Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواہشوں کا غلام نہیں، اُن کا رہبر بنیں!

Updated: March 27, 2026, 3:16 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

اللہ نے انسان کو پیدا کیا، اللہ ہی نے اُسے خواہشات بھی عطا کی ہیں اور خواہشات کو منظم کرنے کی صلاحیت بھی اسی کی عطا کردہ ہے۔

Think about it, does every desire move a person forward, or do some desires even make them hollow inside? Photo: INN
سوچئے، کیا ہر خواہش انسان کو آگے بڑھاتی ہے، یا بعض خواہشات اسے اندر ہی اندر کھوکھلا بھی کر دیتی ہیں؟ تصویر: آئی این این

انسان کے باطن میں ایسا خاموش کارخانہ مسلسل سرگرم رہتا ہے جہاں خواہشات جنم لیتی ہیں، بڑھتی ہیں اور پھر نئی شکلوں میں ڈھلتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ کسی ایک مرحلے پر رکتا نہیں ہے۔ بچپن کی سادہ تمناؤں سے لے کر جوانی کی پیچیدہ آرزوؤں تک، ہر دور میں انسان کچھ نہ کچھ چاہتا ہے، اور یہی چاہنا اس کا محرک بنتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر خواہش انسان کو آگے بڑھاتی ہے، یا بعض خواہشات اسے اندر ہی اندر کھوکھلا بھی کر دیتی ہیں؟ اگر خواہشات کا رخ درست نہ ہو تو یہی قوت انسان کیلئے بوجھ بن جاتی ہے۔
غور کیا جائے تو خواہش بذاتِ خود نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری؛ اس کی اصل حیثیت اس کے رخ سے متعین ہوتی ہے۔ ایک دریا اگر متوازن راستے پر بہے تو کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، اور اگر بےقابو ہو جائے تو بستیاں ڈبو دیتا ہے۔ اسی طرح خواہشات اگر نظم و ضبط کے دائرہ میں رہیں تو انسان کی تعمیر کرتی ہیں، اور اگر بےمہار ہو جائیں تو اس کی شخصیت کو منتشر کر دیتی ہیں۔ اس لئے اصل مسئلہ خواہشات کا وجود نہیں بلکہ ان کی سمت کا تعین ہے، اور یہی تعین انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن نے باطنی تضاد کو انسانی اخلاقی زوال کی ایک بڑی علامت قرار دیا ہے

یہ سمت خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ انسان کے ابتدائی ماحول میں خاموشی سے تشکیل پاتی ہے۔ ایک بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو وہ دنیا کو براہِ راست نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے ذریعے دیکھتا ہے۔ والدین کی ترجیحات، ان کا طرزِ زندگی اور ان کے فیصلے، یہ سب اس کے ذہن میں ایسے نقوش چھوڑتے ہیں جو بعد میں اس کی خواہشات کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ اگر گھر میں توازن، سادگی اور مقصدیت ہو تو خواہشات بھی ایک مہذب سانچے میں ڈھلتی ہیں، اور اگر ماحول میں بےسمتی ہو تو یہی کیفیت اس کے اندر سرایت کر جاتی ہے۔
اسی طرح صحبت کا اثر بھی ایک غیر محسوس مگر طاقتور عامل ہے۔ انسان بظاہر آزاد نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے ماحول سے گہرا اثر لیتا ہے۔ اگر اس کی نشست و برخاست ایسے لوگوں کے ساتھ ہو جو زندگی کو صرف فوری فائدے اور لذت کے زاویے سے دیکھتے ہیں تو اس کی خواہشات بھی اسی دائرہ میں سمٹ جاتی ہیں۔ لیکن اگر اس کا تعلق ایسے افراد سے ہو جو شعور، ذمہ داری اور مقصد کے ساتھ جینا جانتے ہوں تو اس کے اندر بھی وسیع النظری پیدا ہونے لگتی ہے۔ یوں انسان کی خواہشات ایک خام توانائی کی طرح ہیں جنہیں یا تو روشنی میں بدلا جا سکتا ہے یا وہی توانائی آگ بن کر سب کچھ جلا سکتی ہے۔
یہاں ایک ایسا متوازن نظام سامنے آتا ہے جو انسان کی خواہشات کو دبانے کے بجائے انہیں سمجھ کر اور ترتیب دے کر ایک اعلیٰ مقصد کے تابع کر دیتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد گھر میں رکھی جاتی ہے جہاں والدین کو محض نگہبان نہیں بلکہ معمار کا درجہ دیا گیا ہے۔ وہ صرف ضروریات پوری نہیں کرتے بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ ہر خواہش پوری کرنا ضروری نہیں اور ہر لذت حصول کے قابل نہیں ہوتی۔ یوں تربیت ایک ایسی فکری ساخت میں بدل جاتی ہے جو انسان کو ہر مرحلے پر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اخلاص کا ایک ذرّہ

