کسی ملک کی بچت کی شرح صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ کتنا دولت مند ہے، بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ اس کی آبادی زندگی کے مختلف مراحل میں کس طرح تقسیم ہے۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 3:26 PM IST | Srinivas Goli And Neha Jain | Mumbai
کسی ملک کی بچت کی شرح صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ کتنا دولت مند ہے، بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ اس کی آبادی زندگی کے مختلف مراحل میں کس طرح تقسیم ہے۔
ہندوستان کی گھریلو بچت دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر کیوں ہے؟ جبکہ ملک کی کام کرنے کی عمر والی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے؟ ہندوستان اس راستے پر چلنے کے بجائے اس کے برعکس سمت جا رہا ہے جس پر کبھی جاپان اور چین چلے تھے۔ کام کرنے کی عمر کی آبادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص حقیقتاً کام بھی کر رہا ہے جبکہ غیر رسمی شعبہ اپنی آمدنی بینک میں جمع کرنے کے لئے رُک نہیں رہا۔ کام کرنے کی عمر والی آبادی میں مسلسل اضافہ، زیر کفالت بچوں کے تناسب میں کمی اور بزرگوں کی نسبتاً کم تعداد نے ہندوستان کے سامنے ایک ایسے ’’آبادیاتی منافع‘‘(ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ) کی امید پیدا کی ہے، جو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کسی ملک میں پیداوار کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہو جن کی کفالت ان پر منحصر ہوتی ہے لیکن اب آبادی کے ڈھانچے سے ایک خاموش مگر تشویشناک اشارہ مل رہا ہے۔ ایک طرف ہندوستان میں کام کرنے کی عمر والی آبادی کا تناسب اپنی بلند ترین سطح کی طرف بڑھ رہا ہےتو دوسری طرف ملک کے گھرانے تقریباً دو دہائیوں کے مقابلے میں سب سے کم بچت کر رہے ہیں۔ یہ تضاد اس بنیادی تصور کو چیلنج کرتا ہے جس کے ذریعے ماہرین آبادی اور معیشت کے درمیان تعلق کو سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نئی نسل ہندوستان کی نئی امید
۱۹۸۵ء میں فرانکو موڈیلیانی کو ان کے ’’لائف سائیکل ہائپوتھیسس‘‘ یعنی زندگی کے مختلف مراحل کے مطابق آمدنی اور خرچ کے نظریے پر نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق لوگ ہر سال اپنی کمائی کا سارا حصہ خرچ نہیں کرتے۔ وہ جوانی میں قرض لیتے ہیں، اپنی ملازمت اور آمدنی کے عروج کے زمانے میں بچت کرتے ہیں اور بڑھاپے میں اسی بچت کو استعمال کرتے ہیں۔جب اس نظریے کو پورے ملک کی سطح پر دیکھا جائے تو اس سے ایک اہم نتیجہ نکلتا ہےکہ کسی ملک کی بچت کی شرح صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ کتنا دولت مند ہے، بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ اس کی آبادی زندگی کے مختلف مراحل میں کس طرح تقسیم ہے۔ بعد میں رونالڈلی اور اینڈریو میسن نے اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’دوسرے آبادیاتی منافع‘‘ کا نظریہ پیش کیا۔ دوسرا منافع زیادہ پیچیدہ ہے اور خود بخود حاصل نہیں ہوتا۔ یہ اس دولت سے پیدا ہوتا ہے جو کام کرنے والے افراد اپنے بڑھاپے کو سامنے رکھتے ہوئے جمع کرتے ہیںلیکن یہ دوسرا آبادیاتی منافع اسی وقت حقیقت بنتا ہے جب آبادی کا ڈھانچہ ایسے اداروں سے جڑا ہو جو لوگوں کی بچت کی خواہش کو حقیقی اور سرمایہ کاری کے قابل اثاثوں میں تبدیل کر سکیں۔ اس کے لئے پنشن کا مضبوط نظام، رسمی مالیاتی ادارے اور مؤثر روزگار کی منڈی ضروری ہے۔اگر ہندوستان کے اعداد و شمار کو اسی نظریاتی فریم ورک میں دیکھا جائے تو آبادی کا ڈھانچہ اور بچت کی شرح ایک دوسرے کے بالکل برعکس سمت میں بڑھ رہے ہیں۔
صدی کے آغاز میں ہندوستان کی کام کرنے کی عمر والی آبادی تقریباً ۵۸؍ فیصد تھی جو اب بڑھ کر تقریباً ۶۵؍ فیصد ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق یہ تناسب ۲۰۴۰ءکی دہائی تک مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے بعد ملک کی آبادی بتدریج عمر رسیدہ ہونے لگے گی۔موڈیلیانی کے نظریے کے مطابق اس صورتحال میں گھریلو بچت بھی بڑھنی چا ہئے تھی لیکن اس کے برعکس بچت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ۲۰۰۰ءکی دہائی کے آخری برسوں میں گھریلو بچت قابلِ تصرف آمدنی کے تقریباً ایک تہائی کے برابر تھی، جو اب گھٹ کر تقریباً پانچواں حصہ رہ گئی ہے۔ یعنی جس وقت ہندوستان کو آبادیاتی اعتبار سے بچت کیلئے سب سے زیادہ سازگار دور سے گزرنا چاہئے تھا، اسی وقت وہ بچت کم ہوتی جا رہی ہے۔جب ہندوستان کا موازنہ ان معیشتوں سے کیا جاتا ہے جنہیں وہ ترقی کے لئے مثال سمجھتا ہے تو یہ تضاد مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا اور بعد میں چین نے اس وقت بڑے پیمانے پر بچت کی جب ان کی کام کرنے کی عمر والی آبادی اپنے عروج پر پہنچ رہی تھی۔ انہوں نے اپنی نوجوان آبادی کے ڈھانچے کو سرمایہ کاری کے لئے دستیاب دولت کے ایک بڑے ذخیرے میں تبدیل کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ تحریک: دہلی سے دربھنگہ تک
ہندوستان اس ترتیب کے بالکل برعکس راستے پر ہے۔ یہاں بچت کی شرح اس وقت کم ہو رہی ہے جب کام کرنے کی عمر والی آبادی ابھی بڑھ رہی ہے۔آخر ایک نوجوان ہندوستان، ایک عمر رسیدہ ملک کی طرح کم بچت کیوں کر رہا ہے؟اس کی تین بڑی وجوہات ہیں اور تینوں کا تعلق آبادی سے ہے۔پہلی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی آبادیاتی لہر ابھی تک ایک پیداواری آبادیاتی لہر نہیں بن سکی ہے۔ لائف سائیکل ماڈل یہ فرض کرتا ہے کہ جو لوگ کام کرنے کی عمر کے بہترین مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، وہ اپنی زندگی کی سب سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہوں گے۔ لیکن ہندوستان میں یہ تعلق کمزور ہے۔ کام کرنے کی عمر والی آبادی میں ہونے والا بڑا اضافہ نوجوانوں، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کم روزگار یا نامکمل روزگار کا شکار لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کی آمدنی نہ صرف کم ہے بلکہ غیر یقینی اور غیر مستحکم بھی ہے۔ ایسی صورت حال میں آمدنی کا کوئی بڑا حصہ بچنا مشکل ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں آبادیاتی تبدیلی ان اداروں کی تعمیر سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جو اس تبدیلی کا ساتھ دینے کے لئےضروری ہیں۔لوگ اپنے بڑھاپے کے لئے اسی وقت بچت کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ مستقبل میں اس بچت کی ضرورت بھی پڑے گی اور وہ اس کے ذریعے اپنا بڑھاپا محفوظ بھی بنا سکیں گے۔ ہندوستان میں رسمی پنشن کا دائرہ اب بھی صرف ایک محدود حصے تک ہے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ آبادیاتی منافع دولت جمع کرنے کے بجائے کھپت میں جذب ہو رہا ہے۔اسی عرصے میں گھرانوں کا قرض بھی بڑھا ہے۔ پرسنل لون، کریڈٹ کارڈس اور کنزیومر لون میں اضافہ ہوا ہے۔۲۰۲۳ء کے آخر میں جب ریزرو بینک آف انڈیا نے غیر محفوظ قرضوں کے حوالے سے قوانین سخت کئے تو اس کے پیچھے ایک اہم تشویش یہ بھی تھی کہ لوگ اپنی آمدنی میں اضافے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے قرض لے رہے تھےیعنی ایک نوجوان آبادی کو ایک امیر ملک جیسی کھپت کی عادتیں فروخت کی جا رہی ہیں۔
ہندوستان کے پاس اب بھی آبادیاتی اعتبار سے ایک بڑا فائدہ موجود ہےلیکن اگر یہ نسل اپنی آمدنی کو مستقبل کی دولت بنانے کے بجائے موجودہ کھپت میں خرچ کرتی رہی تو ممکن ہے کہ ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے آبادیاتی موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اسے صرف خرچ کر دے۔