• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عبادت کا مطلب صرف ظاہری اعمال کی کثرت نہیں، باطن کی اصلاح بھی ہے

Updated: February 20, 2026, 5:06 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

زمانہ بدلتا ہے تو اس کے ساتھ اسباب بھی بدل جاتے ہیں۔ کبھی گھوڑا انسان کی قوت اور رفتار کی علامت تھا، بیل گاڑی دیہی زندگی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں تھا، بلکہ صبر، محنت اور تدریج کا تجربہ تھا۔

Despite numerous changes, Ramadan continues to shine with the same splendor it did when it was first observed. Photo: INN
بے شمار تبدیلیوں کے باوجود رمضان المبارک آج بھی اسی شان سے جلوہ افروز ہوتا ہے جس شان سے اپنی فرضیت کے وقت ہوا تھا۔ تصویر: آئی این این

آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں رفتار ہی معیارِ برتری بن چکی ہے۔ جو جتنا تیز ہے وہ اُتنا معتبر ہے؛ جو جتنا فوری ہے، اس کو اُتنا مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ ترقی اب محض سہولت کا نام نہیں رہی بلکہ وقت پر غلبہ پانے کا عنوان بن گئی ہے۔ انسان نے صدیوں تک جن کاموں کو صبر، مہارت اور تدریج کے ساتھ انجام دیا، آج وہی کام لمحوں میں مکمل ہو رہے ہیں۔ اسی تسلسل میں مصنوعی ذہانت کا ظہور ہوا، جو نہ تھکتی ہے، نہ الجھتی ہے اور نہ بھولتی ہے؛ وہ سوچتی بھی ہے اور سیکھتی بھی ہے، اور وہ سب کچھ کرتی ہے جس کیلئے کبھی انسان کو برسوں کی مشق درکار ہوتی تھی۔لیکن تاریخ کا ایک مستقل قاعدہ ہے: جب کوئی نئی چیز اپنی قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے تو پرانی چیزیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ہاتھ سے لکھے جانے والے خطوط کبھی جذبات کی سب سے معتبر زبان تھے، پھر ٹیلی گراف آیا، پھر ٹیلی فون، پھر ای میل اور اب فوری پیغام رسانی۔ ہر مرحلے پر سابقہ طریقہ پیچھے ہٹتا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ارتقاء کا وہ منطقی سلسلہ ہے جس میں زیادہ مؤثر ذریعہ کم مؤثر کو جگہ چھوڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جیسے جب بجلی کا چراغ روشن ہوا تو تیل کے چراغ کی روشنی محض یاد بن کر رہ گئی۔ یہ کسی کی ناکامی نہیں تھی، بلکہ نئے امکان کی برتری تھی۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن کے آغاز ہی میں فرمایا گیا:جس راہ ِہدایت کے تم طلبگار ہو وہ یہی کتاب ہے

زمانہ بدلتا ہے تو اس کے ساتھ اسباب بھی بدل جاتے ہیں۔ کبھی گھوڑا انسان کی قوت اور رفتار کی علامت تھا، بیل گاڑی دیہی زندگی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں تھا، بلکہ صبر، محنت اور تدریج کا تجربہ تھا۔ پھر ان کی جگہ برق رفتار اور آرام دہ گاڑیوں نے لے لی۔ اب نہ گرد اڑتی ہے، نہ سفر میں دن لگتے ہیں، نہ منزل ایک خواب محسوس ہوتی ہے۔

مادی اشیاء کی قدر ان کی افادیت سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب افادیت کم ہو جائے تو اہمیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ جیسے کوئی اوزار جب تک کام دے، قیمتی ہے؛ جیسے ہی اس سے بہتر اوزار آ جائے، وہ پرانا اوزار غیر ضروری محسوس ہونے لگتا ہے۔ گویا دنیا کی مادی ساخت ضرورت کے تابع ہے، اور ضرورت بدلتی رہے تو چیزیں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن کیا ہر چیز اسی پیمانے سے ناپی جا سکتی ہے؟ کیا ہر قدر کو محض افادیت کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی

یہاں آ کر منظر بدل جاتا ہے۔ صدیوں کی تبدیلیوں، تہذیبوں کے عروج و زوال، ٹیکنالوجی کی حیران کن ترقی اور انسانی ترجیحات کی بے شمار تبدیلیوں کے باوجود رمضان المبارک آج بھی اسی شان سے جلوہ افروز ہوتا ہے جس شان سے اپنی فرضیت کے وقت ہوا تھا۔ نہ اس کے دن کم ہوئے، نہ اس کے ثواب میں کمی آئی، نہ اس کی فضیلت میں کوئی فرق پڑا۔ دنیا کی معیشتیں بدل گئیں، سیاسی نقشے بدل گئے، زندگی کے انداز بدل گئے، مگر رمضان کا وقار نہ گھٹا، نہ اس کی تاثیر مدھم ہوئی۔ ہر سال وہ اسی اعتماد کے ساتھ آتا ہے اور دلوں کو اسی طرح جھنجھوڑ دیتا ہے جیسے پہلی بار آیا تھا۔جب یہ حقیقت واضح ہو چکی کہ رمضان آج بھی اپنی اصل شان کے ساتھ قائم ہے، نہ اس کے اجر میں کمی آئی، نہ اس کی فضیلت میں فرق پڑا، تو سوال ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر مہینہ وہی ہے تو کیا ہمارا استقبال بھی ویسا ہی ہے؟ اگر برکتیں آج بھی اسی فیاضی سے اترتی ہیں تو کیا ہمارے دل بھی اسی کشادگی سے انہیں قبول کرتے ہیں؟ 

رمضان کا استقبال صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہیں، بلکہ ارادے کی تبدیلی ہے۔ جب کوئی معزز مہمان آتا ہے تو گھر کے معمولات بدل دیے جاتے ہیں، صفائی کی جاتی ہے، اوقات ترتیب دیے جاتے ہیں، توجہ بٹانے والی چیزیں کم کر دی جاتی ہیں۔ اگر ایک فانی انسان کی آمد ہمیں اپنے نظام میں تبدیلی پر آمادہ کر دیتی ہے تو وہ مہینہ جو رحمت، مغفرت اور نجات کا پیغام لاتا ہے، کیا وہ ہمارے معمولات میں کوئی انقلاب نہیں چاہتا؟ کیوں نہ ہم اپنے کاموں میں تخفیف کریں اور عبادات میں اضافہ کریں؟ یہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ وقت محدود ہے، اور ترجیح ہی انسان کی اصل پہچان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حضورﷺ نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے

عبادت کا مطلب صرف ظاہری اعمال کی کثرت نہیں بلکہ باطن کی اصلاح بھی ہے۔ اگر ہم دن بھر روزہ رکھیں مگر زبان بے قابو رہے، اگر ہم رات کو قیام کریں مگر دل میں کینہ باقی رہے، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پیاسا پانی کے کنارے کھڑا رہے مگر پیئے نہیں۔ حقوق اللہ کی ادائیگی یقیناً بنیاد ہے، مگر حقوق العباد اس بنیاد کی حفاظت ہیں۔ جو شخص خدا کے سامنے جھکتا ہے مگر بندوں کے ساتھ سختی کرتا ہے، اس کی بندگی میں توازن باقی نہیں رہتا۔ رمضان ہمیں یہی توازن سکھاتا ہے کہ سجدہ کے ساتھ خدمت بھی ہو، اور ذکر کے ساتھ خیر خواہی بھی ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK