Inquilab Logo Happiest Places to Work

خبردار!فتنۂ قادیانیت میں اسلامی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں

Updated: July 31, 2026, 3:40 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

دیہی علاقوں اور مسلمانوں کی دین سے ناواقف آبادیوں کے سلسلہ میں ادھر بار بار یہ بات سامنے آرہی ہے کہ بعض لوگ جو رسولؐ مقبول کے ختم نبوت کے منکر ہیں، ان کی طرف سے غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور عام مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ اس سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔

Believers should always be vigilant and vigilant to protect their religion and faith. Photo: INN
اہل ایمان کو اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے ہمیشہ ہوشیار اور بیدار رہنا چاہئے ۔ تصویر: آئی این این

ہر ملک کا ایک قومی جھنڈا ہوتا ہے ، یہ جھنڈا اس قوم کے لئے فخر و عظمت کے نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے ملک کا ترنگا جھنڈا موجود ہے ، اور جھنڈوں سے متعلق باضابطہ قوانین بھی موجود ہیں۔ قومی جھنڈے کی اہانت بہت بڑا جرم ہے، اس کے لئے باضابطہ قوانین بنے ہیں ۔ ہندوستان میں ہر سیاسی جماعت بلکہ بعض مذہبی جماعتوں نے اپنے لئے جھنڈوں کی وضع مقرر کی ہے ، جن سے ان کی پہچان متعلق ہے؛ لیکن یہ جماعتیں قومی جھنڈوں کو اپنے جھنڈے کے طورپر استعمال نہیں کرسکتیں، یہ جھنڈا پوری قوم کی نمائندگی کرتا ہے نہ کہ کسی ایک گروہ کی۔ بظاہر اس میں کوئی نقصان نظر نہیں آتا کہ کوئی اور گروہ اس جھنڈے کو اپنی پہچان کے طور پر استعمال کرنے لگے  نہ اس سے ہماری معیشت کو کوئی نقصان ہے، نہ اس سے ہمارے دفاع کو کوئی خطرہ ہے، نہ ہمارے سیاسی استحکام کو کوئی جوکھم ہے اور نہ دیگر قومی مفادات کا بظاہر کوئی نقصان ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود جھنڈوں کا غیر مجاز استعمال نہ صرف ممنوع ہے؛ بلکہ قابل سرزنش جرم بھی ہے ۔

آخر ایسا کیوں ہے ؟ اسی لئے ناکہ اس کی حیثیت، علامت اور پہچان کی ہے اور جب کوئی شخص اپنی پہچان بناتا ہے تو ایک طرح وہ اس کی ملکیت ہوجاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: انسانی فیصلے صرف عقل کا نتیجہ نہیں ہوتے

اسی اُصول پر ایجادات کے رجسٹریشن کا قانون ہے  اور دانشورانہ حقوق کو ایک پراپرٹی (اِنٹلکچوئل پراپرٹی رائٹس) کی حیثیت دی گئی ہے۔ ایک کمپنی دوسری کمپنی کا نام استعمال نہیں کرسکتی۔ ایک دواساز دوسرے دوا ساز کے فارمولہ کو بعینہ نہیں لے سکتا۔ ایک ناشر دوسرے ناشر کی کتاب نہیں چھاپ سکتا اور ایک صنعتکار دوسرے صنعتکار کے نمونہ پر وہی چیز بنانے کا حق نہیں رکھتا۔ تجارت و صنعت میں تو یہ تحفظ معاشی مفادات کیلئے کیا جاتا ہے؛ لیکن جو لوگ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے نزدیک مذہب کی اہمیت معیشت سے بھی زیادہ ہوتی ہے؛ اس لئے وہ فطری طور پر ان چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جس سے ان کی مذہبی شناخت متعلق ہے،  جیسے کسی کا گھر گورنمنٹ منہدم کردے تو اس سے وہ اس درجہ رنجیدہ نہیں ہوتا،  جتنا اس بات سے کہ  اس کی مسجد، مندر یاچرچ کو منہدم کردیا جائے؛ کیوںکہ اس کے گھر سے صرف مالی نفع و نقصان متعلق ہوتا ہے اورعبادت گاہ سے اس کے جذبات جڑے ہوئے ہیں ۔

دیہی علاقوں اور دین سے ناواقف مسلم آبادیوں کے سلسلہ  میں ادھر بار بار یہ  بات سامنے آرہی ہے کہ بعض لوگ جو اللہ کے رسولؐ کے ختم نبوت  کے منکر ہیں،  مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں، یا شکیل بن حنیف کو مسیح یا مہدی موعود مانتے ہیں، ان کی طرف سے غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور عام مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہی  ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فرق صرف یہ ہے کہ آپ محمدی مسلمان ہیں اور ہم احمدی مسلمان۔ وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہتے ہیں اور اسی  نام سے دیہات کے سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے گرد جمع کرتے ہیں۔ اس سے دوردراز دیہاتوں میں فتنہ ٔ ارتداد پنپ رہا ہے۔ اس پس منظر میں عرض ہے کہ یہ مسلمانوں سے ان کی شناخت چھیننے اور اس پر قبضہ کرنے کی ایک قبیح کوشش ہے۔

سوچئے! اگر کچھ ہندو بھائی مندر بنائیں اور اس کا نام ’’جامع مسجد دہلی‘‘یا ’’مکہ مسجد حیدر آباد‘‘رکھ دیں یا کچھ مسلمان مسجد بنائیں اور اس کو ہندوؤں کے کسی مقدس مقام کا نام دے دیں تو کیا مسلمانوں اور ہندوؤں کیلئے یہ بات قابل قبول ہوگی ؟ ہر گز نہیں؛ کیونکہ اس طرح ان کی شناخت متاثر کرنے کی کوشش  ہوگی۔ قادیانیوں کا اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا اور کلمہ طیبہ کو اپنا کلمہ قرار دینا اسی انداز کا عمل ہے جو صریحاً فریب دہی ہے اور جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جی ہاں، توہم پرستی اکیسویں صدی میں بھی ہے

 قادیانی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور اپنے آپ کو کافر ہونے کے باوجود مسلمان قرار دیتے ہیں، وہ پیغمبر آخر الزماںؐ کو آخری نبی نہیں مانتے، مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مانتے ہیں؛ لیکن کلمہ وہی پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں۔ مقصدصاف سمجھ میں آتا ہے کہ مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے۔ آج کل قادیانیوں کی طرف سے دیہات و قصبات اور شہر کے سلم علاقوں اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ محلوں میں ارتداد کا فتنہ پھیلایا جارہا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، مسجد کے نام سے اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرتے ہیں، کلمہ طیبہ پڑھ کر لوگوں کو مسلمان ہونے کا یقین دلاتے ہیں،  یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم محمد ؐرسول اللہ کو اللہ کا رسول اور خاتم النبیین مانتے ہیں؛ حالانکہ یہ محض دھوکہ اور دروغ گوئی ہے ، اسی سے سادہ لوح مسلمان دھوکہ کھاتے ہیں اوراسے مسلمانوں کی بہت سی جماعتوں میں سے ایک جماعت سمجھتے ہیں۔

قادیانیوں کے کلمہ طیبہ پڑھنے کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو  رسول قرار دیتے ہیں۔ قادیانیوں کے ہاں یہ تصور ایسا راسخ ہے کہ قادیانی شعراء نے کثرت سے مرزا غلام احمد کی مدح میں لکھے گئے اشعار میں اسے دہرایا گیا ہے۔گویا  قادیانی جب کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ میں محمد سے مرزا غلام احمد قادیانی کو مراد لیتے ہیں، یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جو کسی مسلمان کی طرف سے ان پر تھوپی جارہی ہیں؛ بلکہ خود مرزا غلام احمد کے لڑکے اور قادیانیت کے خلیفہ مرزا بشیر احمد کا بیان ہے ۔

غرض کہ قادیانی حضرات پڑھتے تو ہیں وہی کلمہ جو مسلمان پڑھتے ہیں؛ لیکن ان کی مراد عام مسلمانوں سے مختلف ہوتی ہے  لہٰذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ قادیانیوں کا اپنی عبادت گاہ کو مسجد سے موسوم کرنا اور کلمہ طیبہ کو اپنا کلمہ قرار دینا کھلا ہوا دھوکہ اور مسلمانوں سے ان کی پہچان چھیننے کی کوشش ہے اور اس پر ان کا احتجاج کرنا بالکل غیر معقول اور نا منصفانہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بارش: کبھی اس پر بھی غور کیجئے!

قادیانیوں کو چاہئے کہ وہ صاف طور پر کہیں کہ مسلمان نہیں ہیں اور اس دین کی پیروی نہیں کرتے، جس کو لے کر محمدؐ رسول اللہ آئے؛ بلکہ ایک الگ مذہب کے ماننے والے ہیں، جس کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی نے رکھی ہے۔ وہ کہیں کہ ہم قرآن کو آخری کتاب نہیں مانتے؛ بلکہ مرزا غلام احمد کی کتابوں کو آخری الہامی کتاب مانتے ہیں، وہ اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام نہ دیں اور اپنے عقیدہ کے مطابق کلمہ طیبہ کی جگہ کوئی دوسرا کلمہ وضع کرلیں تو مسلمانوں کو ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، جیسے کسی مسلمان کو ہندو کے ہندو ہونے، عیسائی کے عیسائی ہونے اورسکھ کے سکھ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتا۔

ضرورت ہے کہ لوگ خبردار اور متنبہ رہیں البتہ  اس بات کے واضح ہوجانے کے باوجود کہ قادیانیت ایک الگ مذہب ہے، اگر کوئی شخص مرتد ہوتا ہے اور حق سے منھ پھیرکر باطل کا راستہ اختیار کرتا ہے تو مسلمانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں  کیوںکہ گمراہی کے واضح ہونے کے باوجود اگر کوئی گمراہی کا راستہ اختیار کرے تو اس کی گمراہی دین حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی اور نہ اسلام کو ایسے گمراہوں کی کوئی حاجت ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK