں نہیں، اس کی پوری ڈجیٹل زندگی میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک کردار ٹی وی پر شروع ہو کر کلپ، میم، ہیش ٹیگ اور پھر برانڈ تعاون تک پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بالی ووڈ اسٹارسنجے دت نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ کے سامنے مراٹھی کیوں نہیں بولی؟
اس لئے ٹی وی سیریلز کی کم ہوتی اجتماعی گرفت کو صرف کسی پرانی صنعت کے زوال کے طور پر دیکھنا ادھوری تصویر ہے۔ یہ صارف کے بدلتے رویے کی کہانی ہے۔ کل تفریح خاندان کو ایک کمرے میں جمع کرتی تھی؛ آج تفریح ہر فرد کے ہاتھ میں اپنی الگ اسکرین کی شکل میں ہے۔ ٹی وی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اس بکھری ہوئی توجہ کو دوبارہ کس طرح اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اگلا کامیاب ٹی وی پروگرام وہ نہیں ہوگا جسے سب ایک ہی وقت میں دیکھیں بلکہ وہ ہوگا جس کے متعلق سب اپنی علاحدہ اسکرین پر دیکھنے کے باوجود ایک ہی وقت میں بات کریں۔