Inquilab Logo Happiest Places to Work

بعثت ِ رسولؐ کی حکمت سورۂ جمعہ کی روشنی میں سمجھئے!

Updated: July 17, 2026, 3:29 PM IST | Syed Abul A`la Maududi | Mumbai

یہودیوں کا کہنا تھا کہ محمدؐ نبی کیسے ہوسکتے ہیں، نہ ہمارے سوا کسی قوم میں رسول آسکتا ہے اور نہ ہمارے سوا کسی قوم میں اللہ کی کتاب آسکتی ہے۔ ان کے اسی زعم ِ باطل کو توڑنے کیلئے فرمایاگیا کہ محمدؐ کو مبعوث کرنے والا اللہ ہے۔

One should continue to pray for the love of the Holy Prophet (PBUH), obedience to him, and following his example, that is where success lies. Photo: INN
نبی کریم ﷺ سے محبت ،آپ ؐ کی اطاعت اور آپؐ کے اسوہ پر چلنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے، اسی میں کامیابی ہے۔ تصویر: آئی این این

’’وہی ہے جس نے اُمّیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں  اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ اور (اس رسولؐ کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔‘‘ (الجمعہ:۲)

فرمایا گیا کہ اللہ نے اُمّیوں کے درمیان انہی میں سے ایک رسولؐ کو مبعوث کیا۔ یہودی تمام غیریہودی لوگوں کو gentile کہا کرتے تھے۔ عربی زبان میں اسی مفہوم کو اُمّی کا لفظ ادا کرتا ہے۔ اس کے معنی صرف اَن پڑھ کے نہیں، بلکہ یہودیوں کے ہاں اس کے معنی یہ تھے کہ سارے عرب جاہل ہیں، وحشی اور ناشائستہ ہیں، غیرمہذب ہیں اور اس قابل نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ مہذب انسانوں کا سا برتائو کیا جائے۔ یہودیوں کا یہ تصور دنیا کے تمام غیریہودی لوگوں کے لئے تھا اور اسی بنا پر ان کا یہ قول تھا کہ لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْل (جسے قرآن مجید نے نقل کیا ہے)، یعنی اُمّیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ ہم ان کا مال کھائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ان کے ہاں یہودی عدالتوں میں جو قوانین نافذ تھے، ان کے اندر ایک یہودی کے حقوق اور اُمّی کے حقوق الگ الگ رکھے گئے تھے۔ اگر یہودی کسی اُمّی کا مال چرا لے تواس کے لیے قانون اور تھا، اور اگر کوئی اُمّی یہودی کا مال چرا لے تو اس کے لیے قانون اور تھا۔ ایک اُمّی دوسرے اُمّی کا مال چرائے تو اس کے لئے قانون اور تھا۔ لیکن اگر یہودی، یہودی کا مال چرائے تو اس کے لئے قانون اَور تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’وقت اطاعت میں گزرے تو با برکت ورنہ انسان اور معاشرہ کیلئے باعث ِ نحوست ہے‘‘

 یہ ان کے تصورات تھے۔ قرآن میں یہ بات یہودیوں کے اسی طرزِعمل کے بارے میں آئی ہے۔ اسی خودساختہ تفوق کی وجہ سے یہودیوں کا یہ کہنا تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نبی کیسے ہوسکتے ہیں… کہاں یہ اُمّی قوم اور کہاں یہ نبوت اور عالم گیر ہدایت کا مقام۔ یہ شخص رسول ہو ہی نہیں سکتا، نہ ہمارے سوا کسی قوم میں رسول آسکتا ہے اور نہ ہمارے سوا کسی قوم میں اللہ کی کتاب آسکتی ہے۔ یہ ان کے غرور کا حال تھا اور اسی غرور کی بناپر وہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت ماننے کو تیار نہیں تھے۔

