خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی جہاز رانی کے راستوں میں خلل کے خدشات کے پیشِ نظر اٹھائے گئے اس مشن کو ٹرمپ نے ”انسانی ہمدردی کا اقدام“ قرار دیا۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 4:07 PM IST | Washington/Tehran/Islamabad
خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی جہاز رانی کے راستوں میں خلل کے خدشات کے پیشِ نظر اٹھائے گئے اس مشن کو ٹرمپ نے ”انسانی ہمدردی کا اقدام“ قرار دیا۔ تہران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ”پروجیکٹ فریڈم“ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی بحری افواج ۴ مئی سے غیر جانبدار غیر ملکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکالنے کا آغاز کریں گی۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی جہاز رانی کے راستوں میں خلل کے خدشات کے پیشِ نظر اٹھائے گئے اس مشن کو ٹرمپ نے ”انسانی ہمدردی کا اقدام“ قرار دیا۔
امریکی صدر نے بیان دیا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے کئی جہازوں کے پاس ضروری اشیاء کی کمی ہو رہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے تنازع کے خاتمے کیلئے ایران کی حالیہ ۱۴ نکاتی تجویز کا جائزہ لیا ہے لیکن اسے ”ناقابلِ قبول“ پایا ہے۔ تجویز مسترد کرنے کے باوجود واشنگٹن نے جواب میں معاہدے کا ترمیمی مسودہ جمع کرایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ کو مشورہ:’’ناممکن جنگ یا برے معاہدے میں کسی ایک کا انتخاب کریں‘‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے پروجیکٹ فریڈم کی حمایت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دفاعی مشن قرار دیا جس کا مقصد دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔ کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ اس تعیناتی میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، ۱۰۰ سے زائد طیارے اور تقریباً ۱۵ ہزار اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ”علاقائی سلامتی کیلئے اس دفاعی مشن کی ہماری حمایت ناگزیر ہے۔“
یہ اعلان برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی ان رپورٹس کے ساتھ سامنے آیا ہے جن کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ سے تقریباً ۱۲۵ کلومیٹر شمال میں ایک ٹینکر پر نامعلوم گولہ باری کی گئی۔ اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس واقعے نے خطے میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کیلئے نیا قانون بنانے کا اعلان
ایران کی سخت وارننگ؛ امریکی کردار جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے
تہران نے واشنگٹن کے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی۔ ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ کسی بھی امریکی مداخلت کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک گزرگاہ کا انتظام امریکی فیصلوں یا عوامی بیانات کے مطابق نہیں ہوگا۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں تیزی
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے گفتگو کی۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، بات چیت کا محور واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی تھا۔
یہ بھی پڑھئے: چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کے تعلق سے ایران اور امریکہ دونوں کو نصیحت
عراقچی نے اسلام آباد کے ”تعمیری“ ثالثی کردار کی تعریف کی جبکہ ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مذاکرات ہی پائیدار امن کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔ پاکستان نے اس سے قبل اپریل میں مذاکرات کے ابتدائی ادوار کی میزبانی کی تھی، جو کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ ایران اس وقت اپنی تجویز پر امریکی ردِعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے اور اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتا ہے۔