Inquilab Logo Happiest Places to Work

اصل فتح اپنی انا کو شکست دینا ہے

Updated: May 01, 2026, 4:45 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

انسان کی باطنی ساخت میں کچھ قوتیں ایسی ہیں جو اسے حرکت دیتی ہیں، اور کچھ ایسی جو اسے کھینچتی ہیں۔ خواہش اور انا ان ہی میں سے دو بنیادی محرکات ہیں۔ خواہش، وقت اور تجربے کے ساتھ کسی حد تک مہذب ہو جاتی ہے؛ اسے حدود میں لانا ممکن ہے، کیونکہ وہ خارجی اسباب سے متاثر ہو کر ڈھلتی رہتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

انسان کی باطنی ساخت میں کچھ قوتیں ایسی ہیں جو اسے حرکت دیتی ہیں، اور کچھ ایسی جو اسے کھینچتی ہیں۔ خواہش اور انا ان ہی میں سے دو بنیادی محرکات ہیں۔ خواہش، وقت اور تجربے کے ساتھ کسی حد تک مہذب ہو جاتی ہے؛ اسے حدود میں لانا ممکن ہے، کیونکہ وہ خارجی اسباب سے متاثر ہو کر ڈھلتی رہتی ہے۔ مگر انا ایک ایسا جذبہ ہے جو اپنے وجود کو مرکز مانتا ہے اور ہر چیز کو اپنے گرد گھمانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں خواہش تربیت سے نرم پڑ جاتی ہے، وہاں انا اکثر مزاحمت کرتی ہے اور انسان کے اندر ایک خاموش کشاکش کو جنم دیتی ہے۔
یہ کشاکش اس وقت اور نمایاں ہو جاتی ہے جب انسان سماجی زندگی کے پیچیدہ دائروں میں داخل ہوتا ہے، اور خاص طور پر اس دنیا میں جہاں الفاظ تیز، ردِ عمل فوری، اور فیصلے جذبات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی فضا میں معمولی اختلاف بھی ایک معرکہ بن جاتا ہے، اور انسان خود کو ہر لمحہ اپنے موقف کے دفاع میں کھڑا پاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں ہوتا، بلکہ اس احساس کا ہوتا ہے کہ اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو میری اہمیت کم ہو جائے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انا انسان کو ایک ایسے دائرے میں قید کر دیتی ہے، جہاں جیتنے کے باوجود سکون ہاتھ نہیں آتا۔اس کیفیت کا اثر صرف ظاہری رویّوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ انسان کے باطن میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔ جب دل ہر وقت مقابلے اور ردِ عمل کی کیفیت میں ہو تو اس میں سکون کیسے اترے؟ عبادت، جو اصل میں قلبی اطمینان کا ذریعہ ہوتی ہے، ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ دعا، جو انسان کو اپنے رب کے قریب لاتی ہے، ایک بے روح تکرار محسوس ہونے لگتی ہے۔ یوں انسان بظاہر مصروف اور فعال دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے منتشر اور بے چین ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کرۂ ارض کا قلب اور سارے فیوض و برکات کا مرکز، یہی الکعبہ ہے

یہاں ایک سادہ سی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے: ہر اختلاف کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا اور ہر معرکے میں اترنا دانشمندی نہیں ہوتا۔ اگر سامنے والا شخص ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہو، تو اس کے ساتھ الجھنا ایسا ہی ہے جیسے آگ کو ہوا دینا۔ وقتی طور پر یہ عمل تسکین دے سکتا ہے، مگر اس کا انجام مزید اضطراب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، ایک قدم پیچھے ہٹ جانا بظاہر کمزوری لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی باطنی قوت کو پہچانتا ہے۔بچاؤ کی یہ پالیسی فرار نہیں، بلکہ شعور کی علامت ہے۔ یہ اس ادراک سے جنم لیتی ہے کہ انسان کی اصل ضرورت ہر بحث جیتنا نہیں، بلکہ اپنے اندر کے سکون کو بچانا ہے۔ جب انسان یہ ترجیح طے کر لیتا ہے تو اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں، اس کا لہجہ نرم ہو جاتا ہے، اور اس کی زندگی میں ایک ایسا توازن پیدا ہوتا ہے جو نہ صرف اسے خود مطمئن کرتا ہے بلکہ اس کے گرد و پیش کو بھی ایک خاموش اثر سے بدل دیتا ہے۔ یہی وہ سکون ہے جو انسان کی سب سے بنیادی ضرورت ہے اور جس کے بغیر ہر کامیابی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔
بالآخر انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ کتنے معرکے جیتتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کے شور کو کس حد تک خاموش کر پاتا ہے۔ جو شخص ہر اشتعال کے جواب میں خود کو پیش کر دیتا ہے، وہ دراصل دوسروں کے اختیار میں جیتا ہے؛ اور جو اپنے ردِ عمل پر قابو پا لیتا ہے، وہ اپنی باطنی دنیا کا مالک بن جاتا ہے۔ یہی اختیار اسے یہ سکھاتا ہے کہ ہر آواز کا جواب دینا ضروری نہیں، اور ہر اختلاف کو انجام تک پہنچانا عقل مندی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے ماحول فراہم کیجئے

 حقیقی وقار یہ ہے…
حقیقی وقار اس میں نہیں کہ انسان ہر بات منوا لے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی جگہ محفوظ رکھے جہاں سکون بستا ہو، جہاں سے اس کے فیصلے جنم لیں، نہ کہ وقتی اشتعال سے۔ جب یہ شعور بیدار ہو جاتا ہے تو انسان کی زندگی میں ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔  یہی وہ مقام ہے جہاں وہ باہر کی دنیا سے نہیں اپنے اندر کی بے ترتیبی سے جیت جاتا ہے ایک ایسی جیت جو دکھائی نہیں دیتی، مگر پورے وجود کو بدل دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK