اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو بڑےسے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے اور اگر نیت خالص ہو تو ایک ذرہ بھی آفتاب بن جاتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ انسان نیکی کے کسی بھی موقع کو معمولی سمجھ کر ضائع نہ کرے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں اخلاص کو پیشِ نظر رکھے۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 1:06 PM IST | Muhammad Jamil Akhtar Jalili | Mumbai
اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو بڑےسے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے اور اگر نیت خالص ہو تو ایک ذرہ بھی آفتاب بن جاتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ انسان نیکی کے کسی بھی موقع کو معمولی سمجھ کر ضائع نہ کرے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں اخلاص کو پیشِ نظر رکھے۔
کائناتِ ہست و بود میں انسانی نگاہ اکثر مظاہر کی ضخامت اور کثرت سے مرعوب ہو جاتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ہم نیکیوں کو مادی ترازوؤں میں تولنے کے عادی ہو چکے ہیں، ہماری محدود عقل کے نزدیک بڑی نیکی وہ ہے، جس کا چرچا زیادہ اور بلند ہو اور جس کا دائرہ وسیع ہو، جبکہ چھوٹی نیکی وہ سمجھی جاتی ہے، جسے زمانہ حقارت سے دیکھتا ہے؛ مگر بارگاہِ کبریا کے ضابطے اس دنیا کے پیمانوں سے یکسر مختلف ہیں،وہاں کمیت (Quantity) کی کثرت نہیں؛ بلکہ کیفیت (Quality) کی پاکیزگی کو وزن کیا جاتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اللہ کے حضور عمل کی ظاہری جسامت نہیں؛ بلکہ نیت کا نور اور دل کی سچائی معتبر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: صاحبو، ماہ ِرمضان گزرگیا، اب کیا؟
انسان بسا اوقات کسی عمل کو ایک معمولی جنبش سمجھ کر بھلا دیتا ہے؛ لیکن وہی عمل قدرتِ الٰہی کے ہاں نجات کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اسلام نے نیکی کے تصور کو چند رسمی عبادات تک محدود نہیں رکھا؛ بلکہ اسے زندگی کے ہر گوشے میں پھیلا دیا ہے، اسی لئےکسی رنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دینا بظاہر ایک ادنیٰ عمل ہے؛ لیکن اسی ایک لمحہ کے عوض میں جنت مل سکتی ہے۔ اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے یوں بیان فرمایا:’’تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا تمہارے لئے صدقہ ہے۔‘‘(سنن الترمذی) اسی طرح زندگی کی شاہراہ سے ایک کانٹا ہٹا دینا بھی بظاہر ایک معمولی سا کام ہے؛ لیکن یہی عمل ایمان کی ان شاخوں میں سے ہے، جو انسان کو جنت تک پہنچا دیتی ہیں۔ ایک پیاسے انسان یا جانور کو پانی کا ایک گھونٹ پلانا بھی ایسا عمل ہے، جسے اللہ تعالیٰ اس قدر پسند فرماتا ہے کہ اس کے سبب بندے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ قرآنِ حکیم اسی حقیقت کو ہمیشہ کیلئے محفوظ کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے: ’’پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘(سورہ الزلزال:۷) اس آیت میں اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اللہ کے ہاں کوئی ذرہ یعنی ادنیٰ سے ادنیٰ نیک عمل ضائع نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ اخلاص کی روشنی سے منور ہو۔
انسانی نفس اور شیطان کی ایک بڑی چال یہ ہے کہ وہ ہمیں چھوٹی نیکیوں کو حقیر سمجھنے پر آمادہ کر دیتے ہیں، انسان سوچنے لگتا ہے کہ اتنے سے قطرے سے کیا ہوگا؟ یا میری یہ معمولی کوشش اس وسیع دنیا میں کیا اثر دکھائے گی؟یہی سوچ دراصل مایوسی کا وہ پردہ ہے، جو انسان کو خیر کے بہت سے مواقع سے محروم کر دیتا ہے؛ حالاں کہ وہی رب، جس نے ایک دانۂ رائی سے تناور درخت پیدا کیے، وہ ایک چھوٹے سے عمل کو بھی عظیم بنا دینے پر قادر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عید الفطر روحانی جدوجہد اور بندگی کی تکمیل کا انعام
قیامت کے دن جب اعمال کے وزن پر نجات کا دارومدار ہوگاتو ممکن ہے وہی ایک پوشیدہ نیکی یا ندامت کا ایک آنسو،جو پلک کی نوک سے ٹپک کر مٹی میں جذب ہو گیا تھا،میزانِ عدل کو جھکا دے۔ درحقیقت نیکی کی اصل عظمت اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اس کے اخلاص میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی قبولیت کا معیار ظاہری نمود نہیں؛ بلکہ دل کا تقویٰ ہے؛ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا: ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘(سورۃ الحج: ۷۳) اسی طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو بڑےسے بڑا عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے اور اگر نیت خالص ہو تو ایک ذرہ بھی آفتاب بن جاتا ہے،لہٰذا ضروری ہے کہ انسان نیکی کے کسی بھی موقع کو معمولی سمجھ کر ضائع نہ کرے اور چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی اخلاص کو پیشِ نظر رکھے۔ ایک ایسی نیکی کی جائے، جسے دنیا نہ دیکھے؛ مگر اللہ کے ہاں وہ مقبول ہو، وہی خاموش عمل بندے اور اس کے رب کے درمیان ایسا مضبوط رشتہ قائم کر دیتا ہے، جسے زمانے کی کوئی آندھی کمزور نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیے، دنیا ظاہری مظاہر کی پرستار ہے، مگر اللہ دلوں کے بھیدوں کا نگہبان ہے۔ رب العالمین ہمیں نیکیوں کو حقیر سمجھنے کی اندھی نگاہ سے محفوظ فرمائے اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کو بھی اپنی رحمت کے سائے میں قبول فرمائےآمین!