Inquilab Logo Happiest Places to Work

سورۃ الحجرات کی حیثیت جامع دستور کی ہے اتحادِ اُمت کیلئے

Updated: July 24, 2026, 3:05 PM IST | Mohammad Zubair Ul Islam | Mumbai

قرآن پاک کی اس ۴۹؍ ویں سورہ میں اختلافات کے بنیادی اسباب کی نشاندہی کی گئی ہے اور نہایت حکیمانہ انداز میں ان کا علاج بیان کیا گیا ہے۔

If the teachings of Surah Al-Hujurat are made a part of practical life, there will be moderation in scholarly differences, and conflicts arising from misunderstandings will be reduced. Photo: INN
سورہ الحجرات کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے تو علمی اختلافات میں اعتدال پیدا ہوگا، غلط فہمیوں سے جنم لینے والے تنازعات کم ہوں گے۔ تصویر: آئی این این

قرآنِ کریم امت ِ مسلمہ کا متفقہ سرمایۂ ایمان ہے۔ ہر مومن اس حقیقت پر کامل یقین رکھتا ہے کہ یہ اللہ رب العزت کا نازل کردہ کلام ہے، حضرت محمد ﷺ پر وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور قیامت تک یہ انسانیت کے لئے کامل ہدایت کا سرچشمہ رہے گا۔ اس کے الفاظ، معانی اور تعلیمات پر امت کا اعتماد و یقین ہے لیکن  قرآنِ کریم کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ کیا جائے، کیوں کہ اسے اللہ تعالیٰ نے هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ  قرار دیا اور اس میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے مکمل رہ نمائی عطا فرمائی۔

اختلافات کے خاتمے اور اتحادِ امت کے اصول قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر بیان کئے ہیں، تاہم سورۃ الحجرات اس اعتبار سے ایک جامع دستور کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سورہ کی تعلیمات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اختلافات کے بنیادی اسباب اور ان کے علاج نہایت حکیمانہ انداز میں بیان کئے گئے ہیں، جنہیں سہولت کے لیے تین عنوانات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلی قسم علمی اور فکری اختلافات کی ہے۔ سورۃ الحجرات کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے  اپنے محبوب نبی ؐکے ادب کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:’’اﷲ اور اس کے رسولؐ سے آگے نہ بڑھا کرو ‘‘ اور ’’اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم ؐکی آواز سے بلند مت کیا کرو۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: دُنیا سے محبت اور ظلم کے خلاف خاموشی ہماری زبوں حالی کا سبب ہیں!

اگرچہ یہ آیات اللہ کے رسولؐکی حیاتِ مبارکہ میں آپؐ کے ادب و احترام سے متعلق ہیں، لیکن ان کی تعلیم ہر دور کے اہل ِ ایمان کے لئے ہے۔ آج اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب کسی مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول ؐ  کا حکم سامنے آ جائے تو اپنی رائے، اپنی ترجیح اور اپنے فکری رجحان کو اس پر مقدم نہ کیا جائے، بلکہ کامل شرحِ صدر کے ساتھ قرآن و سنت کے فیصلے کو قبول کر لیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمی اختلافات زیادہ تر ناقص فہم یا اپنی رائے پر اصرار کے باعث جنم لیتے ہیں، جبکہ سورۃ الحجرات اہلِ ایمان کو یہ اصول عطا کرتی ہے کہ قرآن و سنت کے مقابلے میں ہر رائے ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسری قسم اُن اختلافات کی ہے جو افواہوں، غلط فہمیوں اور باہمی نزاعات سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو۔‘‘ (آیت:۶)  اس آیت سے یہ اصول حاصل ہوا کہ کسی خبر پر تحقیق کے بغیر فیصلہ نہ کیا جائے، تاکہ بے بنیاد اطلاعات امت میں انتشار کا سبب نہ بنیں۔ اگر اس احتیاط کے باوجود اہلِ ایمان کے دو گروہوں کے درمیان نزاع پیدا ہو جائے تو قرآن کریم اس کا حل بھی بیان کرتا ہے: 

’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔‘‘  (آیت:۹) کیوں کہ اس امت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ’’بات یہی ہے کہ  اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔‘‘ (آیت:۱۰)

تیسری قسم اُن اختلافات کی ہے جو نسب، خاندان، قوم، زبان یا معاشرتی رویوں کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لئے سورۃ الحجرات میں تمسخر، طعن، برے القاب سے پکارنے، بدگمانی، تجسس اور غیبت سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہی برائیاں دلوں میں نفرت اور معاشرے میں تفرقہ پیدا کرتی ہیں: ’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو۔‘‘ (آیت:۱۱)

سورۃ الحجرات کا پیغام صرف اہل ایمان کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے احترامِ آدمیت کا ایک عالمگیر اصول بھی پیش کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرآن کی تعلیمات بار بار متوجہ کرتی ہیں کہ انسان اپنی رائے کو آخری نہ سمجھے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں  قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی اور پرہیزگارہو۔‘‘ (آیت:۱۳)

اس آیت نے صاف کر دیا کہ رنگ، نسل، قوم اور خاندان فضیلت کا معیار نہیں، بلکہ تقویٰ ہی انسان کی حقیقی عظمت کا پیمانہ ہے۔ اگر یہ حقیقت دلوں میں راسخ ہو تو نسلی، لسانی اور قومی تعصبات خود بہ خود ختم ہو جاتے ہیں۔

سورۃ الحجرات کے اختتام میں بھی ایک نہایت لطیف تربیتی پہلو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول( ﷺ) کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال (کے ثواب میں) سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔‘‘ (آیت :۱۴)

واضح رہے کہ اعرابیوں نے اپنے اسلام لانے کو ایک احسان کے طور پر پیش کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح فرمائی اور یہ تعلیم دی کہ ایمان اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اس پر فخر یا احسان جتانے کی گنجائش نہیں۔ اسی اصول کی روشنی میں اگر کوئی شخص یا جماعت امت کے اختلافات کو ختم کرنے، دلوں کو جوڑنے اور مسلمانوں کے درمیان اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس خدمت کو شہرت، تعریف یا اپنی برتری کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے، بلکہ اسے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے انجام دینا چاہئے۔ اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ ہی عطا فرمائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل عہد میں مثبت مکالمے کا زوال اور اسلامی روایات

امید کی جا سکتی ہے کہ اگر سورۃ الحجرات کو اس جامع پس منظر میں سمجھا جائے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے تو علمی اختلافات میں اعتدال پیدا ہوگا، غلط فہمیوں سے جنم لینے والے تنازعات کم ہوں گے، اور نسلی، لسانی، خاندانی اور معاشرتی تعصبات بھی بتدریج ختم ہونے لگیں گے۔ جب ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا احترام کرے، تمسخر، تحقیر، برے القاب، بدگمانی اور دل آزاری سے اجتناب کرے تو معاشرہ میں محبت اور اخوت کی فضا قائم ہوگی، ان شاء اللہ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK