زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ قرآن نے بیس مقامات پر زکوٰۃ کو اسلام کے رکن اول ’نماز‘ کے ساتھ ذکر کیا ہے، بتیس مقامات پر صرف زکوٰۃ کا اور پندرہ مقامات پر صدقہ کا ذکر آیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 6:59 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ قرآن نے بیس مقامات پر زکوٰۃ کو اسلام کے رکن اول ’نماز‘ کے ساتھ ذکر کیا ہے، بتیس مقامات پر صرف زکوٰۃ کا اور پندرہ مقامات پر صدقہ کا ذکر آیا ہے۔
اسلام بعض دوسرے مروجہ مذاہب کی طرح محض کچھ رسوم و رواج اور عبادت کے مخصوص طریقوں کا نام نہیں، بلکہ ایک دین ہے ( آل عمران:۱۹)۔ ایک مکمل نظامِ حیات اور دستورِ زندگی، جو زندگی کے ایک ایک مسئلہ میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ کھانا، پینا، سونا، جاگنا، کسب ِ معاش، ازدواجی زندگی، عبادات و معاملات، ملک و قوم کی فرماں روائی، جنگ و امن، عدل و انصاف، خلوت و جلوت، شخصی تعلقات، بین قومی روابط، غم کے لمحات، خوشی کی ساعتیں، کوئی مرحلہ اور کوئی مسئلہ نہیں جس میں انسانیت کو راستہ نہ بتایا گیا ہو… اس دنیا میں جہاں انسان کا خدا سے بندگی اور عبدیت کا رشتہ ہے چنانچہ وہ عبد ہے ، اور خدا معبود ، وہ بندہ و غلام ہے اور خدا مالک و آقا ، وہ مجبور ہے اور خدا قادر مطلق، وہ سراپا احتیاج ہے اور خدا کامل غنی اور حاجت سے بالاتر، وہیں دوسری مخلوقات اور بالخصوص دوسرے انسانوں سے بھی اس کا ایک تعلق ہے۔ یہ تعلق ہم سائیگی کا ہے، برادری اور بھائی چارے کا ہے، محبت و اُنس کا ہے اور ایک دوسرے کے کام آنے کا ہے۔ اسلام نے خدا سے رشتۂ بندگی کے استوار کرنے کو مقصود بنایا ہے اور خلق خدا سے حسن سلوک کو خدا سے قربت کے لئے ذریعہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا غیر ہی ہماری رُسوائی کے ذمہ دار ہیں؟
اسلام کے تمام احکام کی روح یہی ہے کہ ان کا مقصود خدا کی بندگی ہے یا انسان کی خدمت۔ پہلے قسم کے احکام حقوق اللہ کہلاتے ہیں اور دوسری قسم کے احکام حقوق الناس۔ قرآن مجید نے اکثر مواقع پر اللہ کے حقوق کے ساتھ بندوں کے حقوق بھی ذکر کئے ہیں اور توحید کے ساتھ والدین سے بہتر سلوک کا حکم فرمایا گیا ہے: ’’تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو۔‘‘ (الاسراء: ۲۳) کہیں نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر آیا ہے: ’’پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں۔‘‘ (کوثر: ۲) اوربیشتر مقامات پر جہاں نماز کی تاکید کی گئی ہے، وہیں زکوٰۃ ادا کرنے کی ہدایت بھی فرمائی گئی ہے: ’’اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔‘‘ (المزمل: ۲۰) قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے انسان کی خدمت کو خدا کی عبادت کا درجہ دیا ہے۔ کفارۂ ظہار ساٹھ روزے رکھنا ہے لیکن روزہ نہ رکھ سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ (المجادلہ:۴)کفارۂ قسم میں بھی روزے نہ رکھ سکے تو مسکینوں کو کھانا کھلائے یا کپڑا پہنائے۔ (المائدہ:۸۹) ان کفارات سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں، ایک یہ کہ غریبوں کی مدد اور بندگان خدا کی خدمت روزہ جیسی عبادت کے ہم پلہ اور ہم درجہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ترازو میں اس کی خاص تاثیر یہ ہے کہ اس کے ذریعہ گناہ معاف ہوتے میں اور یہ خطاؤں کیلئے کفارہ بن جاتے ہیں۔ پس حقوق اللہ کا سب سے عظیم الشان رکن ’’نماز‘‘ اور حقوق الناس کا سرنامہ ’’زکوٰۃ‘‘ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شُح اور صُلح: دو متضاد رویے
زکوٰۃ اور قرآن مجید
اسلامی تعلیمات کا اولین اور مستند ترین سر چشمہ قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید نے زکوٰۃ کو جو اہمیت دی ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اس نے بیس مقامات پر زکوٰۃ کو اسلام کے رکن اول ’نماز‘ کے دوش بدوش ذکر کیا ہے، بتیس مقامات پر صریحاً زکوٰۃ کا اور پندرہ مقامات پر صدقہ کا ذکر آیا ہے۔ مختلف سیاق میں رحمت خداوندی کا حقدار ہونے کے لئے ایمان و تقویٰ کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کو بھی شرط قرار دیا گیا: ’’میری رحمت ہر چیز پر وسعت رکھتی ہے، سو میں عنقریب اس (رحمت) کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں‘‘ (سورہ الاعراف: ۱۵۶) اور فرمایا گیا کہ:’’جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اﷲ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اﷲ) کثرت سے بڑھانے والے ہیں۔‘‘ آخرت میں اس کا جو ثواب ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں)، اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی زیادہ) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (سورہ البقرہ:۲۶۱)۔ یہ بھی فرمایا گیا کہ نماز اور زکوٰۃ آخرت میں غم وافسوس اور خوف و اندیشہ سے حفاظت کرے گی: ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے اور نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، اور ان پر (آخرت میں) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔‘‘ (سورہ البقرہ:۲۷۷)
یہ بھی پڑھئے: امت اگر نبیؐ کے طریقوں پر عمل نہ کرے تو اس سے بڑھ کر محرومی اور بدبختی کیا ہوگی؟
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہ کریں اور غریبوں کے اس حق سے پہلوتہی برتیں ان کے لئے اسی درجہ عبرت ناک سزا ہے:
’’جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور ان سے کہا جائے گا) کہ یہ وہی (مال) ہے جو تم نے اپنی جانوں (کے مفاد) کے لئے جمع کیا تھا سو تم (اس مال کا) مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے۔‘‘ (التوبہ:۳۵)
کہیں فرمایا گیا کہ اس مال کا طوق عذاب بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائیگا۔ (آل عمران:۱۸۰) واقعہ ہے کہ اعمال صالحہ میں نماز کے بعد جس تاکید و اہتمام اور کثرت و تکرار کے ساتھ قرآن مجید نے زکوٰۃ و صدقات، انفاق، انسان کی مدد اور یتیموں اور حاجتمندوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر کیا ہے، کسی اور عمل پر اس اہمیت کے ساتھ نہیں دیا گیا ہے۔
زکوٰۃ اور حدیث
اللہ کے رسول ﷺ نے زکوٰۃ کو ارکانِ اسلام میں نماز کے بعد درجہ دیا ہے اور بعض اوقات آپؐ نے جن باتوں پر بیعت لی ان میں زکوٰۃ کا بھی ذکر فرما دیا (بخاری، کتاب الزکوٰۃ) آخرت میں زکوٰۃ ادا کرنے پر آپؐ نے جو وعید بیان فرمائی ہیں وہ نہایت لرزادینے والی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو گی وہ ز ہریلے سانپ کی صورت اختیار کر کے گلے کا طوق بن جائے گا اور ڈستار ہے گا (بخاری ) اور جن جانوروں کی زکوٰۃ نہ دی گئی ہوگی وہ اس کے جسم کو روندیں گے۔ (ترمذی)
یہ بھی پڑھئے: آپﷺ کا سیاسی کردار بھی ہر اعتبار سے عدیم المثال اور ہر لحاظ سے بے نظیر تھا
اسی طرح، سونے کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی خواتین کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ انہیں آگ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ (ترمذی)
اس کے علاوہ آپؐ نے دنیا میں بھی زکوٰۃ اداکر نے پر خوش خبری اور نہ ادا کرنے پر اللہ کی پکڑ کاذکر فرمایا ہے۔ ارشاد مبارک ہے کہ صدقہ سوء خاتمہ سے بچاتا ہے ، عمر میں اضافہ کرتا ہے، ستر مصیبتوں کے دروازے بند کرتا ہے، بلائیں صدقہ کی وجہ سے نہیں آتیں، جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے، تو مالِ زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ اصل مال بھی ہلاک و ضائع ہو جاتا ہے ، اور جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی، اس پر اللہ کی طرف سے قحط کا عذاب آتا ہے۔ (بخاری، ترمذی، مشکوٰۃ)
دنیا میں انسان کی بد اعمالیوں کا اس پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے ؟ حضرت ابن عمرؓ نے اس سلسلے میں بڑی اثرانگیز روایت نقل کی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے جماعت مہاجرین! پانچ گناہ ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گے ، (مصیبتوں میں پڑوگے) اور میں اس بات سےخدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان گناہوں میں مبتلا ہو (وہ گناہ یہ ہیں) جس قوم میں کھلے عام بد کاریاں ہونے لگیں ان میں طاعون اور ایسی تکلیف دہ بیماریاں پیدا ہوں گی جو پہلے کے لوگوں کو نہیں ہوئی ہوں گی، ناپ تول میں کمی کریں گے تو قحط، تنگ حالی اور حکمرانوں کاجور و ظلم ان پر ہوگا، جو زکوٰۃ ادا نہ کریں گے بارش سے محروم کر دیئے جائیں گے اور (اس بستی میں) جانور نہ ہوں توشاید ان پر بالکل ہی بارش نہ ہو، خدا اور رسولؐ کے پیمان کو توڑیں گے تو دشمنوں کو، جو کفار ہوں گے، ان پر مسلط کر دے گا اور وہ ان کے قبضہ سے بعض چیزیں چھین لیں گے اور مسلمانوں کے جو حکمراں قرآن مجید کے مطابق فیصلہ نہ کریں گے اور احکام الٰہی کو ترجیح نہ دیں گے تو اللہ تعالی ان کی قوت کو باہم ہی ٹکرا دے گا۔(ابن ماجہ عن ابن عمر باب العقوبات)
یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل عہد : نظر کے ہجوم میں ’بصیرت‘کی تلاش
غور کیا جائے تو آج اس حدیث کی تصدیق چشم سر سے دیکھی جاسکتی ہے۔ فحاشی اور بد کاری، ایسے امراض کا وجود کہ جن سے کان و دل یکسر نا آشنا تھے ، حکمرانوں کا ظلم وجور ،قحط و خشک سالی، مسلمانوں پر ان کے دشمنوں کا غلبہ و تسلط اور باہم آویز شیں، یہ ساری حقیقتیں دوپہر کی دھوپ کی طرح سامنے ہیں! اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی تنگ حالی اور درماندگی کا ایک اہم سبب اس امت کی فریضۂ زکوٰۃ سے غفلت، چشم پوشی اور بے اعتنائی ہے۔