اس لئے کہ صحابہؓ سرکار رسالتماب ؐ کے اولین ماننے والے اور آپؐ سے اولین محبت کرنے والے تھےاور وہی اس پہلو سے امت کے لئے نمونۂ ہدایت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 3:37 PM IST | Dr. Mohammad Khalid Aarbi | Mumbai
اس لئے کہ صحابہؓ سرکار رسالتماب ؐ کے اولین ماننے والے اور آپؐ سے اولین محبت کرنے والے تھےاور وہی اس پہلو سے امت کے لئے نمونۂ ہدایت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خاکسار ابھی ہائی اسکول ہی میں تھا کہ جب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانِ ذیشان سناکہ ’’تم میں سے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ،جب تک کہ میں (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم)اُسے اُس کے والدین،آل اولاد اور دُنیا جہان سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔‘‘اُس کچی عمر میں ہی ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ محبت ِ رسولؐ کیا ہے ؟اس کا طریقہ کیا ہے؟اس کے تقاضے کیا ہیں؟ وہ دن اور آج کا دن،زندگی گزر چلی اور یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے۔ یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آیا ہم سے محبت ِ رسولؐ کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔کیا صرف آپؐ کی نعتیں پڑھنا،تعریفیں کرنا اور آپؐ سے عشق کے دعوے کرنا،محبت ہے یا آپ ؐ کے احکامات و فرامین کو تسلیم کرنا اور آپؐ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کرنا آپؐ سے محبت ہے؟ اسلئے کہ حضورؐ کا یہ ارشاد مبارک بھی موجود ہے کہ’’ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ میری لائی ہوئی ہدایت کا اتباع نہ کرے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہر خدمت کا معاوضہ نہیں ہوتا اور ہر نیکی کا فائدہ فوراً نظر نہیں آتا
ہم سمجھتے ہیں کہ محبت، اطاعت سے علاحدہ ایک چیز ہے۔ یہ ایک اندرونی جذبہ اوردِل کی خاص کیفیت کا نام ہے۔ محبت کرنے والا ایک نہ ایک دن ضرور اطاعت ِ محبوب کا راستہ اختیار کرے گا لیکن اطاعت کرنے والے کے اندر، ضروری نہیں کہ مطاع (جس کی اطاعت کی جائے) کی محبت بھی موجود ہو۔ لہٰذا ان دونوں کی الگ الگ حیثیت ہے۔ اطاعت کسی حد تک یا بڑی حد تک محبت کا ایک مظہر ہے لیکن محبت کا یہ واحد مظہر قطعاً نہیں۔ اطاعت، بہر حال نظرآنے والی ایک ’مادی‘ چیز کا نام ہے جب کہ محبت ایک روحانی،قلبی اور اندرونی تعلق کا نام ہے۔ محبت کے مظاہر گونا گوں ہو سکتے ہیں۔ ان کو نہ تو ما پا جا سکتا ہے اور نہ ہی محبت کے کسی خاص مظہر کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔یہ ہر دِل ِ زندہ کا اپنا اپنا معاملہ اور ہر فرد کا اپنا اپنا پیمانہ ہے بشرطیکہ یہ پیمانے خود محبوب ہی کے کسی حکم کی خلاف ورزی کے مترادف نہ ہوں۔کسی کو کسی سے محبت کب ہوتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بہت سے جوابات ہو سکتے ہیں مگر وہ جس پر اکثر اہل علم کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ جب محب، محبوب کے کسی کمال سے متاثر ہوتا ہے یا جب وہ اس کے کسی احسانِ عظیم کے نیچے دبا ہوتا ہے۔
اس اصول سے دیکھیں تو صرف اور صرف، حضور اکرمؐ ؐہی ہماری محبتوں اور چاہتوں کا مرکز و محور بننے والی ہستی مبارک ہیں۔ آپؐ حسن و جمال میں بھی یکتا اورصفات و کمالات میں بھی اکمل ہیں، اور ہم پر ہدایت کے دروازے کھولنے والے محسن ِ اعظم بھی ہیں۔اسلئے ہمارے تمام تر دِلی جذبات، ذہنی وابستگی اور روحانی تعلق کے مرجع ومحورکی حیثیت آپؐ کی ذاتِ والا صفات کوحاصل ہے اور حاصل ہونا بھی چاہئے۔لیکن اس کا اظہار کیسے ہو؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس لئے، آیئے ! اس مشکل سوال کے جواب کیلئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاک محفل میں چلتے ہیں،جو سرکار رسالتماب ؐ کے اولین ماننے والے اور آپؐ سے اولین محبت کرنے والے تھے اور وہی اس پہلو سے امت کے لئے نمونۂ ہدایت کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: یوٹیوب کی آمدنی، شادی کی رسومات اور کھانا، زکوٰۃ کا ایک سوال
حضرت ابوایوب انصاری اور ان کی اہلیہ تمام رات کونے میں دُبکے رہے
۱۔ ہجرت کے بعد ،رسول ِ اکرم ؐ نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو شرف ِ میزبانی عطا فرمایا۔ سیدنا انصاری ؓکا مکان دو منزلہ تھا۔ حضور ؐ نے نچلی منزل میں قیام کرنا پسند فرمایا۔ حضرت ابو ایوب ؓ اوپر والی منزل پر منتقل ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلی ہی رات کو جب ہم میاں بیوی بستر پر لیٹے تو یکدم لیٹے لیٹے ہمیں خیال آیا کہ نیچے اللہ کے رسولؐ محو ِ استراحت ہیں اور ہم اوپر! یہ ہم سے کیا کوتاہی ہو گئی ہے۔ یہ خیال آتے ہی وہ اُٹھ کر بیٹھ گئے ا ور کمرے کے ایک کونے کی طرف سرک کر، ساری رات سوچتے اور جاگتے گزاردی ۔ صبح ہوئی تو حضورؐ سے عرض گزار ہوئے کہ یا رسولؐ اللہ ، یہ ہم سے نہیں ہو سکتا،کہ جس کمرے میں آپؐ تشریف فرما ہوں اس کی اوپر والی منزل میں ہم سوئیں۔ براہ کرم ،آپؐ اوپر والی منزل میں تشریف لے چلیں اور ہم نیچے قیام کریں گے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا: مجھے یہیں آرام ہے، آپ لوگ اطمینان و سکون سے اُوپر رہیں لیکن وہ مسلسل اصرار کرتے رہے اور اپنی مجبوری بیان کرتے رہے۔ حضورؐ کے بار بار سمجھانے اور تسلی دینے پر ہی وہ آ خر کار اوپر والے حصے میں رہنے پر آ مادہ ہوئے۔
یہ کیا تھا؟ محبت کا ایک لطیف مظہر ہی تو تھا۔
آپؐ کا بچا ہوا کھانا نوش فرمانا
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ اُنہی دِنوں کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ؐ کی خدمت ِ عالیہ میں ہم کھانا بنا کر پیش کرتے تھے آپؐ کوجتناکچھ تناول فرما نا ہوتا، کر لیتے،باقی کا برتن میں موجود رہتا۔ آپؐ کا بچا ہوا کھانا ہم سب گھر والے بڑے شوق سے کھاتے اور برتن میں اُس جگہ سے لینے کی کوشش کرتے جہاں پر آپؐ کی انگلیوں کے نشانات ہوتے۔
محبوب نے برتن میں جس جگہ کھانے کے لئے انگلیاں لگائی ہوں وہاں سے کھانا کوئی اللہ کا حکم تو نہیں تھا۔ یہ محبوب سے صرف محبت کا اظہار ہے۔
محبت ِ رسولؐ حضرت عروہؓ کی زبانی
سیدنا عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابھی دولت ِ ایمان سے سرفراز نہیں ہوئے تھے۔ صلح حدیبیہ کے زمانے میں وہ قریش ِ مکہ کی طرف سے سفیر بن کربارگاہ نبویؐ میں حاضر ہوئے تھے۔ واپس جاکر قریش ِ مکہ کے سامنے، عاشقان ِ مصطفیٰ کے طرزِ محبت کا جو نقشہ انہوں نے کھینچا ہے وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔
عروہ بن مسعود ثقفی کہتے ہیں:
’’میں بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں۔ ایران اور روم کے دربار دیکھے ہیں۔ ان کا کرو فر اور شان و عظمت ملاحظہ کی ہے لیکن جو عزت و احترام ،محبت و پیار اور عقیدت و وارفتگی محمد ( ﷺ) کے ساتھیوں میں، ان کے لئے دیکھی ہے، وہ کہیں نہیں ہے۔ (سیدنا ) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جب کچھ فرماتے ہیں تو لوگوں پر سکوت طاری ہوجاتا ہے۔وہ حکم دیتے ہیں تو لوگ تعمیل کے لئے دوڑ دوڑ پڑتے ہیں۔ اُن کے وضو کے پا نی سے ( برکت لینے کے لئے پانی کو) اسے نیچے نہیں گرنے دیتے۔‘‘
تعظیم میں حد ِ ادب کا حکم رسولؐ
صحابہؓ کے اس انداز محبت کی حضورؐ کی طرف سے نکیر نہ کرنا بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عشق ِ رسولؐ کے مظاہر گونا گوں ہو سکتے ہیں۔ ان پر نہ تو پابندی لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے کسی خاص طریقے تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ جو چیز دین کے اعتبار سے نقصان دہ ہو سکتی تھی، اُس کا سد ِ باب کرنے میں اور اُ س سے روک دینے میں آپؐ نے کبھی کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ مثلاً، جب ایک صاحب نے یہ اجازت چاہی کہ جس طرح ایران اور روم کے درباروں میں، بادشاہ کو سجدہ کیا جاتا ہے، ہمارا بھی جی چاہتا ہے کہ ہم بھی آپؐ کو تعظیماً سجدہ کریں ، تو آپؐ نے سختی سے اس تجویز کو رد کر دیا اور فرمایا کہ سجدہ تو صرف اللہ کو بجا ہے۔ یہ تو عبادت کا مظہر ِ اتم ہےاور عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے۔ محبت اور عبادت میں فرق کرنا لازم ہے۔
آپؐ کی جائے نماز پر نماز پڑھنا
۴۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار ( حضورؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد) مدینہ میں آیا تو عبداللہ بن سلامؓ مجھے ملے۔ کہنے لگے کہ میرے ساتھ میرے گھر چلو،میں تم کو اُس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں آنحضرت ؐ نے پیا تھا۔ اور میرے گھر میں تم اُس جگہ نماز پڑھنا جہاں حضور اکرم ؐ نے نماز پڑھی تھی۔ یہ سُن کر میں اُن کے ساتھ ہو لیا۔ (بخاری،کتاب الاعتصام) حضورؐ کے پیالے میں پینا اور آپؐ کی جائے نماز پر نماز پڑھنا کوئی حکم ِ رسولؐ نہیں بلکہ یہ محبت ِ رسولؐ ہی کا ایک انداز ہے۔
آپؐ کے موئے مبارک حاصل کرنا
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے عوام (برکت لینے کے لئے) پانی سے بھرے ہوئے اپنے اپنے برتن لے کر آ تے۔ (مسلم،کتاب الفضائل)
حضرت انسؓ ہی کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ حجام آپ کا سر مونڈ رہا تھا اور صحابہؓ آپؐ کے ارد گرد گھوم رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ آپؐ کا کوئی بال بھی زمین پر گرنے کی بجائے ان کے ہاتھ میں گرے۔ (مسلم،کتاب الفضائل)
یہ بھی پڑھئے: جو لوگ وقت ضائع کرتے ہیں، وقت اُنہیں ضائع کر دیتا ہے
ہم کیا کریں؟
ہم جو چودہ سو سال کی دُوری پر ہیں، ہم حضورسے اظہار ِ محبت کیسے کریں؟ بلاشبہ آپؐ کے فرامین اور آپؐ کی احادیث اور آپؐ کا لایا ہوا نظام ِ حیات موجود ہے۔ آپ ؐکی باتوں پر عمل تو کرنا ہی ہے، آپ کی اتباع سے تو انکار ہے ہی نہیں لیکن آپؐ سے شخصی اور ذاتی محبت اور لگاؤ کا اظہار کیسے کریں؟ تمام تر بحث سے ہٹ کر، میرا تواس دیہاتی کی ادا پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے جسے میں نے حضور ؐکے نام ِ نامی اسم گرامی کے آنے پر عقیدت و وارفتگی سے اپنے ہی ہاتھوں کے انگوٹھوں کو چومتے دیکھا تھا۔اور وہ کر ہی کیا سکتا تھا !!نہ تو وہ شاعر تھا کہ اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرتا نہ تو وہ خطیب تھا کہ اپنی زبان کی ساحری سے ذکر ِ حبیب کرتا اور نہ ہی وہ ادیب تھا کہ زبان و ادب کے موتی بارگاہ ِ مصطفیٰ میں لٹاتا۔ وہ توجو کچھ کر گیا سو کر گیا۔ میں کیا کروں کہ میں ان پڑھ دیہاتی بھی تو نہیں!
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ، ’’ایک دِن میں آپؐ کی معیت میں مسجد سے باہر نکل رہا تھا کہ ہم نے مسجد کی چوکھٹ پر ایک آدمی کو بیٹھے دیکھا۔(آپؐ کو دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور) حضورؐ سے عرض کیا: یارسولؐ اللہ ،قیامت کب آ ئے گی؟ آپؐ نے استفسار فرما یا:تم نے اُس کی کیا تیاری کی ہے؟ اس پر وہ آدمی کچھ خاموش سا ہو گیا۔ پھر اُس نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ ! اس کی کیا تیاری ہو سکتی ہے، جونہ تو زیادہ (نفل) نمازیں رکھتا ہو، نہ ہی زیادہ (نفل ) روزے پاس ہیں اور نہ ہی کوئی صدقات و خیرات کا ذخیرہ ہے ، ہاں، حضورؐ ! البتہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی محبت ضرور سرمایہ حیات ہے۔
رسول ِ رحمتؐ نے ارشاد فرما یا :’’ تم کو جس سے محبت ہوگی،تم اُس کے ساتھ رہو گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے آپؐ آگے بڑھ گئے۔
سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ہم کو نبی ؐ کے اس ارشاد سے بڑھ کر اور کسی چیز سے خوشی نہیں ہوئی کہ تم اُس کے ساتھ ہوگے جس سے تم کو محبت ہوگی۔ (مسلم،کتاب البر والصلۃ والادب) لاکھوں سلام آپؐ پر ، کروڑوں درود آپؐ پر۔