Updated: November 05, 2026, 10:02 PM IST
| London
برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کی زندگی، کامیابیوں، ثقافت اور مسائل کو مرکزی دھارے کے میڈیا میں جگہ دینے والا ڈجیٹل نیوز پلیٹ فارم ’ہائفن‘ مالی معاونت ختم ہونے کے باعث بند ہونے جارہا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں شروع ہونے والے اس ادارے کا آخری سالانہ فیسٹیول ۴؍نومبر کو ویسٹ منسٹر میں منعقد ہوا، جس میں رکن پارلیمنٹ ناز شاہ، پیرا پاور لفٹر دعا شایعہ اور ٹی وی و ریڈیو شخصیت بگ زُو سمیت سیاست، کھیل اور تفریح کی دنیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات شریک ہوئیں۔
فیسٹیول کا منظر۔ تصویر: ایکس
مسلمانوں کی کہانیاں صرف دہشت گردی، انتہا پسندی، امیگریشن اور مذہبی تنازعات تک محدود نہیں ہوتیں؛ ان کی زندگیوں میں فن، ادب، کھیل، کاروبار، تعلیم، ثقافت، کامیابیاں اور روزمرہ کے بے شمار انسانی تجربات بھی شامل ہیں۔ برطانیہ میں قائم ڈجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ’ہائفن‘ (Hyphen) نے گزشتہ ۴؍ برس کے دوران اسی وسیع تر تصویر کو سامنے لانے کی کوشش کی، لیکن اب یہ ادارہ اپنے سفر کے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے متحدہ عرب امارات میں قائم مالی معاون ادارے نے ۲۰۲۷ء سے فنڈنگ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد تقریباً ۱۸؍ صحافیوں اور مستقل معاونین کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ اس ادارے کا سالانہ ’ہائفن فیسٹیول‘ ۴؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو لندن کے ویسٹ منسٹر میں منعقد ہوا۔ یہ اس پلیٹ فارم کا دوسرا سالانہ فیسٹیول تھا، جس میں برطانوی عوامی زندگی اور ثقافت میں مسلمانوں کی خدمات اور کردار کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر سیاست، کھیل، فنون اور تفریح سے تعلق رکھنے والی کئی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ پاکستان نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ، ریپر اور ٹیلی ویژن شخصیت بگ زُو (Big Zuu) اور پیرا پاور لفٹر دعا شایعہ (Doaa Shayea) ان نمایاں مہمانوں میں شامل تھے۔ ان شخصیات کے انٹرویوز اور مختلف موضوعات پر گفتگو کو ہائفن کے یوٹیوب چینل کے ذریعے براہِ راست نشر کرنے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نائب صدر ٹرمپ کے ناراض حامیوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کے خواہاں: رپورٹ
فیسٹیول میں صرف معروف شخصیات کے انٹرویوز ہی نہیں ہوئے بلکہ برطانوی مسلم کمیونٹی کو درپیش اہم مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ ایک پینل میں حکومت کے انسدادِ انتہا پسندی پروگرام ’پریونٹ‘ (Prevent) کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میں پریونٹ واچ کی ڈائریکٹر لیلیٰ ایتلہدج اور سابق عبوری آزاد پریونٹ کمشنر ڈیوڈ اینڈرسن شریک ہوئے۔ بحث میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے سرکاری پروگرام کس طرح کام کررہا ہے اور اس کے طریقۂ کار میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے پینل میں انگریزی زبان کی تعلیم، خصوصاً ان افراد کے لیے انگریزی کی تدریس پر بات ہوئی جن کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔ اس موضوع کو برطانوی معیشت، روزگار اور سماجی شمولیت سے جوڑا گیا۔ اس گفتگو میں لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی، تھنک ٹینک برٹش فیوچر کے ڈائریکٹر سندر کٹوالا اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ دیگر افراد نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پیش کار نائہا احمد، سوشل میڈیا شخصیت شہباز علی، اداکار ایان شودیرو اور کاسٹنگ ڈائریکٹر شاہین بیگ نے اس بات پر گفتگو کی کہ ذاتی تجربات اور مختلف ثقافتی پس منظر کس طرح نئے اور اہم قصوں کو سامنے لانے میں مدد دیتے ہیں۔
فیسٹیول کے دوران ناز شاہ کا انٹرویو صحافی سمن جاوید نے کیا، جبکہ بگ زُو سے عائشہ ریمی نے گفتگو کی۔ پیرا پاور لفٹر دعا شایعہ کا انٹرویو ویرونیکا اسٹرزینسکا نے لیا۔ اس موقع پر حج کے موضوع پر ایک نئی سفری دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس کے بعد فلم ساز عبدالقادر ہرکاسی اور ہائفن کے مینیجنگ ایڈیٹر مارس البروگی کے درمیان سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا۔ ہائفن کی اہمیت اس کے فیسٹیول یا معروف شخصیات کے انٹرویوز تک محدود نہیں رہی۔ اس پلیٹ فارم نے برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی زندگی پر رپورٹنگ کی۔ اس کی خبروں میں مساجد کی حفاظت، اسلاموفوبیا، امیگریشن، تعلیم، روزگار اور مسلمانوں کو درپیش امتیازی سلوک جیسے موضوعات شامل رہے، لیکن اس نے مسلمانوں کو صرف مسائل اور تنازعات کے تناظر میں پیش کرنے کے بجائے ان کی کامیابیوں، فنون، کھانے، فیشن، کھیل، خاندانی زندگی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی نمایاں کیا۔ ادارے کا مقصد مسلم اور غیر مسلم قارئین کے درمیان ایسا مکالمہ قائم کرنا تھا جس میں مختلف تجربات اور خیالات کو جگہ مل سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند نژاد نتھیا رمن لاس اینجلس کی میئر منتخب، ۵۱؍ فیصد حاصل کئے
اس کی تحقیقاتی صحافت نے بھی بعض اہم معاملات کو عوامی بحث کا موضوع بنایا۔ ہائفن کی رپورٹنگ کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے مساجد کی حفاظت کے لیے ہوم آفس کی اسکیم کا جائزہ لینے اور اس سے متعلق شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کیا۔ اس کے علاوہ حلال سرمایہ کاری کے نام سے پیش کیے جانے والے فنڈز کی جانب سے امریکی ڈیٹا اینالسس کمپنی پالنٹیر میں سرمایہ کاری کے معاملے پر بھی اس پلیٹ فارم نے رپورٹ شائع کی، جس کے بعد متعلقہ مالیاتی ادارے نے جائزے کا اعلان کیا۔ ۲۰۲۵ء میں اس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ برٹش جرنلزم ایوارڈز کی مختصر فہرست میں بھی شامل ہوئی تھی۔ ہائفن کا آغاز ۲۰۲۲ء میں ہوا تھا۔ اس کی ملکیت لنک میڈیا کارپوریشن (Link Media Corporation) کے پاس ہے، جو ’عربین گلف بزنس انسائٹ‘ نامی کاروباری نیوز پلیٹ فارم بھی چلاتی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارٹن نیولینڈ نے تصدیق کی کہ ادارے کی متحدہ عرب امارات میں قائم پیرنٹ کمپنی نے ۲۰۲۷ء سے ہائفن کی مالی معاونت بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مشکل معاشی حالات میں ادارے کی اسٹریٹجک ترجیحات میں تبدیلی کے باعث کیا گیا ہے۔ لنک میڈیا نے عملے کو ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے سے متعلق مشاورت کے عمل سے آگاہ کیا ہے۔ تاہم پلیٹ فارم کی بندش کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا اور اس دوران اس کی ویب سائٹ پر مواد کی اشاعت جاری رہی۔
نیوز ویب سائٹ کے لیے مالی معاونت ختم ہونے کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ڈجیٹل میڈیا کے ادارے اشتہارات، قارئین کی توجہ اور آن لائن آمدنی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ہائفن کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت ختم ہونا فوری سبب ہے، لیکن اس کے مستقبل کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹوں نے خصوصی موضوعات پر کام کرنے والے صحافتی اداروں کی معاشی پائیداری پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ادارے کی بندش سے متعلق خبر کے مطابق تقریباً ۱۸؍ صحافیوں اور معاونین کی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ لنک میڈیا کے چیف ایگزیکٹو مارٹن نیولینڈ نے کہا کہ ہائفن کا آغاز برطانیہ اور یورپ میں مسلم کمیونٹیز کے انضمام سے متعلق سماجی، معاشی اور ثقافتی مسائل اور مواقع کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ادارے نے اپنے مختصر سفر میں ایوارڈز حاصل کیے اور معاشرے کے مختلف حلقوں میں اس موضوع پر ہونے والی گفتگو کا حصہ بنا۔ انہوں نے ادارے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور لگن کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وسط مدتی انتخابات میں جین زی امیدواروں کی تاریخ ساز کامیابی
ہائفن کی بندش سے برطانوی میڈیا میں ایک ایسے پلیٹ فارم کی جگہ خالی ہوگی جس نے مسلم زندگی کو صرف مذہبی یا سیاسی تنازعات کے بجائے ایک مکمل سماجی اور ثقافتی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس کا آخری فیسٹیول اسی مقصد کی یاد دہانی بن کر سامنے آیا، جہاں سیاست دانوں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور میڈیا شخصیات نے مسلم معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ادارے کے بعد برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کی ایسی متنوع کہانیوں کو مستقل اور مؤثر انداز میں کون جگہ دے گا۔