Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظاہری و باطنی طہارت دونوں لازمی مگر طریقے الگ

Updated: April 24, 2026, 4:48 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

ہر انسان کا ظاہر بھی ہوتا ہے اور باطن بھی۔ ظاہر کو ہر شخص جانتا ہے اور اس پر محنت بھی کرتا ہے مگر کم ہی لوگ ہیں جو باطن کی فکر کرتے ہیں اور اسے سجانے سنوارنے پر توانائی صرف کرتے ہیں۔

When the heart connects with a center, its decisions also become clear. Photo: INN
جب دل ایک مرکز کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اس کے فیصلے بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

انسان کی ساخت میں ایک عجیب توازن رکھا گیا ہے۔ اس کا جسم مٹی سے جڑا ہے، اس لئے اس کی صفائی بھی مادی ذرائع سے ممکن ہے۔ اگر بدن پر ظاہری آلودگی لگ جائے تو پانی کا ایک سادہ سا بہاؤ اسے دھو دیتا ہے۔ اگر جسم سستی اور جمود کا شکار ہو جائے تو محنت اور پسینہ اس میں نئی زندگی دوڑا دیتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہر سطح کی گندگی کا ایک مناسب علاج رکھا گیا ہے اور جہاں آلودگی ظاہر ہو، وہیں سے اس کی صفائی کا راستہ بھی نکلتا ہے۔

لیکن انسان صرف جسم کا نام نہیں۔ اس کے اندر ایک اور جہان آباد ہے جو نظر نہیں آتا، مگر اثرات میں کہیں زیادہ گہرا ہے۔ وہاں بھی میل جمع ہوتا ہے، خیالات کی صورت میں، نیتوں کی صورت میں، اور ان خاموش بوجھوں کی صورت میں جو دل پر آہستہ آہستہ جم جاتے ہیں۔ اس اندرونی آلودگی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ باہر سے نظر نہیں آتی، اس لئے اکثر انسان خود بھی اس سے بے خبر رہتا ہے۔ البتہ اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں: بے سکونی، بے مقصدیت، اور وہ خالی پن جسے کوئی ظاہری آسائش بھر نہیں پاتی۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام میں ’’پورے کے پورے‘‘ داخل ہونے کا حکم اور ہمارا طرز ِ عمل

جس طرح جسم کی صفائی کے لئے پانی ضروری ہے، اسی طرح دل کی صفائی کے لئے بھی ایک خاص ذریعہ رکھا گیا ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں کو مان کر تنہائی میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، اور اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے اندر کی سختی کو پگھلا دیتے ہیں، تو گویا ایک خاموش غسل ہوتا ہے، ایسا غسل جو ظاہر نہیں ہوتا مگر اندر کی گرد کو بہا لے جاتا ہے۔ یہ عمل محض ایک جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک گہرا داخلی نظم ہے جس میں انسان اپنے بوجھ کو اتار کر ہلکا ہو جاتا ہے۔

اسی اصول کو اگر وسیع تر انداز میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بقا اور توازن ہمیشہ تغذیہ اور محنت کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ جسم کو اگر مناسب غذا نہ ملے تو وہ کمزور پڑ جاتا ہے، اور اگر حرکت نہ ہو تو وہ بیکار ہو جاتا ہے۔ یہی حال اندرونی زندگی کا بھی ہے۔ اگر اسے مسلسل صحیح فکر، درست رہنمائی اور یادِ الٰہی جیسی غذا نہ ملے، تو وہ پژمردہ ہو جاتی ہے۔ اور اگر اسے آزمائشوں، محاسبے اور ضبط کے عمل سے نہ گزارا جائے، تو وہ سطحی ہو جاتی ہے۔جیسے جسمانی غذا میں توازن ضروری ہے،زیادتی بھی نقصان دہ اور کمی بھی، ویسے ہی اندرونی غذا میں بھی اعتدال شرط ہے۔ نہ صرف یہ کہ انسان کو سچائی کی تلاش کرنی چاہیے، بلکہ اسے اس تلاش کو اپنی زندگی میں اس طرح شامل کرنا چاہئے کہ وہ اس کے عمل، اس کے رویے اور اس کے فیصلوں میں جھلکنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر سکون پیدا ہوتا ہے، اور اس کا ذہن اور دل ایک ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی دونوں جہتوں کا خیال رکھے۔ وہ نہ صرف اپنے جسم کو صاف اور توانا رکھے بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو بھی سنوارے۔

یہ بھی پڑھئے: خداوند قدوس نے آپؐ کو بڑی متاثر کن نرم گفتاری اور دانائی عطا فرمائی تھی!

دن اور رات کے ہنگاموں کے بیچ ایک ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب دنیا کی آوازیں خودبخود مدھم ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہر شے اپنی جگہ ٹھہر سی جاتی ہے، اور انسان اپنے آپ کے زیادہ قریب آ جاتا ہے۔ نیند اپنی پوری شدت کے ساتھ بلاتی ہے، جسم آرام کا تقاضا کرتا ہے، اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب انسان کا انتخاب اس کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ اس سکون کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہو، اور اپنے رب کے سامنے جھک جائے، تو یہ محض ایک عمل نہیں رہتا بلکہ اپنے نفس کو اس کے مقام سے ہٹا کر ایک اعلیٰ مقام پر رکھنے کی کوشش بن جاتا ہے۔

ایسے لمحے میں کی گئی گفتگو عام گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ وہ باتیں ہوتی ہیں جو دن کے شور میں زبان تک نہیں آ پاتیں۔ جب انسان اپنے گناہوں کو مان کر معافی طلب کرتا ہے، اپنی الجھنوں کو بیان کرتا ہے اور اپنی ضروریات پیش کرتا ہے، تو دراصل وہ اپنے اندر کے بوجھ کو لفظوں میں ڈھال کر ایک ایسے دروازے پر رکھ دیتا ہے جہاں سے کبھی ناامیدی واپس نہیں آتی۔ اس عمل میں ایک عجب سادگی ہے، نہ کوئی دکھاوا نہ کوئی بناوٹ، صرف ایک عاجز بندہ اور اس کا رب۔

یہی وہ کیفیت ہے جو اندر کی سختی کو نرم کرتی ہے۔ جس طرح پانی کی ایک نرم دھار پتھر کو بھی گھِس دیتی ہے، اسی طرح یہ خاموش لمحے دل کی تہوں میں جمی ہوئی گرد کو آہستہ آہستہ ہٹا دیتے ہیں۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ ہلکا ہو رہا ہے، اس کے اندر تازگی جنم لے رہی ہے۔ یہ تازگی وقتی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اثرات اس کے دن بھر کے رویے، سوچ اور فیصلوں میں نظر آنے لگتے ہیں۔

اگر اسے ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو یہ وقت دراصل اندرونی غذا کا سب سے خالص ذریعہ ہے۔ جس طرح خالص غذا جسم کو قوت دیتی ہے، ویسے ہی یہ خاموش ملاقات روح کو ایک ایسی توانائی دیتی ہے جو اسے بکھرنے نہیں دیتی۔ یہ وہ لمحے ہیں جن میں انسان کی توجہ بکھراؤ سے ہٹ کر یکسوئی میں بدلتی ہے، اور یہی یکسوئی اس کے اندر استحکام پیدا کرتی ہے۔ جب دل ایک مرکز کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اس کے فیصلے بھی واضح ہو جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک خاص سمت پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حج کی حقیقی جہت یہ ہے کہ دل کی دُنیا میں حرم ِ بندگی کی تشکیل ہو!

پھر آہستہ آہستہ یہی لمحے عادت بن جاتے ہیں، اور عادت سے بڑھ کر ایک ضرورت۔ جو لوگ اس وقت کو پا لیتے ہیں، ان کے لئے یہ محض عبادت نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی پناہ گاہ بن جاتی ہے جہاں وہ خود کو دوبارہ سنوارتے ہیں۔ ان کی سوچ میں گہرائی آتی ہے، ان کے اندر محبت کا ایک خاموش دریا بہنے لگتا ہے، اور وہ زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگتے ہیں ، یہ ایسا زاویہ ہوتا ہے جہاں سب کچھ ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔آخرکار، یہی تسلسل انسان کو بدل دیتا ہے۔ وہ محبت جو پہلے بکھری ہوئی تھی، ایک سمت اختیار کر لیتی ہے۔ دل کی وابستگیاں سمٹ کر ایک اعلیٰ تعلق میں ڈھل جاتی ہیں، اور انسان کی زندگی ایک ایسی ہم آہنگی کا نمونہ بن جاتی ہے جہاں اس کا ظاہر اور باطن ایک ہی روشنی سے منور ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان نہ صرف سکون پاتا ہے بلکہ ایک ایسی معنویت بھی حاصل کرتا ہے جو اسے باقی تمام چیزوں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK