• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تنقید کو اپنی کامیابی کی شاہراہ کی تعمیر کے لئے استعمال کیجئے

Updated: September 29, 2026, 3:49 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

معاشرے کی اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ مثبت تنقید کا خیرمقدم ہو اور اگر کسی نیک مقصد کے لئے لوگوں کی تلخ باتیں سننا پڑے تو اسے بھی گوارا کرلیا جائے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے ، لوگوں کا اس پر تنقید کرنا ایک فطری بات ہے۔یہ تنقید کبھی اصلاح کے جذبہ سے ہوتی ہے اور کبھی صرف حسد اور بغض کی وجہ سے ہوتی ہے۔ خاص کر آج کے سوشل میڈیا کے دور میں تو گویا  دنیا کے ہر انسان کے ہاتھ میں ایک استرا آگیا ہے جس سے وہ ہر کسی کا سر مونڈ سکتا ہے۔ آج  دنیا کے بڑے سے بڑے شخص کی پوسٹ پر ایک راہ چلتا مسافر بھی اپنے دل کی بات کہہ سکتا ہے اور اس پر تنقید کی بوچھار کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں چلتے پھرتے بھی اس طرح ایک دوسرے کی عیب جوئی کرنا اور غلطی ڈھونڈ نکالنا گویا  ہر کس وناکس کا روزانہ کا مشغلہ بن گیا ہے۔ 

اب ایسی صورت حال میں جس پر تنقید ہورہی ہے اور جس کی غلطی کی نشاندہی ہورہی ہے اس کے سامنے دو راستے باقی رہتے ہیں: یا تووہ اس تنقید کے ڈر سے پیچھے ہٹ جائے اور جو کام وہ کررہا تھا اس کو ترک کردے۔ جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ انسان یہ کہے کہ وہ کسی کی تنقید کی پروا نہیں کرتا اور وہ جو کام کررہا تھا اس پر ڈٹ جائے، اور اس سے ہر گزنہیں رکے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو ان دونوں میں سے کون سا راستہ چننا چاہئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حتمی طور پر ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب اور اس پر قائم رہنا غلط ہے۔ اسلئے کہ بعض اوقات اپنی غلطی مان لینا اور پیچھے ہٹ جانا بہتر ہوتا ہے اور بعض مرتبہ اپنی راہ پر قائم رہنا ہی انسان کیلئے کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اُمت میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک سو‘د سے بچے

اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ تنقید سے ڈرنا یا اپنی روش پر اڑنا  دونوں ہی رویے ٹھیک نہیں ہیں۔  اگر ہم حق پر ہوں اور کوئی ایسا کام کررہے ہوں جو ہمارے خالق ومالک کو پسند ہو تو پھر اس میں کسی کی طرف سے برابھلا سننا، کسی کی طرف لعن طعن اور ملامت کو برداشت کرنا نہ صرف صحیح ہے بلکہ ہمارے لئے عظیم اجر کا باعث ہے۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’’اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ اس آیت کی تفسیر میں تنقید کے متعلق مومنین کے رویہ کے کی بابت یہ مذکور ہے کہ:’’بلکہ وہ(مومنین) اپنے رب کی رضا اور اس کی ناراضی کے خوف کو مخلوق کی ملامت پر مقدم رکھتے ہیں۔ یہ ان کی بلند ہمتی اور مضبوط عزم کی دلیل ہے۔ کیونکہ کمزور دل انسان کی ہمت بھی کمزور ہوتی ہے؛ ملامت کرنے والوں کی ملامت کے وقت اس کا عزم متزلزل ہوجاتا ہے اور عیب نکالنے والوں کی تنقید سے اس کی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔‘‘

ترمذی شریف کی ایک حدیث میں یہ ملتا ہے کہ نبی کریمؐ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو  جو نصیحتیں کی تھیں، ان میں سے دو یہ تھیں:’’اور یہ کہ میں حق بات کہوں، اگرچہ وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے حق بات کہنے سے نہ روک سکے۔‘‘

اس سلسلے میں ایک لطیف نکتہ حضرت مریمؑ کے قصے میں ملتا ہے کہ جب ان کو اللہ رب العزت کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ  کی پیدائش کی بشارت دی گئی تو وہ پریشان ہوگئیں۔  اس وقت حضرت مریمؑ کو ذہنی دباؤ یہ تھا کہ بنا شادی کے بچے کو لے کر وہ لوگوں کے درمیان کیسے جائیں گی؟ اس پر ایک مسئلہ یہ تھا کہ ان کو آبادی سے دورجانا پڑا،تنہائی ایک الگ پریشانی تھی ۔غذا اپنے آپ میں ایک مسئلہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ان کے سارے مسئلے حل کردئیے، ساتھ میں ہی ان مشکل حالات  میں ان کو حکم دیا کہ : ’’کھاؤ،  پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔‘‘ ایک ایسے وقت میں جب حضرت مریمؑ کو ’لوگ کیا کہیں گے ‘کا غم کھائے جارہا تھا، اور دیگر مسائل ان کو گھیرے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کو کھانے پینے اور خوش رہنے کا حکم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسان اگر حق پر ہو، اللہ کی رضا کے راستے پر چل رہا ہو تو اسے تنقید اور مسائل کے باوجود زندگی  اپنے طریقے پر جینا چاہئے۔ اسی کو ایک حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ سچائی اطمینان ہے۔  انسان جب سچ کی راہ پر چل رہا ہو تو اس کے دل کو کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی بلکہ کسی پرسکون جھیل کے پانی کی طرح ایک ٹھہراؤ حاصل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:عقیدہ، اخلاق، آداب اور احکام پر مشتمل ایک ’نصاب‘ ہر گھر میں رائج ہو 

لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لوگوں کی تنقید کی پروا یا فکر نہ کرنے کا اصول ہر جگہ نافذ نہیں ہوتا۔بعض اوقات  قبل اس کے، دوسرے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوں، اس کی وضاحت کردینا چاہئے۔ اس کی تعلیم کیلئے سیرۃ النبیؐ میں یہ واقعہ ملتا ہے: رمضان کے آخری عشرے میں ام المومنین حضرت صفیہؓ رسول اکرمؐ سے ملنے اعتکاف گاہ  میں پہنچیں۔ واپسی پر آپ ؐ انہیں گھر پہنچانے نکلے۔ راستے میں دو صحابہؓ گزرے تو آپ ؐ نے فرمایا: ٹھہرو،  یہ صفیہ بنت حيی ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے حیرت کا اظہار کیا کہ یارسول ؐاللہ!ہم آپؐ کے متعلق بدگمانی کیسے کرسکتے ہیں؟  آپؐ نے فرمایا: شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا  ہے،  مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تمہارے دل میں برا خیال ڈال دے۔ 

 لوگوں کی باتوں کی پروا اور فکر نہ کرنے کا ایک اور شاخسانہ یہ بھی ہے کہ اسی راہ سے معاشرے میں بے شمار برائیاں درآئی ہیں اور جب ان پر روک ٹوک ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے ’ ’یہ میری زندگی ہے، میں جو چاہوں کروں۔‘‘  یہ رویہ بے شرمی پر مبنی ہوتا ہے۔  ایک حدیث میں  آپؐ نے  ارشاد فرمایا ہے: ’’جب شرم ہی نہ رہے تو جو جی میں آئے کر۔‘‘   

 ابھی زیادہ عرصہ نہیں بیتا جب ہمارے معاشرے کے بچے اور نوجوان بڑے بوڑھوں سے ڈرتے اور ان کی بات سنتے تھے لیکن جیسے جیسے اصلاح کرنے والوں کی تنقید اور ان کی باتوں کو اَن سنا کیا جارہا ہے معاشرہ  میں برائیاں بڑھ رہی ہیں۔  

مذکورہ   دو الگ الگ نکات ہم پر واضح کرتے ہیں کہ اگر ہم حق پر ہیں، تو پھر کسی کے برابھلا کہنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ یہ خوداعتمادی اور ثابت قدمی ٔایمان کا تقاضہ ہے۔ اگر ہم غلطی پر ہیں تو تنقید کو قبول کرکے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ اس طرح ہم جہاں، لوگوں کی طرف سے دی جانے والی زبانی اذیت کا سد باب کرسکتے ہیں وہیں  اپنی دنیوی واخروی کامیابی کی شاہراہ تیارکرسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK