جب سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہو جاتا ہے، تو وہ صرف وقت کی گردش کا اعلان نہیں کرتا بلکہ انسان کے ضمیر کے لئے بھی ایک سوال چھوڑ جاتا ہے۔ اگر دن ڈھل جائے اور دل نے کسی لمحے توقف نہ کیا ہو، اگر زبان نے کسی وقت شکر یا معافی کا سہارا نہ لیا ہو، اگر نظر نے کسی وقت خود کو اپنے رب کے حضور جھکایا نہ ہو، تو پھر یہ مصروف دن حقیقت میں خالی دن ہے۔
انسانی زندگی کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ جن مشغولیات کو ترقی کا نام دیتا ہے، وہی آہستہ آہستہ اس کی فکر، اس کی بصیرت اور اس کے باطن کو کھا جاتی ہیں۔ مشغول رہنا بذاتِ خود کوئی خرابی نہیں، خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں مشغولیت انسان پر مسلط ہو جائے اور انسان مشغولیت کا خالق نہیں بلکہ اس کا اسیر بن جائے۔ قدیم انسان کے پاس وسائل کم تھے، مگر وقت وافر تھا؛ آج وسائل بے شمار ہیں، مگر وقت نایاب ہو چکا ہے۔ پہلے انسان کام سے فارغ ہو کر انسان بنتا تھا، آج انسان بننے سے پہلے ہی کام میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہ تبدیلی محض طرزِ زندگی کی نہیں، طرزِ فکر کی ہے، اور فکر کی یہ تبدیلی قوموں کے عروج و زوال کا خاموش اعلان ہوتی ہے۔
انسانی ذہن کی ساخت کچھ اس طرح ہے کہ وہ مسلسل مصروفیت کو معمول اور خلا کو خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ جیسے اگر ہاتھ حرکت میں نہ ہوں تو انسان گھبرا جاتا ہے، حالانکہ اصل خرابی ہاتھوں کی حرکت میں نہیں بلکہ دل و دماغ کے جمود میں ہے۔ جب انسان کے دن کا ہر لمحہ طے شدہ ہو، ہر ساعت کسی نہ کسی خارجی تقاضے کے تابع ہو تو اس کے اندر سوال پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں، اور جس ذہن میں سوال مر جائیں وہاںجواب بھی دفن ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں فکری زوال خاموشی سے جنم لیتا ہے؛ نہ کوئی شور، نہ کوئی اعلان، بس آہستہ آہستہ انسان سوچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تدبر ِ قرآن اور اس کے آداب و شرائط
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی جسمانی ضرورتوں کے معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس ہے۔ بھوک لگے تو فوراً احساس ہوتا ہے، پیاس ستائے تو دل بے چین ہو جاتا ہے، نیند پوری نہ ہو تو سارا دن گرانی اور اضمحلال رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر دفتر کا کوئی معمولی کام بھی ادھورا رہ جائے تو ذہن بار بار اسی طرف لوٹتا ہے۔ گویا انسان کے اندر ایک داخلی نظام ہے جو جسم اور دنیا سے جڑی ہر کمی کو فوراً پکڑ لیتا ہے اور اس پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ لیکن یہی انسان جب اپنے باطن کی بھوک، روح کی پیاس اور دل کی ویرانی کا شکار ہوتا ہے تو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ تضاد محض غفلت کا نہیں، ترجیحات کی الٹ پھیر کا نتیجہ ہے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس وسائل کم ہیں یا مواقع محدود ہیں؛ تاریخ گواہ ہے کہ وسائل کی قلت نے کبھی کسی قوم کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا۔ تباہی ہمیشہ اس وقت آئی ہے جب انسان نے اپنی اصل ضرورت کو غیر ضروری سمجھ لیا اور غیرضروری کو اصل ضرورت۔ فکر کی بات یہ نہیں کہ دن بھر کی دوڑ میں کم کمایا یا زیادہ، بلکہ فکر کی بات یہ ہے کہ ایک پورا دن گزر جائے اور یہ احساس تک نہ ہو کہ اس نے اپنے خالق کے سامنے سر جھکایا یا نہیں۔ فکر یہ نہیں کہ زندگی کے معمولات پورے ہوئے یا نہیں، بلکہ فکر یہ ہے کہ زندگی کا مقصد کہیں راستے میں گم تو نہیں ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: انسان کا وجود بجائے خود اللہ کے وجود کی دلیل ہے
جب سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہو جاتا ہے، تو وہ صرف وقت کی گردش کا اعلان نہیں کرتا بلکہ انسان کے ضمیر کے لئے بھی ایک سوال چھوڑ جاتا ہے۔ اگر دن ڈھل جائے اور دل نے کسی لمحے توقف نہ کیا ہو، اگر زبان نے کسی وقت شکر یا معافی کا سہارا نہ لیا ہو، اگر نظر نے کسی وقت خود کو اپنے رب کے حضور جھکایا نہ ہو، تو پھر یہ مصروف دن حقیقت میں خالی دن ہے، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی بھرپور کیوں نہ دکھائی دے۔ یہ وہ خلا ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے، مگر چونکہ یہ خلا شور نہیں مچاتا اسلئے انسان اسے محسوس بھی نہیں کرتا۔
قرآن کا نہ کھلنا، سجدے کا نہ ہونا، اور استغفار سے زبان کا خالی رہ جانا محض چند اعمال کے ترک کا نام نہیں؛ یہ دراصل اس رشتے کی کمزوری کی علامت ہے جو انسان کو اس کی حقیقت سے جوڑتا ہے۔ جیسے درخت کو پانی نہ ملے تو وہ فوراً نہیں سوکھتا، مگر اندر ہی اندر اس کی جڑیں کمزور ہونے لگتی ہیں، بالکل اسی طرح روحانی غفلت بھی فوراً نمایاں نہیں ہوتی، مگر ایک دن انسان خود کو بے سمت، بے چین اور بے مقصد پاتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عجیب سا انقلاب جنم لیتا ہے۔ جن لوگوں کو یہ فکریں لاحق ہو جاتی ہیں کہ کہیں میرا دن اللہ سے خالی نہ رہ جائے، کہیں میرا دل ذکر سے محروم نہ ہو جائے وہ دراصل دنیا کی سب سے بڑی آزادی پا لیتے ہیں۔ کیونکہ جس انسان کی فکر درست ہو جائے، اس کیلئے دنیا کے اندیشے خود بخود چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل خسارہ وقت کا ضیاع نہیں بلکہ سمت کا کھو جانا ہے۔اصل نفع یہ نہیں کہ زندگی بھر مصروف رہا جائے بلکہ یہ ہے کہ زندگی بھر باخبر رہا جائے۔
یہی بیداری انسان کو دوبارہ انسان بناتی ہے؛ ایک ایسا انسان جو کام بھی کرتا ہے، مگر کام میں گم نہیں ہوتا؛ جو دنیا میں رہتا ہے، مگر دنیا اس کے دل میں نہیں رہتی؛ اور جو ہر دن کے اختتام پر یہ جانچ لیتا ہے کہ آج میں نے کتنا جیا نہیں، بلکہ کتنا سمجھا۔ یہی سمجھ دراصل وہ چنگاری ہے جو دل میں جل جائے تو پورا وجود روشن کر دیتی ہے۔