ان کے اسی زعمِ باطل کو توڑنے کے لئے فرمایاگیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرنے والا اللہ ہے۔ وہ بادشاہ ہے اور عزیز ہے، اس کو یہ اقتدارِاعلیٰ حاصل ہے اور وہی یہ اختیار رکھتا ہے کہ جہاں چاہے اپنا رسول بھیجے اور جس کو چاہے اپنا رسول بنائے۔ تم نہیں مانو گے تو اپنی شامت بلائوگے۔ تم اس کے حکم اور فیصلے کو جھٹلاکر اس کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ وہ قُدوس ہے اور ایسا بادشاہ ہے جو غلطی سے مبّرا ہے۔ اس نے اگر اُمیوں میں رسول بھیجا ہے تو کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ تم نہیں مان رہے ہو تو تم غلطی کر رہے ہو۔ وہ زبردست ہے اور اس کی مزاحمت تم نہیں کرسکتے۔ جس رسول کو اس نے بھیجا ہے اس کی رسالت چلے گی تمہاری مزاحمت نہیں چلے گی۔ وہ زبردست ہے اور   اس کے ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس نے یہ کام حکمت کے ساتھ کیا ہے، نادانی کے ساتھ نہیں کیا ہے۔  اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ وہ بادشاہ اور عزیز ہے۔ اس کے فیصلے کی مزاحمت نہیں کی جاسکتی اور یہ سراسر اس کی حکمت ہے کہ اس نے  اُمیوں  کے اندر یہ رسولؐ پیدا کیا ہے۔

اب آگے اس حکمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا جس کی بنا پر یہ رسول بھیجا گیا۔ وہ حکمت یہ ہے کہ یہ قوم اس سے پہلے ضلالت میں پڑی ہوئی تھی مگر ہمارے رسولؐ کی آمد کے بعد تم دیکھ لو کہ اب اس کا کیا حال ہے: ’’ ہمارا رسولؐ ان کو    اللہ تعالیٰ کی آیات سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے۔ وہ ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: رہائش،خورد ونوش،لباس اور بیوی کی دیگر جائز واجبی ضروریات کا پورا کرنا شوہر کی شرعی ذمے داری ہے

تلاوتِ آیات

اللہ تعالیٰ کی آیات سنانے سے مراد یہ ہے کہ وہ انہیں قرآن سنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ان کا تزکیہ کرتا ہے، یعنی ان کے دلوں میں اخلاص کی صفت کو پروان چڑھا رہا ہے۔ ان کا بگڑا ہوا تمدن، ان کی بگڑی ہوئی معاشرت اور ان کی زندگی کا بُرا ہنجار، ان سب چیزوں کو وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے درست کر رہا ہے۔ یہ اُمّی قوم جس ضلالت میں پڑی ہوئی تھی وہ بھی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے، اور جن لوگوں نے اس نبیؐ سے آیاتِ الٰہی کو سن کر اپنی اصلاح کی اور اس کے تزکیے سے فائدہ اٹھایا وہ بھی تمہارے سامنے ہیں۔ ان کے اخلاق بھی تمہارے سامنے ہیں اور ان کے معاملات بھی تمہارے سامنے ہیں۔ اس طرح ان کا جو تزکیہ اس وقت اللہ کے رسولؐ کررہے تھے، وہ اندھے کو بھی نظرآرہا تھا۔ اس رسولؐ کی بعثت سے پہلے جاہلیت کی سوسائٹی کی جو کیفیت تھی، اور اس معاشرے میں، جو اَب اللہ کے رسولؐ کی تربیت سے قائم ہورہا تھا، دونوں میں جو فرق واقع ہوا ہے، وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔

تزکیہ و تربیت

تزکیہ کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کے اندر جو برائیاں ہیں ان کو دُور کیا جائے اور جو بھلائیاں ہیں ان کو نشوونما دی جائے۔ اس طرح تزکیہ کا کام دوہرا کام ہے، برائیوں کو دُور کرنا اور بھلائیوں کو ترقی دینا۔ یہ دونوں کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و رہنمائی کے تحت آیاتِ الٰہی کی تعلیمات کے مطابق اس وقت علانیہ ہو رہے تھے۔ ان کی تفصیل بیان کرنے کی حاجت نہیں تھی۔ صرف یہ بتانا کافی تھا کہ دیکھو ہمارا رسول لوگوں کو فقط آیات الٰہی ہی نہیں سنا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کا تزکیہ بھی کر رہا ہے۔

حکمت ِ دین

اس کے بعد فرمایا:  ’’وہ ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ (۲) یہاں الکتاب کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ تمام کتب ِ آسمانی کے مجموعے کے لئے بولا جاتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی کتابیں آئی ہیں وہ قرآنِ مجید کی زبان میں الکتاب ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ ایک ہی کتاب ہے جس کے بہت سے ایڈیشن بہت سی زبانوں میں آتے رہے ہیں۔ یہ سب کتابیں ایک ہی تعلیم اور ایک ہی ہدایت لے کر آئی تھیں۔

 اس طرح لفظ الکتاب کے استعمال سے مقصود یہاں یہودیوں کو یہ بتانا تھا کہ ہمارا رسول کوئی نئی اور نرالی چیز لے کر نہیں آیا ہے بلکہ آدم ؑ کے وقت سے لے کر اس وقت تک، یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک جتنی کتب ِآسمانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہیں، ان سب کا علم وہ اس قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو دے رہا ہے۔

جو شخص بھی کتب ِ آسمانی سے واقفیت رکھتا ہو وہ بڑی آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتا ہے، اور آج بھی یہود و نصاریٰ اس بات کو مانتے ہیں، لیکن وہ یہ بات ایک دوسری زبان میں کہتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ اس بات کو مانیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہی تعلیم لے کر آئے جو تمام انبیاء کی تعلیم تھی، وہ اس کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سب کچھ یہود و نصاریٰ سے چرایا ہے اور اب اسے اپنی طرف سے پیش کر رہے ہیں۔ اس طرح اس بات کو نہیں مانتے کہ جو کچھ اسلام میں ہے وہ وہی کچھ ہے کہ جو تمام انبیا علیہم السلام اور تمام کتب ِ آسمانی کی تعلیمات ہیں۔ چنانچہ یہاں بیان فرمایا گیا کہ یہ اُمّی قوم جس کو کبھی کتب ِ آسمانی کی ہوا نہیں لگی تھی ان کا علم اب اس کو اس نبیؐ کے ذریعے سے حاصل ہو رہاہے۔ اس قوم کے اندر وہی تعلیم پھیل رہی ہے جو ساری کتب ِآسمانی لے کر آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام نے کم سنی کے نکاح کی ترغیب نہیں دی، لیکن مصلحتوں کی گنجائش بھی رکھی ہے

اس کے بعد چوتھی چیز یہ بتائی گئی ہے کہ ہمارا رسولؐ ان لوگوں کو حکمت کی تعلیم دے رہا ہے۔ حکمت کی تعلیم کے معنی یہ ہیں کہ کسی قوم میں یہ دانائی پیدا ہوجائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات کے مطابق زندگی کے معاملات کو چلانے کے قابل ہوجائے۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت آتی ہے وہ تفصیلات (Details) میں نہیں آتی، وہ جزئیات کے بجائے کلیات اور اصول پیش کرتی ہے۔ تاہم، بعض بڑے بڑے اہم معاملات میں جزئی احکام اس غرض کے لیے دیتی ہے تاکہ نشاناتِ راہ متعین ہوجائیں۔ اب جو چیز آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کتب ِ آسمانی کی ہدایات سے اصول اور کلیات اور قواعد کو سمجھ کر کے روزمرہ زندگی میں پیش آمدہ معاملات کے اُوپر ان کا انطباق کرے اور یہ معلوم کرے کہ ان معاملات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی ہدایات کے مطابق صحیح طرزِعمل کیا ہونا چاہیے، کیا چیز غلط ہے اور کیا چیز صحیح ہے، یہ وہ حکمت ہے جو کسی قوم کو صرف باقاعدہ تعلیم و تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تعلیم و تربیت سے ایک قوم اس قابل ہوسکتی ہے کہ جس وقت بھی اس کے سامنے دنیا کا کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اس کے بارے میں خدا کی کتاب کی ہدایات اور اس کے رسولؐ کی سنت کو سامنے رکھ کر فوراً یہ راے قائم کرلے کہ اس معاملے میں جو کئی مختلف طریق کار ہوسکتے ہیں ان میں سے کون سا طریقِ کار ایسا ہے جو دین الٰہی کے مزاج کے مطابق ہے اور کون سا طریق کار اس کے مطابق نہیں ہے۔

یہ وہ حکمت ہے جو اللہ کے رسولؐ نے مسلمانوں کو سکھائی تھی اور یہ اسی حکمت کا یہ نتیجہ تھا کہ اللہ کے رسول ؐ  کے بعد اس اُمّی قوم کے یہ صحابہ کرامؓ جنھوں نے کسی کالج یا یونی ورسٹی میں تعلیم نہیں پائی تھی، ان میں سے بہت سے تو کتاب خواں بھی نہیں تھے، لیکن یہ لوگ دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کے حکمراں بنے اور اتنی بڑی سلطنت کے جو عظیم الشان اور ہمہ پہلو مسائل ان کو پیش آئے ان سب کو انھوں نے کتابِ الٰہی اور رسولؐ  کی سنت کے اصولوں کے مطابق حل کر کے اور چلا کر دکھایا۔ یہ وہی حکمت تھی جو رسول ؐ نے ان کو سکھائی تھی۔ اللہ کے رسولؐ  نے اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعہ  روحِ اسلامی ان کے اندر اُتار دی تھی کہ جس کی بدولت زندگی کے معاملات انہوں نے بے تکلف ان کا حل معلوم کرلیا۔

اسی لئے فرمایا گیا کہ یہ اُسی کی حکمت ہے کہ اس نے ایک اُمّی قوم کے اندر اپنے رسولؐ کو بھیجا اور اس رسولؐ سے یہ کام لیا، جبکہ اس اُمّی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ کھلی گمراہی میں پڑی ہوئی تھی۔ علم و دانش سے بہرہ وَر ہر شخص ایک نظر میں اس قوم کو دیکھ کر یہ معلوم کرسکتا تھا کہ یہ قوم سخت گمراہی میں ہے لیکن اُسی قوم کو اللہ نے اس نبی کے ذریعہ تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے مہذب اور غالب و حکمراں بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: کہانی، بچے کی شخصیت میں اعلیٰ اقدار کے پودے اگاتی ہے،ماضی و حال سے اس کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہے

سورہ ٔ جمعہ

سورۂ جمعہ مدنی ہے اور اس کے دو رکوع ہیں۔ پہلے رکوع کے مخاطب یہودی ہیں، جب کہ دوسرے رکوع کے مخاطب مسلمان ہیں۔ دونوں رکوعوں کا زمانۂ نزول مختلف ہے لیکن ایک حکمت کے تحت ان کو ایک ہی سورت میں یک جا کردیا گیا ہے۔ پہلا رکوع فتحِ خیبر (۷ ہجری) کے بعد کسی وقت نازل ہوا، جب کہ دوسرا رکوع ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے میں نازل ہوا۔

اس سورہ میں مسلمانوں کے ایک گروہ کی ایک کوتاہی پر گرفت کی گئی ہے جس کا ظہور ان کی طرف سے نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران میں ہوا۔ یہ واقعہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے میں پیش آیا۔ نمازِ جمعہ اللہ کے رسولؐ  کے مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعدہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قائم کر دی گئی تھی اور جس واقعے کی طرف اس میں اشارہ کیا گیا ہے، وہ بھی ہجرت کے بعد ابتدائی زمانے میں پیش آیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK