اللہ رب العزت سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ قرآن پاک میں واضح طو ر پر فرمادیا گیا ہے: ’’اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو، اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 3:32 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi | Mumbai
اللہ رب العزت سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ قرآن پاک میں واضح طو ر پر فرمادیا گیا ہے: ’’اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو، اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
خلوت و جلوت میں اللہ رب العزت کا یکساں استحضار حقیقی مومن کی پہچان ہے۔ انسان کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنہا ہو، جب اسے دیکھنے والی کوئی انسانی آنکھ نہ ہو، جب اس کے عمل پر کوئی داد دینے والا اور ملامت کرنے والا موجود نہ ہو۔ لوگوں کے سامنے نیکی کرنا نسبتاً آسان ہے، مگر تنہائی میں بھی اپنے رب کے حضور جواب دہی کا احساس زندہ رکھنا ایمان کی پختگی کی علامت ہے۔ حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ انسان بازار میں بھی اللہ کو یاد رکھے اور اپنے کمرے کی خاموشی میں بھی؛ مجمع میں بھی اپنی نگاہ، زبان اور کردار کی حفاظت کرے اور تنہائی میں بھی۔ جس دل میں یہ یقین راسخ ہوجائے کہ میرا رب ہر حال میں میرے ساتھ ہے، وہاں خلوت گناہ کی آماج گاہ نہیں رہتی بلکہ عبادت، محاسبۂ نفس اور اللہ سے قرب کا مقام بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپ ؐ کا ازواجِ مطہرات کیساتھ سلوک : چند مثالیں پڑھئےاور اپنا محاسبہ کیجئے
قرآن و حدیث ہمیں بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو، اور اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ (سورۃ الحدید: ۴ ) ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ’’وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ (سورۃ غافر:۱۹) نبی کریمؐ نے احسان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ یقین ضرور رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) یہی احساس انسان کو خلوت میں بھی سنبھالتا ہے اور جلوت میں بھی پاکیزہ رکھتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کا معاملہ اللہ رب العزت کے حوالے سے لوگوں کے درمیان اور تنہائی میں بالکل الگ الگ ہوتا ہے۔ لوگوں کے سامنے ہم نیکی، شرافت، دیانت اور تقویٰ کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر جب تنہائی میسر آتی ہے تو نگاہوں کی حفاظت، زبان کی پاکیزگی اور دل کی پاکی کے سارے دعوے کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ یہ دراصل اللہ کے سامنے جری اور بندوں کے سامنے بزدل بننے کی ایک تلخ مثال ہے۔ ہمیں اس بات کا خوف رہتا ہے کہ اگر لوگوں نے ہماری کوئی غلطی دیکھ لی تو ہماری عزت مجروح ہوجائے گی، لیکن یہ احساس کمزور پڑ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہر خلوت، ہر نظر، ہر خیال اور ہر پوشیدہ عمل سے باخبر ہے۔ انسانوں سے چھپ جانا ممکن ہے، مگر اس ذات سے چھپنا ممکن نہیں جس کے علم سے دلوں کے راز بھی باہر نہیں۔
آج کے دور میں ہمارے لئے ایک بڑی پریشانی ڈیجیٹل تنہائی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جس میں انسان بظاہر اپنے کمرے میں اکیلا ہوتا ہے، مگر اس کے ہاتھ میں پوری دنیا موجود ہوتی ہے۔ موبائل کی ایک اسکرین کے پیچھے بے شمار مناظر، تصاویر، ویڈیوز،گفتگو اور مواقع اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کوئی والدین نہیں، کوئی استاد نہیں، کوئی دوست نہیں اور کوئی ایسا شخص نہیں جو اس کے عمل کو روک سکے۔ آج کا باشعور انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا سوراخ ہے جس میں انسان اگر بے احتیاطی سے جھانکتا رہے تو گہرائی میں گرتا چلا جاسکتا ہے۔ ابتدا میں صرف تجسس ہوتا ہے، پھر رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر عادت بنتی ہے اور بالآخر انسان کو احساس بھی نہیں رہتا کہ وہ کس سمت بڑھ رہا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا کی سب سے خطرناک بات یہی ہے کہ گناہ تک پہنچنے کے لئے قدم اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں؛ کبھی کبھی صرف ایک کلک کافی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تنازعات میں بہترین رویے کی جستجو
افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل تنہائی میں بے راہ روی کی شکایت ہر عمر اور ہر جماعت کے لوگوں سے ہے۔ نوجوان ہوں یا بڑی عمر کے افراد، طلبہ ہوں یا ملازمت پیشہ ، مرد ہوں یا خواتین، اگر اللہ کا خوف اور جواب دہی کا احساس کمزور ہوجائے تو یہ آزمائش کسی کو بھی اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ اس صورتِ حال سے ہمیں اندازہ کرنا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت میں رواں دواں ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسکرین پر کیا دیکھا جارہا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری خلوت میں اللہ کی نگرانی کا احساس کتنا زندہ ہے۔ جب انسان یہ سمجھنے لگے کہ بند دروازہ اسے ہر نگاہ سے محفوظ کر دیتا ہے تو پھر گناہ کے لئے راستہ کھل جاتا ہے۔ لیکن اگر دل میں یہ یقین موجود ہو کہ دروازے بند ہوسکتے ہیں، انسانوں کی نگاہیں ہٹ سکتی ہیں، مگر اللہ کی نگاہ سے کچھ بھی اوجھل نہیں، تو یہی یقین انسان کے لئے مضبوط ترین حفاظتی دیوار بن جاتا ہے۔
اگر ہم صرف اس ایک آیت کو ہمیشہ اپنے ذہن میں حاضر رکھیں تو شاید ہماری بہت سی لغزشیں ختم ہو جائیں: ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اﷲ (اس کے سارے کردار کو) دیکھ رہا ہے۔‘‘(سورۃ العلق:۱۴)
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہم اللہ کی یاد کی لذت سے آشنا ہوجائیں تو ہماری خلوت و جلوت یکساں ہوجائے گی۔ جس دل کو تنہائی میں اپنے رب کے ساتھ بات کرنے، اسے یاد کرنے، اس کے سامنے جھکنے اور اس سے اپنے حال کا شکوہ کرنے میں سکون ملنے لگے، اسے گناہ کی مصنوعی لذت زیادہ دیر اپنی طرف متوجہ نہیں رکھ سکتی۔ پھر انسان لوگوں کی نگاہ سے نہیں، اپنے رب کی رضا سے اپنی زندگی کو ناپتا ہے۔ اسے تنہائی میں بھی وہی حیا محسوس ہوتی ہے جو مجمع میں، وہی زبان کی حفاظت ہوتی ہے جو لوگوں کے سامنے، وہی نگاہ کی پاکیزگی ہوتی ہے جو سب کے درمیان۔ یہی ایمان کی خوبصورتی اور تقویٰ کی معراج ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے صرف یہ سوال کرنا ہے:’’جب دنیا کی کوئی آنکھ مجھے نہیں دیکھ رہی ہوتی، تب میں کون ہوتا ہوں؟‘‘کیونکہ شاید ہماری اصل شخصیت وہی ہے جو تنہائی میں سامنے آتی ہے۔ اور جب وہ تنہائی اللہ کی یاد سے آباد ہوجائے، تو انسان کی پوری زندگی عبادت بن جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دنیا ایک طاقت بھی بشرطیکہ درست استعمال ہو
ایک اہم نکتہ ذہن میں رکھئے کہ ڈیجیٹل دنیا جہاں تخریب کا ذریعہ ہے، وہیں تعمیر کا بھی ایک بڑا وسیلہ ہے۔ یہی موبائل جس کے ذریعے انسان اپنی نگاہوں اور دل کو آلودہ کرسکتا ہے، اسی کے ذریعے قرآن سیکھ سکتا ہے، علم حاصل کرسکتا ہے، کسی ضرورت مند کی مدد کرسکتا ہے، دین کی صحیح بات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے، اپنے وقت کو مفید بنا سکتا ہے اور حلال معاش کے نئے راستے تلاش کرسکتا ہے۔ آج ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر کے لوگوں تک خیر کی بات پہنچا سکتا ہے، اپنی صلاحیت کو استعمال کرکے جائز روزگار حاصل کرسکتا ہے اور علم و ہنر کے ایسے دروازے کھول سکتا ہے جو چند دہائیاں پہلے تصور میں بھی نہیں تھے۔
لہٰذا مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، ہمارا انتخاب اور ہمارا استعمال ہے۔ چاقو سے پھل بھی کاٹا جاسکتا ہے اور کسی کو زخمی بھی کیا جاسکتا ہے؛ اسی طرح ڈیجیٹل دنیا بھی ہمارے ہاتھ میں ایک طاقت ہے۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اسے اپنی آخرت سنوارنے کا ذریعہ بناتے ہیں یا اپنی تباہی کا راستہ۔