• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گم ہوتے اُردو رسائل و جرائد

Updated: September 18, 2026, 4:33 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

اطلاعاتی انقلاب کے اس دور میں اُردو کے بعض رسائل و جرائد زندہ تو ہیں مگر ان میں ایسا کچھ نہیں ہے جو قارئین کے کام آسکے۔ شمع، تجلی، حیات، بلٹز، شب خون جیسے بہت اور کم چھپنے والے رسائل تو آخری سانس لے ہی چکے ہیں چھوٹے یا کم بولی جانے والی زبانوں کے رسائل و جرائد بھی آخری سانس لے رہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایک زمانہ تھا کہ ملک خصوصاً دہلی اور ممبئی سے کئی چھوٹے بڑے رسائل اور اخبارات نکلتے تھے۔ ادارہ انقلاب سے شائع ہونے والے رسالے ’کہکشاں‘ کی بھی ہر طرف دھوم مچی ہوئی تھی۔ انگریزی، ہندی اور دوسری زبانوں میں تو خصوصاً چھوٹے پیمانے پر ترتیب دیئے اور شائع کئے جانے والے رسائل کی بہتات تھی۔ اُردو میں رسائل ترتیب دینے اور شائع کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے جنہیں اُردو آتی ہی نہیں تھی یا جنہوں نے زندگی بھر کچھ لکھا ہی نہیں تھا مگر ایسے رسائل و اخبارات کیلئے جب مسائل بڑھنے لگے، کاغذ، چھپائی، مزدوری، ڈاک خرچ وغیرہ میں اضافہ ہوتا گیا تو ہندی والے ۲۰۰۱ء میں جے پور میں جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ۹؍ ستمبر یعنی جدید ہندی کے بنیاد گزار بھارتیندو ہریش چندر (دیکھئے بائیں جانب کی تصویر) کی جینتی کو چھوٹی میگزین ڈے کی شکل میں منایا جائے۔

۹؍ ستمبر گزر چکی ہے مگر چونکہ بھارتیندو ہریش چندر ابتدا میں اُردو میں لکھتے، شاعری کرتے اور ’رسا‘ تخلص کرتے تھے اس لئے دل میں خیال آیا کہ ایک کالم اسی موضوع پر لکھا جائے۔ اس کالم کا مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ ترویج و اشاعت کے نام پر جب کسی زبان کی صحافت میں ایسے لوگ گھس آئیں جن کا مقصد بلیک میل کرنا، کسی کی ناجائز بُرائی کرنا اور کسی کی خوشامد کرنا ہو تو اس زبان کی صحافت کو گھن لگ جاتا ہے۔ آج خود کو معتبر سمجھنے اور ممتاز صحافی لکھنے والے تو درجنوں ہیں مگر غیرت و خودداری اور جرأت و صاف گوئی کا مظاہرہ کرنے والے نایاب ہیں لہٰذا اُردو صحافت بے بھرم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری زبانوں کے کم تعداد میں چھپنے والے اخبارات و رسائل کا حال بھی اچھا نہیں ہے مگر اُردو کا حال کچھ زیادہ ہی ابتر ہے۔ اس کے شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے عمر بھر کچھ لکھا ہی نہیں ہے مگر فتنے کافی جگائے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ کی گرتی معاشی ساکھ

ہندی اُردو میں چھوٹی میگزینوں کا دور تو ابتدا سے ہی رہا ہے مگر عوامی تحریک کے طور پر اس کا آغاز پچھلی صدی کے ساتویں دہے میں ہوا اور اُردو نیز دوسری زبانوں پر اثرات کے ساتھ دو تین دہوں تک برقرار رہا۔ آج مودی میڈیا کی ترکیب کا استعمال ہو رہا ہے، اس وقت کاؤنٹر جرنلزم کی ترکیب شروع ہوئی تھی مگر متوازی صحافت کا نعرہ لگانے والوں نے بھی کافی گمرہی پھیلائی اور بالآخر لوگ انگریزی اور قومی و علاقائی زبانوں کے علاوہ دوسری زبانوں کی صحافت سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگے۔ اطلاعاتی انقلاب کے اس دور میں اُردو کے بعض رسائل و جرائد زندہ تو ہیں مگر ان میں ایسا کچھ نہیں ہے جو قارئین کے کام آسکے۔ شمع، تجلی، حیات، بلٹز، شب خون جیسے بہت اور کم چھپنے والے رسائل تو آخری سانس لے ہی چکے ہیں چھوٹے یا کم بولی جانے والی زبانوں کے رسائل و جرائد بھی آخری سانس لے رہے ہیں۔ ان میں جینے کی چاہ ہے نہ باہر سے اتنی آکسیجن مل رہی ہے کہ وہ زندہ رہیں۔ لکھنے والے بھی مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ صرف اُردو کی مثال دی جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ اُردو اخبارات کے مراسلات و اعلانات کے کالم انتقال اور سبکدوشی کی خبروں سے بھرے رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گلی کوچوں میں کانا پھوسی کرنے والے بھی بڑے حلقے تک اپنی بات پہنچانے کے اہل نہیں ہیں۔ پہلے ریل کی کسی بھی لائن پر سفر کرتے ہوئے کم از کم بڑے اسٹیشنوں پر ہر زبان کے ماہنامے مل جایا کرتے تھے مگر اب کسی زبان کا ماہنامہ نہیں ملتا۔ اُردو رسائل یا ماہنامے تو بالکل نہیں ملتے۔ البتہ اپنی زبان، تہذیب اور ادب کی ناقدری کرنے والے بڑھتے جا رہے ہیں۔ شاید اس لئے کہ جو لوگ لکھ رہے ہیں ان میں کم ایسے ہیں جو صحیح اُردو لکھ سکتے ہوں۔ ایک وبا یہ بھی پھیل رہی ہے کہ خود کو شہرت دینے کے لئے فائدہ پہنچا سکنے والوں سے دوستی کرنے اور ادبی تہذیبی اجتماعات کے ڈائس پر قابض ہونے کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لگائی بجھائی کرنے والے تو بہت ہیں حالات حاضرہ پر لکھنے والے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

ای صحافت کا زور بڑھا ہے مگر مطبوعہ صحافت یا چھپے ہوئے لفظوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ البتہ یہ سوال بہت اہم ہے کہ جو چھپتا ہے اس میں چھپتا کیا ہے۔ اگر کچھ ایسا چھپتا ہے جو لفظوں، جملوں کو صحیح تناظر میں استعمال نہ کرسکے تو اس کے چھپنے کا حاصل کیا ہے۔ سب سے بڑا عیب یہ سامنے آیا ہے کہ ادب بے ادبی اور تدریس کمائی کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ مشاعروں اور تہذیبی جلسوں میں بے ہودگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ کچھ عرصے پہلے حیدرآباد کی مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی کی ایک کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ وہاں انکشاف ہوا کہ اُردو کی نمائندگی کرنے والوں میں وہ بھی ہیں جنہیں اُردو آتی ہے نہ صحافت۔ کئی ایسی کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا جن میں صحافی کی حیثیت سے ان کا ذکر تھا جو زبان و صحافت کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے۔ اپنے بارے میں گفتگو کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر مَیں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ دو ایک جگہ جہاں میں ملازم رہا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا جو میری ملازمت کے درپے تھے مگر خود کچھ نہیں کر پائے۔

مَیں نے کوئی فکری کمائی کی ہے یا میرے قلم میں سمائی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ دوسرے کریں گے مگر مَیں اصرار کرتا ہوں کہ ایمانداری اور خودداری سدا میرے ساتھ رہی ہے۔ شاید اسی لئے حرف و لفظ میں تاثیر دینے والے نے میری تحریروں کو مقبولیت عطا کی ہے۔ میری صحافت دوستوں کے حلقے کی محتاج نہیں ہے۔ راقم الحروف نے کیا لکھا اور زبان و بیان کا معیار قائم رکھنے کے ساتھ جرأت و حق گوئی کی کیا مثال قائم کی اس کا جواب تب سامنے آئے گا جب گزشتہ چالیس پچاس برس میں اس کی لکھی ہوئی تحریریں سامنے ہوں۔ شاید لوگوں کا یا اُردو کے بچے کھچے قارئین کا دل آواز دے کہ اُردو زبان و تہذیب اور ادب و صحافت کو تباہ کرنے میں:  دشمنوں نے تو دشمنی کی ہے/ دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے! یہ واحد زبان ہے جس کو چاہنے کا دعویٰ کرنے والوں میں بیشتر کو آتا جاتا کچھ نہیں مگر وہ دور بیٹھ کر شوشے چھوڑنے کو اُردو کی خدمت سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK