وہ بچے جنہیں ابھی کل ہم نے انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھایا تھا آج وہ ہمیں راہ دکھارہے ہیں۔ ابھیجیت دِپکے اور ان جیسے لاکھوں نوجوانوں کے غیر متزلزل عزائم، مضبوط ارادے،سچی لگن اور تبدیلی کی شدید تڑپ کو دیکھ کر یہ امید جاگی ہے کہ اچھے دن کا سپنا دکھایا تو کسی اور نے تھا مگر اچھے دن لائیں گے جین زی۔
محمد رفیع کا یہ ولولہ انگریز نغمہ’’اس دیش کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے‘‘ تو میں بچپن سے سنتا آیا تھالیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ ایک دن میں اپنے ملک کے بچوں کو اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھوں گا۔جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے پر امن احتجاج کے نتیجے میں وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کااستعفیٰ میرے لئے یہ امید افزاپیغام ہے کہ نئی نسل کے ہاتھوں میں ملک محفوظ ہے۔
بڑھتے ریاستی جبر کی وجہ سے جب احتجاج اور اختلاف رائے کی راہیں مسدود کردی گئی ہوں، جب شہریوں کے حق مانگنے کے حق کو بھی جرم تصور کیا جارہا ہو، جب ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو دیش دروہی قرار دے کر ان کے آشیانوں کو بلڈوزروں سے روندا جارہا ہو ایسے پر آشوب وقت میں جین زی نے ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرأت دکھائی۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ تحریک: دہلی سے دربھنگہ تک
وہ حکومت جو یہ دعویٰ کرتی تھی کہ کسی قسم کا دباؤ اس پر کام نہیں کرسکتا، اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وہ کابینہ جس کو اس بات کا غرور تھا کہ اس کے اراکین استعفیٰ نہیں دیتے تھے اس کابینہ کا گھمنڈ خاک میں مل گیا جب اسے اپنے بھاری بھرکم وزیر تعلیم کو مارچنگ آرڈر دینا پڑا۔یہ بات صحیح ہے کہ ایک با ر پہلے بھی متنازع زرعی قوانین کی واپسی سے مودی سرکار کی سبکی ہوئی تھی لیکن اس کے لئے لاکھوں کسانوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے تک کھلے آسمان کے نیچے مظاہرے کرنے پڑے تھے جن میں سیکڑوں لوگوں کی جانیں بھی چلی گئی تھیں۔ طلبہ کے آندولن نے جس برق رفتار ی سے اپنا ہدف حاصل کیا وہ بے مثال ہے۔پانچ ہفتوں میں سرکارکی ساری اکڑ نکل گئی اور اسے ان بچوں کے آگے سرنگوں ہونا پڑا جنہیں کل تک وہ حقارت سے نظر انداز کررہی تھی۔ بارہ برسوں میں پہلی بار مودی سرکار کی ایسی پسپائی ہوئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش نہیں کی۔ جنتر منتر پر بڑی بھیڑ اکٹھی نہ ہوسکے اس کے لئے قریبی میٹرو اسٹیشن بند کردیئے گئے۔ کشمیر کی طرح دیش کی راجدھانی کے قلب میں انٹرنیٹ بند کردی گئی۔ انتقام کی آگ میں جلتی سرکار نے نوخیز احتجاجیوں کے منہ سے نوالے چھیننے کی کوشش بھی کی۔ کھانے کے پیکٹ اور پانی کی بوتلیں فراہم کرنے والے سوئیگی اور زومیٹو کے رائیڈرس کی آمد و رفت پر بھی پابندی لگادی گئی۔ اور جب سب ہتھکنڈے فیل ہوگئے تو پولیس بچوں پر ٹوٹ پڑی اور ان کی ہڈی پسلی توڑ ڈالی۔ کشمیر کی طرح ہی دلی کے کئی نہتے مظاہرین کے جسموں پر پیلٹ گن کے زخم پائے گئے ہیں۔ لڑکیوں کے ساتھ نازیباسلوک بھی کیا گیا۔’’دی ہندو‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ پولیس اہلکار جس طرح احتجاجی بچوں پر تشدد کررہے تھے اس سے لگتا ہے کہ پولیس کا مقصد انہیں منتشر کرنا نہیں بلکہ نقصان پہنچانا اور دہشت زدہ کرنا تھا۔اتنا ظلم سہنے کے باوجود بچوں نے تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیا۔ وہ مار کھاتے رہے لیکن ہاتھ نہیں اٹھایا۔انہوں نے بھوک ہڑتال اور پر امن دھرنے کو اپنا ہتھیار بنایا۔ پچھلے بارہ برسوں سے بی جے پی اور پورا ہندوتوا بریگیڈ مہاتما گاندھی کومعتوب کرنے بلکہ انہیں ویلن اور ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ہیرو ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ جین زی کی تحریک کی کامیابی سے یہ واضح ہوگیا کہ گاندھیائی طریقۂ احتجاج آج بھی کارگر ہے اور گاندھی واقعی امر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شور سا کرتے جاتے تھے ہم، بات کی کس کو طاقت تھی
وہ بچے جنہیں ابھی کل ہم نے انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھایا تھا آج وہ ہمیں راہ دکھارہے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں نے توہمیں بری طرح مایوس کردیا تھا لیکن ابھیجیت دِپکے اور ان جیسے لاکھوں نوجوانوں کے غیر متزلزل عزائم، مضبوط ارادے،سچی لگن اور تبدیلی کی شدید تڑپ کو دیکھ کر یہ امید جاگی ہے کہ اچھے دن کا سپنا دکھایا تو کسی اور نے تھا مگر اچھے دن لائیں گے جین زی۔یہ جیت پوری طرح سے ان اٹھارہ بیس سال کے بچوں کی جیت ہے۔
ہار صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ درباری میڈیا کی بھی ہوئی ہے۔گودی میڈیا نے حسب معمول طلبہ کے آندولن کو پہلے دن سے بدنام کرنے کی منظم مہم چھیڑ دی۔ ٹیلی ویژن اینکروں نے ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھیوں کی کردار کشی میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی۔ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور امریکہ تک پر جنتر منتر کے احتجاج کی سرپرستی اور مالی مددکے الزام لگائے گئے۔ کاکروچوں کی تحریک کو ملک کو توڑنے کی سازش قراردیا گیا۔ ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جو پچھلے دس بارہ برسوں میں عوامی یا سیاسی احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن کاکروچوں نے گودی میڈیاکی ہر چال ناکام بنادی۔جب جب گودی میڈیا کے نمائندے جنتر منتر پہنچے انہیں ذلیل وخوار ہوکر خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ ویسے بھی ٹیلی ویژن چینلز اپنی ساکھ اور اعتبار دونوں کھوچکے ہیں۔لوگ اب خبریں دیکھنے کیلئے مشہور ٹی وی چینلز کی بجائے مقبول یو ٹیوبرز کے ویڈیوز دیکھتے ہیں۔
ابھیجیت دپکے کی عمر ابھی صرف تیس سال ہے لیکن وہ بالغ نظر، باشعوراور سلجھے ہوئے خیالات کا مالک نوجوان ہے۔ اس کی قیادت میں طلبہ کے آندولن نے جوکارنامہ انجام دیا ہے اس کی بازگشت اب ہندوستان سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے۔ ابھی تین ماہ قبل تک جو شخص گمنام تھا آج ایک خلقت اس کے نام سے واقف ہوچکی ہے۔ اتنی سی عمر میں اتنی شہرت اوراتنی مقبولیت حاصل کرنے کے بعد بھی ابھیجیت کے پاؤں مضبوطی سے زمین پر ہیں۔ پردھان کے استعفیٰ کے فوراً بعد ابھیجیت نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہیرو بنانے کی کوشش مت کرنا کیونکہ ایک انسان کوہیرو بنانے کی وجہ سے ہی دیش کا کباڑہ ہوا ہے۔ ابھیجیت نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس ایک شخص کو ہیرو بنانے کی وجہ سے ملک کا کباڑہ ہوگیا ہے۔شاید اس لئے کیونکہ ابھیجیت جانتے ہیں کہ لوگ جانتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کا آندولن چاروں طرف کیوں پھیل گیا؟
پس نوشت: ابھیجیت نے اپنی تقریر میں چیف جسٹس سوریہ کانت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے نوجوانوں کو کاکروچ نہیں کہا ہوتا تو وہ امریکہ سے انڈیا واپس نہیں آتے اور یہ تحریک جنم نہیں لیتی۔معزز جج صاحب ساری زندگی اس دن کو یاد کر کے خود کو کوسیں گے جس دن انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کیڑے مکوڑے اور کاکروچ کے القابات سے نوازا تھا۔اب وہ خواہ ساری زندگی اپنی بات کی تردید کرتے رہیں لیکن یہ ہمیشہ کیلئے ان کے نام سے منسوب ہوچکی ہے۔کاکروچ کی اصطلاح بے روزگار نوجوانوں کی تضحیک اور تذلیل کیلئے استعمال کی گئی تھی لیکن جین زی نے اسے تمغۂ افتخار بناکر اپنے سینوں پر سجالیا۔ چیف جسٹس صاحب کے ایک چھوٹے سے کمنٹ نے کاکروچ کو آج سماجی اور سیاسی ہیرو بنا دیاہے۔