• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیوایس ایشیاءرینکنگز ۲۰۲۷ء: ۷۱ فیصد ہندوستانی ادارےتنزلی کا شکار؛ کمزور ساکھ، محدود رسائی اہم وجوہات

Updated: November 05, 2026, 3:46 PM IST | New Delhi

رینکنگز میں شامل ہندوستان کی تمام ۶ سرفہرست یونیورسٹیوں نے اپنا مقام گنوایا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی اب بھی بہترین پوزیشن پر موجود ہندوستانی ادارہ ہے، لیکن یہ ۵۹ ویں مقام سے گر کر ۶۶ ویں مقام پر آ گیا ہے۔ کچھ ہندوستانی اداروں نے بہتری دکھائی ہے۔ چندی گڑھ یونیورسٹی کچھ مقام کی بہتری کے ساتھ ۱۰۴ ویں نمبر پر آ گئی ہے جو اب تک اس کی بہترین رینکنگ ہے۔ لولی پروفیشنل یونیورسٹی ۱۸۷ ویں سے چھلانگ لگا کر ۱۵۴ ویں درجے پر پہنچ گئی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز: ایشیاء ۲۰۲۷ء‘ میں شامل ۱۰ میں سے ۷ ہندوستانی یونیورسٹیاں تنزلی مقام کا شکار ہو گئی ہیں۔ اب کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز: ایشیاء میں شامل ہندوستانی تعلیمی اداروں کی تعداد ۳۲۵ ہو چکی ہے۔ سب سے زیادہ یونیورسٹیوں کے ساتھ چین پہلے نمبر پر ہے۔ کیو ایس کے مطابق، ۷۱ فیصد ہندوستانی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں کمی واقع ہوئی، صرف ۱۸ فیصد نے ترقی کی اور ۱۱ فیصد اپنی سابقہ پوزیشن پر برقرار رہیں۔

رینکنگز میں شامل ہندوستان کی تمام ۶ سرفہرست یونیورسٹیوں نے اپنا مقام گنوایا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی اب بھی بہترین پوزیشن پر موجود ہندوستانی ادارہ ہے، لیکن یہ ۵۹ ویں مقام سے گر کر ۶۶ ویں مقام پر آ گیا ہے۔ آئی آئی ایس سی بنگلور ۶۴ ویں مقام سے ۷۹ ویں مقام پر، آئی آئی ٹی بمبئی ۷۱ ویں مقام سے ۸۳ ویں مقام اور آئی آئی ٹی مدراس ۷۰ ویں سے ۸۵ ویں درجے پر چلا گیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی ۹۵ ویں سے ۱۰۶ ویں درجے پر پہنچ گئی اور اس طرح سرفہرست ۱۰۰ اداروں سے باہر ہو گئی۔ سرفہرست ۲۰۰ اداروں میں آئی آئی ٹی کانپور اور یو پی ای ایس میں سے ہر ایک کی درجہ بندی میں ۲۰ درجے کی کمی ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: سرکاری کے ساتھ اب پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ بھی مردم شماری کریں گے

کچھ ہندوستانی اداروں نے بہتری دکھائی ہے۔ چندی گڑھ یونیورسٹی کچھ مقام کی بہتری کے ساتھ ۱۰۴ ویں نمبر پر آ گئی ہے جو اب تک اس کی بہترین رینکنگ ہے۔ لولی پروفیشنل یونیورسٹی ۱۸۷ ویں سے چھلانگ لگا کر ۱۵۴ ویں درجے پر پہنچ گئی۔ آئی آئی ٹی حیدرآباد ۲۵۱ ویں اور آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) وارانسی ۲۱۹ ویں نمبر پر آ گئی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی کچھ مقام کی بہتری کے ساتھ ۱۸۳ ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ سب سے بڑی کامیابیاں نجی یونیورسٹیوں کی جانب سے دیکھنے ملی ہیں، جی ایل اے یونیورسٹی تقریباً ۳۰۰ درجے کی بہتری کے ساتھ ۴۹۱ ویں نمبر پر اور جین یونیورسٹی ۲۲۱ درجے کی ترقی کے ساتھ ۳۷۴ ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ 

کیو ایس کے سینئر نائب صدر بین سوٹر نے کہا کہ ۷۱ فیصد کا عدد یہ ظاہر کرتا ہے کہ کتنی یونیورسٹیاں تنزلی کا شکار ہوئیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کی مجموعی کارکردگی میں ۷۱ فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیچے آنے والی دو تہائی ہندوستانی یونیورسٹیوں نے درحقیقت اپنے اسکورز میں بہتری کی تھی۔ رینکنگ کا نظام تقابلی ہوتا ہے، اور رواں سال ۱۹۵ نئی یونیورسٹیاں شامل ہوئی ہیں، جس سے مقابلہ مزید سخت ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مئوکے ایک مدرسے کو سرکاری گرانٹ نہ دینے پر ہائی کورٹ کا برہمی کااظہار

ساکھ اور عالمی رسائی کے معاملے میں پیچھے رہنے کی وجہ سے ہندوستانی یونیورسٹیوں کو رینکنگ میں تنزلی کا بڑا نقصان جھیلنا پڑا ہے۔ اکیڈمک ریپیوٹیشن (تعلیمی ساکھ) میں ۷۶ فیصد ہندوستانی یونیورسٹیوں میں کمی آئی جبکہ ایمپلائر ریپیوٹیشن (آجروں کی نظر میں ساکھ) میں ۸۳ فیصد تنزلی دیکھی گئی۔ بین الاقوامی طلبہ کے اشاریے میں ۸۵ فیصد اداروں کی درجہ بندی میں گراوٹ آئی۔

تحقیقی میدان میں پیش رفت ہندوستانی یونیورسٹیوں کا ایک مثبت پہلو بن کر سامنے آیا ہے۔ فیکلٹی کے لحاظ سے مقالاجات (پیپرز پر فیکلٹی) واحد ایسا اشاریہ تھا جہاں تنزلی کے مقابلے میں زیادہ ہندوستانی یونیورسٹیوں نے بہتری دکھائی۔ تاہم، حوالوں کا اثر (سائٹیشن امپیکٹ) اب بھی کمزور ہے، اور فی مقالہ حوالوں (سائٹیشنز پر پیپر) کے زمرے میں ایشیا کی سرفہرست ۵۰ یونیورسٹیوں میں صرف تین ہندوستانی ادارے شامل ہیں۔ ۲۰۱۶ء کے بعد سے، رینکنگ میں ہندوستان کی نمائندگی ۲۴ سے بڑھ کر ۳۲۵ یونیورسٹیوں تک پہنچ گئی ہے۔ سوٹر نے کہا کہ تحقیقی صلاحیت کو عالمی شناخت میں تبدیل کرنا قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے اہداف کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK