Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارش: کبھی اس پر بھی غور کیجئے!

Updated: July 24, 2026, 3:55 PM IST | Shoaib Ahmed Muhammadi | Mumbai

بارش اللہ کی رحمت ہے۔ اس رحمت کو زحمت نہ بننے دیں۔ اگر آپ کے گھر میں بارش کے وقت سکون ہے تو سمجھیں یہ اللہ کا کرم ہے۔ اور کرم کا تقاضا ہے کہ دوسروں پر کرم کریں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بارش رحمت ہے۔ آسمان سے اترتی ہر بوند اللہ کی نعمت ہے۔ کھیت سرسبز ہوتے ہیں دریا بھر جاتے ہیں دل خوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہی رحمت جب غریب کے ٹوٹے چھت پر گرتی ہے تو زحمت بن جاتی ہے۔ امیر کے لئے بارش موسم ہے غریب کے لئے امتحان۔ آئیے، اس کے کچھ پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔

(۱)دینی پہلو :  اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بارش اللہ کی رحمت کے ساتھ آزمائش بھی ہے۔  نبی کریمؐ  بارش دیکھ کر دعا فرماتے :’’اے اللہ نفع دینے والی بارش برسا۔‘‘ دین کا حکم ہے کہ جو خود محفوظ چھت کے نیچے ہے وہ ان کا خیال رکھے جن کی چھت ٹپکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فکر بدلتی ہے تو کردار بدلتا ہے، کردار بدلتا ہے تو معاشرہ

(۲) معاشرتی پہلو : ہمارے معاشرے میں بارش آتے ہی دو منظر بنتے ہیں۔ ایک طرف لوگ چھت پر بیٹھ کر چائے اور پکوڑے کھاتے ہیں۔ دوسری طرف کچی بستی میں ماں بچوں کے ساتھ بالٹی اور برتن رکھ کر پانی روک رہی ہوتی ہے۔ غریب کا گھر کچا ہوتا ہے۔ ایک رات کی تیز بارش اس کی دیوار گرا دیتی ہے ،بستر گیلا کر دیتی ہے اور راشن خراب کر دیتی ہے۔ پھر وہ قرض لے کر مرمت کرتا ہے۔ اگلی بارش تک قرض نہیں اترتا۔ معاشرے کا فرض ہے کہ ہم موسم انجوائے کرنے سے پہلے پڑوسی کا گھر دیکھیں۔

(۳) اخلاقی پہلو : اخلاق کا تقاضا ہے کہ تکلیف میں دوسرے کا ہاتھ تھامو۔ بارش کے دنوں میں  اخلاق یہ نہیں کہ آپ نئی گاڑی میں گھومیں۔ اخلاق یہ ہے کہ رکشے والے، مزدوراور چوکیدار کا حال پوچھیں۔نبی ؐنے فرمایا : بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو نفع دیں۔ اگر آپ کے گھر چھت سلامت ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے۔ اس احسان کا شکر یہ ہے کہ کسی بے چھت کا سہارا بنیں، مدد کی جو بھی صورت ہوسکتی ہے، فراہم کریں۔ 

(۴) جذباتی پہلو : سوچیں رات تیز بارش ہو، بجلی چلی گئی ہو۔  ایک طرف تو کسی امیر کا بچہ کمبل میں سو رہا ہے۔  اور دوسری طرف کوئی غریب ماں بچوں کو لے کر اس لئے بیٹھی ہے کہ  اسے ڈر ہے دیوار گر نہ جائے۔ اس بچے کے دل پر کیا گزرے گی جب وہ اسکول میں سنے گا بارش کتنی اچھی ہے۔ اس کیلئے تو بارش خوف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، ہماری کامیابی کا پہلا اصول اتحاد اور قرآن و سنت سے وابستگی ہے

(۵) سماجی پہلو : حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کچی بستیوں کی نکاسی پختہ مکانات اور ہنگامی ریلیف کا انتظام کریں۔  محلے کے نوجوان ایک بارانی  امدادی ٹیم بنا لیں جو گھروں سے پانی کی نکاسی کیلئے متاثرہ گھروں کی مدد کرے اور اُن کا بوجھ ہلکا کرے۔ 

زیادہ بارش کی دعا :جب بارش حد سے بڑھ جائے، زمین جل تھل ہو جائے، مکانات منہدم ہونے لگیں اور راستے بند ہو جائیں تو ہمیں  وہ دعا کرنی چاہئے جو نبی کریم ؐ نے کی تھی:

ترجمہ:’’ اے اللہ ہمارے اطراف میں بارش برسا، ہم پر نہیں! اے اللہ پہاڑوں اور ٹیلوں پر اور کھیت کھلیانوں اور باغوں میں ندیوں نہروں اور دریاؤں میں  بارش برسا‘‘۔ آمین!

یہ بھی پڑھئے: تربیت کا سب سے بڑا امتحان !

معروف شاعر الطاف ضیاء نے کیا خوب کہا ہے :

میں خوش تھا پڑوسی کی ٹپکتی ہوئی چھت پر =اس بار مرے گھر کی بھی دیوار گری ہے

یہی ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ جب تک مصیبت دوسرے کے گھر ہو ہم تماشائی بنے رہتے ہیں۔  آنکھ تب کھلتی ہے جب مشکل اپنی دہلیز تک آتی ہے۔ آج کسی کے گھر پانی ٹپک رہا ہے کل ہماری باری بھی ہو سکتی ہے۔  بارش اللہ کی رحمت ہے، اس کو زحمت نہ بننے دیں۔ اگر آپ کے گھر میں سکون ہے تو سمجھیں یہ اللہ کا کرم ہے،  اور کرم کا تقاضا ہے کہ دوسروں پر کرم کریں۔ قیامت کے دن اللہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے کتنے موسم انجوائے کیے۔ وہ پوچھے گا جب تیرے پڑوسی کا گھر ٹپک رہا تھا تو نے کیا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK