ماہ صفر المظفرآتے ہی اسلام میں توہم پرستی کی مخالفت والی تعلیمات کا اعادہ ایک عام بات ہے۔ جس وقت نبی کریم حضرت محمدؐ عربوں میں مبعوث ہوئے، اس وقت وہ قوم توہم پرستی کی سب سے نچلی سطح پر پہنچی ہوئی تھی۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 4:00 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai
ماہ صفر المظفرآتے ہی اسلام میں توہم پرستی کی مخالفت والی تعلیمات کا اعادہ ایک عام بات ہے۔ جس وقت نبی کریم حضرت محمدؐ عربوں میں مبعوث ہوئے، اس وقت وہ قوم توہم پرستی کی سب سے نچلی سطح پر پہنچی ہوئی تھی۔
ماہ صفر المظفرآتے ہی اسلام میں توہم پرستی کی مخالفت والی تعلیمات کا اعادہ ایک عام بات ہے۔ جس وقت نبی کریم حضرت محمدؐ عربوں میں مبعوث ہوئے، اس وقت وہ قوم توہم پرستی کی سب سے نچلی سطح پر پہنچی ہوئی تھی۔ ایمان اور اخلاقیات سے محروم وہ دنیا دورجاہلیت میں نہایت عجیب وغریب خیالات کو عقائد کا روپ دے چکی تھی اور انہی خیالات کے مہیب سائے تلے اپنی زندگی گزاررہی تھی۔ مثلاً وہ کوئی کام کریں یا نہ کریں، اس کے لئے پرندوں سے فال لیا کرتے تھے، اسی طرح وہ الوپرندے کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ کسی مرحوم کی روح ہے یا پھر کسی کی موت کی علامت ہے۔ وہ لوگ ماہ صفر کو بھی منحوس اور مصیبتوں کا مہینہ سمجھتے تھے۔ کاہنوں اور نجومیوں پر بہت یقین رکھتے تھے اور قسمت کا حال معلوم کرنے کے لئے ان کی طرف لپکتے تھے۔ اگر سفر کرنا ہو، شادی وغیرہ کا مسئلہ ہو یا تجارت کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ہوتو تیر کے ذریعہ قسمت کا حال معلوم کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔اسی طرح ستاروں کے متعلق وہ خیال کرتے تھے کہ ان کی وجہ سے بارش ہوتی ہے۔ فہرست بہت طویل ہے لیکن عرب ایک ایسا انسانی معاشرہ تھا جو اپنے خیالات، عقائداور معاملات میں نہایت توہم پرست واقع ہوئے تھے۔ اور یہی توہم پرستی ان کی جہالت اور ان کے پچھڑے پن کی ایک اہم وجہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: بارش: کبھی اس پر بھی غور کیجئے!
جب اسلام کا نور آیااور غارحرا سے علم کی روشنی پھیلنے کا آغاز ہوا، نبی کریمؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی ، اور اقراءکے انقلابی پیغام نے عربوں کو نہایت گہرے خواب سے بیدارکیا تو ان ساری غلط اقدار اور روایات کی دھجیاں اڑگئیں ،جن پر عرب معاشرہ قائم تھا۔ اسلام نے ہر اس پرانی ریت رواج کو چیلنج کیا جو ان کے اندر جہالت کی وجہ سے درآیا تھا۔ اور منجملہ ان غلط عادات میں سے ایک توہم پرستی بھی تھی۔ حضرت موسیٰؑ کی قوم کی بدشگونی کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا:’’سن لو!ان کی بدشگونی اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘
نبی کریمؐ نے بیماریوں کے متعدی ہونے کے متعلق جاہلیت کے خیالات کی نفی فرمائی، اسی طرح بدشگونی سے منع فرمایا۔ الو کو منحوس پرندہ سمجھنے کی ممانعت کی اور ماہ صفر المظفر کے متعلق عام منفی خیالات کی تردید فرمائی۔ اور اس طرح اسلامی تعلیمات نے مجموعی طور پر’فال حسن‘ کا تصور پیش کیا، کہ بدشگونی اور کسی بات سے برا فال لینا اللہ عزوجل کی نعمتوں کا کفران ہے، اور انسان کے عقائد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جبکہ نیک فالی کی اجازت حدیث میں دی گئی ہے۔
اسلام کی ان بیش قیمت تعلیمات پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اب آج کے ’ماڈرن اور جدید‘ دور کی طرف لوٹتے ہیں۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی ہوش ربا ترقی کرچکی ہے اور سائنسی بنیاد پر ایک مخصوص عقلی نظریہ Rational وجود میں آچکا ہے جس میں مجموعی طور پر ہر مافوق الفطرت عنصر اور ہر اس بات کا انکار کیا جارہا ہے جوعام انسانی عقل میں نہیں آسکتی۔ اسی لئے یہ بات نہایت شان کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ موجودہ دور’توہم پرستی‘ میں بالکل یقین نہیں رکھتا۔ نہایت شدت کےساتھ اس کو ردکیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود آج کی دنیا میں بھی توہم پرستی انسان کونہایت مضبوطی کے ساتھ جکڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فکر بدلتی ہے تو کردار بدلتا ہے، کردار بدلتا ہے تو معاشرہ
مثال کے طور پر اسی ہفتے منعقد ہونے والے فٹبال کے ورلڈ کپ کا فائنل مقابلہ اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان کھیلا گیا۔ میچ سے قبل جب ارجنٹائنا کے صدر جاویئر میلی سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر کے ساتھ اس فائنل مقابلے کا نظارہ میدان پر کریں گے؟ تو انہوں نے اس سے صاف منع کردیا اور کہا کہ : میں ایک توہم پرست شخص ہوں، اور میرا ماننا ہے کہ اگر میں وہاں خود شرکت کے لئے گیا تو ارجنٹائنا ہار جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے دیگر میچوں اور اپنی توہم پر ستی پر کھل کربات کی۔ یہ واقعہ صرف ایک مثال ہے جو توہم پرستی کی اس خراب عادت کے متعلق خبروں میں نشرکی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا اپنی نام نہاد ترقی کے باوجود توہم پرستی میں مکمل طور پرڈوبی ہوئی ہے۔امریکہ میں بعض جگہوں پر۱۳ ؍کے عدد کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کسی مہینے میں اگر ۱۳؍ تاریخ کو جمعہ ہو تو اس دن شادی، خریدو فروخت وغیرہ سے احتیاط برتی جاتی ہے۔ اسی طرح عمارتوں میں ۱۲؍ ویں منزلے کے بعد سیدھے ۱۴؍واں منزلہ لکھا ہوتا ہے۔ بعض مغربی ممالک میں کالی بلی کو بہت منحوس سمجھاجاتاہے۔ آئینہ کے ٹوٹنے کو سات سال تک منحوسیت کی وجہ ماناجاتاہے۔ ۷ ؍ کواچھا عدد ماناجاتا ہے۔ یہ عادتیں سب علاقوں میں عام نہیں ہیں، نہ ہی ہر کوئی ان میں یقین رکھتا ہے، لیکن لوگوں کی ایک تعداد میں اس طرح کی بے سر پیر کی باتوں کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ۲۱؍ویں صدی کا یہ ترقی یافتہ دور، خاص کر مغربی ممالک، توہم پرستی پر غالب آنے کے اپنے سارے دعوؤں کے باوجود اسی مرض میں آج بھی مبتلا ہیں۔
ایسا اس لئے ہے کہ انسانی ذہن سے اس خراب عادت کو کھرچ پھینکنے کے لئے جس صحیح عقیدہ اوراپنے خالق ومالک پر مکمل یقین کی دولت درکار ہے وہ صرف اسلام نے اس دنیا کو عطا کی ہے۔ آج کے اس دور میں بھی اسلام ہی وہ واحد تریاق ہے جو انسانیت کے بدن میں سمائے ہوئے اس زہر کا علاج کرسکتا ہے۔ اورانسانیت کو اس مصیبت سے نجات دلاسکتاہے مگر اسلام کے ماننے والے بھی ایسے مل جاتے ہیں جو وہم اور توہم پرستی کے شکار ہیں۔ وہ بھی ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے ہیں اور کالی بلی کو دیکھ کر راستہ بدل دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، ہماری کامیابی کا پہلا اصول اتحاد اور قرآن و سنت سے وابستگی ہے
فتح عموریہ اور توہم پرستی کا انکار
اسلامی تعلیمات کی وجہ سے ایک ایسا مضبوط ارادے والا معاشرہ وجود میں آیا جس میں ارادے کبھی ڈگمگاتے نہیں تھے اور ہر عمل ثابت قدمی کی ایک مثال ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زندگی موت، نفع نقصان، فتح یا شکست ہر چیز کا مالک، جب خالق کائنات کو مان لیا جاتا ہے ، تو پھر اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سےکوئی اچھائی یا برائی پہنچنے کا تصور ہی ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۲۳ ؍ ہجری میں مشہور عربی شاعر ابوتمام کا ایک قصیدہ ہے ’فتح عموریہ‘۔ جب عباسی خلیفہ معتصم باللہ نے عموریہ نامی شہر پر حملے کا ارادہ کیا تھا، اس کے دربار کے نجومیوں نے اسے رجب کے مہینے کا، اور بعض ستاروں کے طلوع ہونے کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ یہ وقت آپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ آپ عموریہ پر حملہ کریں۔ لیکن ایک مسلمان ان سب باتوں پر یقین نہیں رکھتا ہے ۔ معتصم باللہ نے یہ ساری باتیں ردی کی ٹوکری کی نذرکیں اور راست طور پر حملہ کیا اور اس کو اس جنگ میں زبردست فتح حاصل ہوئی۔ ابوتمام نے اپنے قصیدے میں ان نجومیوں کی خوب ہجو کی، ان پر طنزو تنقید کے نشتر برسائے تھے۔