اس ہفتے جنتر منتر پر طلبہ کے تاریخی احتجاج، تعلیمی اداروں سے متعلق حکومتی فیصلوں اور طلبہ کی صحت سے وابستہ اقدامات نے نہ صرف عوامی توجہ حاصل کی بلکہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں بھی نمایاں جگہ پائی۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 8:54 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
اس ہفتے جنتر منتر پر طلبہ کے تاریخی احتجاج، تعلیمی اداروں سے متعلق حکومتی فیصلوں اور طلبہ کی صحت سے وابستہ اقدامات نے نہ صرف عوامی توجہ حاصل کی بلکہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں بھی نمایاں جگہ پائی۔
اس ہفتے جنتر منتر پر طلبہ کے تاریخی احتجاج، تعلیمی اداروں سے متعلق حکومتی فیصلوں اور طلبہ کی صحت سے وابستہ اقدامات نے نہ صرف عوامی توجہ حاصل کی بلکہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں بھی نمایاں جگہ پائی۔ اخبارات نے جہاں جنتر منتر کے احتجاج کے دوران محمد جنید کی جانب سے پیش کی گئی بھائی چارے، ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کی مثال کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا وہیں جسٹس اجل بھوئیاں کے حالیہ تبصرے کو ان کی بے باکی اور آئینی اصولوں سے وابستگی کا مظہر قرار دیا۔ اسی طرح اتر پردیش حکومت کی جانب سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کو غیرقانونی قرار دینے کے اقدام پر متعدد اخبارات نے اسے تعصب پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی جبکہ اسکولوں کے احاطوں میں جنک فوڈ اور کولڈ ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کے فیصلے کو طلبہ کی صحت کے تحفظ کی جانب ایک مثبت اور قابلِ ستائش قدم قرار دے کر اس کا خیرمقدم کیا۔
جنید کو آج سرکار کی نظر میں مجرم بنا دیا گیا ہے
سامنا( مراٹھی،۲۸؍جولائی)
’’دیار ہند میں جنتر منتر کا تاریخی میدان ایک بار پھر آمریت اور عوامی جدوجہد کا مرکز بنا اور بالاخر یہ معرکہ فی الوقت اپنے اختتام کو پہنچا۔مرکزی حکومت کے آئی ٹی سیل اور حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کے اس احتجاج کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرکے ایسا تاثر قائم کرنے کی سعی کی گئی گویا ان پُرعزم نوجوانوں نے کوئی سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہو جس کی معافی ممکن نہیںلیکن سچائی یہ ہے کہ جنتر منتر پر اٹھنے والی صدا محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ملک کے بیدار مغز نوجوانوں کے جذبے اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ تھی۔اس پُرخلوص تحرک کے پسِ پردہ محمد جنید سیفی نامی ایک شخص کا اہم کردار رہا۔ وہ اس تحریک کے دوران بلا تفریق مذہب و ملت مظاہرین کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ یہی وجہ ہےاب اتر پردیش حکومت کی پولیس نے جنید اور ان کے اہل خانہ کو بے جا ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔تمام تر انتظامی رکاوٹوں کے باوجود جنید اور ان کے ساتھیوں نے تحریک کے آخری لمحے تک اپنی خدمات جاری رکھیں۔ جنتر منتر پر موجود ہر طالب علم اور کارکن ان کا ممنون رہے گا۔جنید نے یہ سب کسی سیاسی مفاد کیلئے نہیں بلکہ محض انسانیت کے ناطے کیا۔ ملک کے طول و عرض سے آنے والے بے لوث نوجوانوں میں سے کسی کے پاس محض بیس روپے تھے تو کوئی ننگے پاؤں اور بھوکے پیٹ ہی اس جدوجہد میں شامل ہونے چلا آیا تھا۔ ان تمام مظلوموں کو کھانا کھلانے والے جنید کو آج سرکار کی نظر میں مجرم بنا دیا گیا ہے۔ پولیس اب ان کے معصوم بچوں، والدین، بہنوں اوررشتہ داروں کو ہراساں کر رہی ہے۔اچانک گھروں پر چھاپے مار کر اہل خانہ کو تھانوں میں لے جایا جاتا ہے اور ۱۲-۱۲ گھنٹے بٹھا کر تفتیش کے نام پر ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جنید سے مظاہرین کو کھلائے گئے ایک ایک’دانے‘ کا حساب مانگا جا رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے تعلیمی بدعنوانی، پیپر لیک اور طلبہ کے احتجاج پر لکھا
تاریکی میں امید کی ایک روشن شمع کا فیصلہ ہے
دی فری پریس جنرل( انگریزی، ۲۸؍جولائی )
’’پچھلے کچھ عرصے سے سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھوئیاں کے تقاریر اور مختلف فورم پر دیئے گئے بیانات نے قانونی و صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے قانون، انصاف اور اقتدار کے ایوانوں سے جڑے ان نازک موضوعات پر بے باکی کے ساتھ قلم اور زبان اٹھائی ہے جن پر عام طور پر خاموشی سادھ لی جاتی ہے۔ ملک میں آزادی اظہار اور اختلاف رائے کو دبانے کا سلسلہ ہوں یا عدالتوں کے متضاد فیصلے ہوں یا پھر ملزمین کو ضمانت دینے سے گریز کی پالیسی، جسٹس بھوئیاں نے تمام تلخ حقائق کو بلا خوف و خطر طشت از بام کیا ہے۔دراصل وہ اس عمومی تاثر سے شدید پریشان ہیں کہ ملک کا عدالتی نظام مبینہ طور پر خوش دلی کے ساتھ حاکمِ وقت کے اثر و رسوخ کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔ نتائج کے طور پر سامنے آنے والے کئی فیصلے قانون کے مسلمہ اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق کے یکسر منافی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جسٹس بھوئیاں کا یہ مؤقف تاریکی میں امید کی ایک روشن شمع کا حکم رکھتا ہے۔پچھلے دنوں بنارس میں دریائے گنگا پر کشتی رانی کے دوران چکن بریانی کھانے پر کچھ مسلمان شہریوں کی گرفتاری پر ان کا ردِعمل عدالتی انصاف کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ چکن بریانی کھانا کوئی قانوناً جرم نہیں ہے اور نہ ہی ندی کے پانی پر کسی قسم کی غذائی پابندی عائد ہے۔ایسے مقدمات نہ صرف وقت کا ضیاع ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ فوجداری قوانین کا بے دریغ اور بے جا استعمال ہو رہا ہے۔گزشتہ ایک دہائی میں ہونے والے کئی متنازع فیصلوں نے قانونی ماہرین کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ عدلیہ نے اپنا اخلاقی وقار اور بے باکی گنو ادی ہے۔عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ عدلیہ، انتظامیہ ہی کی ایک ذیلی شاخ بن کر رہ گئی ہے۔‘‘
جوہر یونیورسٹی کیخلاف کارروائی سیاسی رقابت کا نتیجہ
دی انڈین ایکسپریس(انگریزی، ۲۹؍جولائی)
’’ اترپردیش کے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو مسمار کرنے کے حالیہ انتظامی حکمنامے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔اس یونیورسٹی کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ کے سربراہ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان ہیں۔ ضلع انتظامیہ، محکمہ انکم ٹیکس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اراضی کے حصول اور اجازت ناموں میں مبینہ بے قاعدگیوں کو بنیاد بنا کر اس تعلیمی ادارے کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔اس مجوزہ انہدامی کارروائی کے خلاف طلبہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی ان کی ہمنوا بن چکی ہیں۔ اپوزیشن کا یہ الزام بے جا نہیں معلوم ہوتا کہ برسرِ اقتدار بی جے پی حکومت انتقامی سیاست کے تحت اس یونیورسٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ گو کہ پیر کو مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر کی جانب سے انہدامی کے عمل پر جاری کردہ امتناعی حکم نے فی الحال ایک خوش آئند راحت فراہم کی ہے تاہم یہ واقعہ اس گہری ادارہ جاتی اور سیاسی خرابی کی محض ایک علامت ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ہندوستان کا تعلیمی شعبہ اس وقت معیار اور مقدار دونوں کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ ملک کے ۱۴ فیصد سے بھی کم تعلیمی اداروں کو ’نیک‘ کی منظوری حاصل ہے جبکہ ہمارا نصاب اس قدر فرسودہ ہو چکا ہے کہ وہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں سے قطعی ہم آہنگ نہیں ہے۔دوسری جانب ملک میں اعلیٰ تعلیم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تنِ تنہا سرکاریں اس خلیج کو پاٹنے سے قاصر ہیں تاہم نجی اداروں کی شمولیت کی راہ میں حائل ریگولیٹری رکاوٹیں اس قدر کٹھن ہیں کہ کوئی بھی یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے سیاسی سرپرستی ایک لازمی شرط ہے۔ یوپی انتظامیہ کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کیا وہ واقعی ضوابط اور قانون کی پاسداری کر رہی ہے یا محض سیاسی مقاصد کی تکمیل کا آلہ کار بنی ہوئی ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: وانگچک، ایس آئی آر اور امریکہ۔ ایران تنازع اس ہفتے اخبارات کی توجہ کا مرکز رہے
لوک مت سماچار( ہندی، ۳۱؍جولائی)
’’اسکولوں کے پاس جنک فوڈ اور ڈرنک کی فروخت روکنے کیلئے ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے نے جو حکم دیا ہے فطری طور پر اس کی بہت تعریف ہو رہی ہے۔ اسکول کے بچوں کو جنک فوڈ سے لے کر نشے کی ہر شکل سے بچانا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد کتنی شفافیت اور سختی سے ہو پائے گا۔ یہ قانون کوئی نیا نہیں ہے۔ قانون پہلے سے ہے۔ سوال تو عمل درآمد کا ہے۔ پان کی دکان اور تمباکو کی مصنوعات کو لے کر حکومت نے سال ۲۰۰۳ء میں سگریٹ اینڈ ادر پروڈکٹ ایکٹ لاگو کیا تھا۔ اس قانون کے تحت کسی بھی اسکول، کالج یا دیگر تعلیمی ادارے کے ۱۰۰؍ گز کے دائرے میں پان کی دکان نہیں ہوگی، تمباکو، بیڑی، سگریٹ، گٹکھا بیچنا مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کتنی ایمانداری سے اس قانون کی پاسداری ہو رہی ہے؟ اسکول اور کالج کے آس پاس دھڑلے سے پان کی دکانیں چل رہی ہیں۔ جہاں تک جنک فوڈ کا سوال ہے تو اس کے لیے بھی پرانا قانون موجود ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھارٹی آف انڈیا نے ۲۰۲۰ ءمیں ہی یہ قانون لاگو کر دیا تھا کہ اسکول کے احاطے کے اندر یا ۵۰؍ میٹر کے دائرے میں جنک فوڈ کی فروخت اور اشتہار پر مکمل پابندی رہے گی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے اسکولوں کے پاس تو یہ تمام چیزیں ملتی ہی ہیں، کالج کی کینٹین میں بھی یہ چیزیں موجود رہتی ہیں۔ ‘‘