گھر کے بعد تعلیم کا ایک ایسا دائرہ قائم کیا جاتا ہے جہاں انسان کو بنیادی رہنمائی دی جاتی ہے تاکہ وہ خود یہ پہچان سکے کہ کون سی خواہش اسے بلند کرتی ہے اور کون سی پست۔ یہ تعلیم محض معلومات نہیں بلکہ ایک داخلی بصیرت پیدا کرتی ہے، جس کے ذریعہ انسان اپنی خواہشات کو پرکھ سکتا ہے اور انہیں ایک منظم زندگی کے سانچے میں ڈھال سکتا ہے۔ یوں اسے ایک ایسا معیار مل جاتا ہے جو اس کے فیصلوں کو سمت دیتا ہے اور اسے خارجی دباؤ سے آزاد کر کے داخلی استحکام عطا کرتا ہے۔
اور جب انسان اس بنیاد پر کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کے سامنے ایک مکمل عملی نمونہ بھی آ جاتا ہے۔ ایسی شخصیت جس کی زندگی میں توازن، وقار، قوت اور رحم سب جمع ہوں۔ اس نمونے میں انسان یہ دیکھتا ہے کہ خواہشات کے ساتھ جینا کیسے ہے، کب انہیں روکا جائے، کب انہیں مہذب انداز میں پورا کیا جائے، اور کب ایک بڑے مقصد کیلئے قربان کر دیا جائے۔ جیسے ایک ماہر مالی درخت کی شاخوں کو کاٹتا نہیں بلکہ اس انداز سے تراشتا ہے کہ وہ زیادہ بارآور ہو جائیں، اسی طرح یہ رہنمائی انسان کے اندر کی قوتوں کو ضائع نہیں ہونے دیتی بلکہ انہیں ایک تعمیری رخ عطا کرتی ہے۔ یوں زندگی محض نظری گفتگو نہیں رہتی بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت بن جاتی ہے جسے اپنایا جا سکتا ہے۔
اسی حقیقت کو ایک واضح اصول کی صورت میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ انسان اس وقت تک اپنے ایمان کی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کی خواہشات ایک درست معیار کے تابع نہ ہو جائیں (مشکوٰۃ المصابیح: ۱۶۷) ۔ یہ ہدایت انسان کو دو انتہاؤں سے نکالتی ہے: ایک طرف خواہشات کی اندھی پیروی، اور دوسری طرف ان کا غیر فطری انکار۔ اس کے بجائے ایک ایسا راستہ دکھایا جاتا ہے جس میں خواہشات کو ایک منظم اور بامقصد سمت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صاحبو، ماہ ِرمضان گزرگیا، اب کیا؟

اس کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک طاقتور سواری اگر بغیر رہنمائی کے ہو تو اپنی ہی قوت کے باعث تباہی کا سبب بن سکتی ہے، لیکن اگر اسی قوت کو درست سمت مل جائے تو وہ منزل تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ انسان کی خواہشات بھی اسی طرح کی توانائی ہیں؛ اصل کمال انہیں ختم کرنا نہیں بلکہ ان کی رہنمائی کرنا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی بےترتیب خواہشات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک مربوط اور بامقصد سفر بن جاتی ہے۔ اس کے اندر اور باہر میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے، اس کے فیصلے منتشر نہیں رہتے بلکہ ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی خواہشات کا غلام نہیں رہتا بلکہ ان کا رہبر بن جاتاہے اور  اسی میں اس کی حقیقی تکمیل پوشیدہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK