قرآنِ مجید نے مایوسی کو ایک غلط ذہنی رویہ قرار دیا ہے اور اسے حقیقت کے ادراک سے دوری کا نتیجہ بتایا ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 4:55 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai
قرآنِ مجید نے مایوسی کو ایک غلط ذہنی رویہ قرار دیا ہے اور اسے حقیقت کے ادراک سے دوری کا نتیجہ بتایا ہے۔
انسانی زندگی کی بنیاد امید پر قائم ہے۔ امید ہی وہ قوت ہے جو انسان کو تاریکیوں میں بھی روشنی دکھاتی ہے، ناکامیوں کے باوجود کھڑا رکھتی ہے اور مشکلات کے طوفان میں بھی اسے بہنے نہیں دیتی۔ جب انسان کے دل میں امید زندہ ہوتی ہے تو وہ کمزور ہوتے ہوئے بھی مضبوط ہوتا ہے، اور جب امید بجھ جاتی ہے تو وہ طاقتور ہوتے ہوئے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی کیفیت جب انسان کے باطن پر غالب آ جائے تو اسے مایوسی کہا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے مایوسی کو محض ایک نفسیاتی کمزوری نہیں بلکہ ایک خطرناک روحانی انحراف قرار دیا ہے، کیونکہ یہ انسان کو عمل سے، دعا سے اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ظاہری و باطنی طہارت دونوں لازمی مگر طریقے الگ
مایوسی دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان مستقبل کے بارے میں منفی تاثر قائم کر لیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے، اس کی کوششیں بے سود ہیں اور اس کی زندگی میں بہتری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہی کیفیت انسان کے اندر سے عمل کی قوت کو ختم کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو اس خطرناک کیفیت سے نکالنے کیلئے بار بار امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (الزمر:۵۳)
اللہ رب العزت نے امید کا سب سے بڑا پیغام دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو اپنی زندگی میں بہت آگے بڑھ چکے ہوں، انہیں بھی مایوسی سے روکا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں، اس کو دل میں جگہ دینا قطعی مناسب نہیں کیونکہ اللہ کی رحمت ہر حال میں موجود ہے۔
قرآنِ مجید نے مایوسی کو ایک غلط ذہنی رویہ قرار دیا ہے اور اسے حقیقت کے ادراک سے دوری کا نتیجہ بتایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ’’بے شک، اللہ کی رحمت سے صرف وہی لوگ مایوس ہوتے ہیں جو انکار کرنے والے ہیں۔ ‘‘ (یوسف:۸۷) یہ آیت مایوسی کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ کیفیت انسان کو اللہ کی صفات سے بدگمانی تک پہنچا سکتی ہے۔ مایوسی دراصل اللہ کی قدرت، اس کی رحمت اور اس کی حکمت پر عدمِ اعتماد کا نام ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام میں ’’پورے کے پورے‘‘ داخل ہونے کا حکم اور ہمارا طرز ِ عمل
حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی مایوسی کے مقابلے میں امید کی ایک عظیم مثال ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کی جدائی میں شدید رنج و غم برداشت کیا مگر امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: ’’ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔‘‘ (یوسف:۸۷) یہ جملہ انسانی تاریخ کا ایک ابدی پیغام ہے کہ شدید ترین حالات میں بھی امید کو زندہ رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ قرآنِ مجید نے انسانی فطرت کے ایک کمزور پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: ’’اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے۔‘‘ (الاسراء:۸۳)
یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان مشکل کے وقت جلدی ہمت ہار دیتا ہے، اس کا صبر کمزور ہو جاتا ہے اور وہ امید کھو دیتا ہے۔یہ اس کی فطرت ہے مگر اس پر قابو ضروری ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے مایوسی کو Hopelessness کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان کو مستقبل تاریک نظر آتا ہے اور وہ اپنی زندگی پر کنٹرول کھو دیتا ہے۔ یہ کیفیت اکثر انسان کو ڈپریشن کی طرف لے جاتی ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنے حالات بلکہ اپنی ذات کے بارے میں بھی منفی خیالات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ علم نفسیات میں ایک اور تھیوری ہے Learned Helplessness کی۔ یہ ایک اہم نفسیاتی نظریہ ہے۔ اس کے مطابق جب انسان بار بار ناکامی یا مشکلات کا سامنا کرتا ہے تو یہ غلط، بے بنیاد اور منفی رائے قائم کرلیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا جبکہ وہ کرسکتا ہے اور بہت کچھ کرسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ کوشش چھوڑ دیتا ہے، چاہے حالات بدلنے کا کتنا ہی امکان موجود ہو۔
یہ بھی پڑھئے: آئیے، ہم اپنی اصلاح کیلئے خود ایسی کوشش کریں جس میں کامیاب ہوسکیں
مایوسی کی ایک بڑی وجہ منفی سوچ کا تسلسل ہے۔ جب انسان بار بار اپنے ذہن میں ناکامی، خوف اور محرومی کے خیالات کو دہراتا ہے تو یہ خیالات اس کے یقین کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ ہر صورتحال کو منفی زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ اسی طرح ناکامی کا تجربہ بھی مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ جب انسان بار بار کوشش کرنے کے باوجود کامیاب نہیں ہوتا تو اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے اور آخرکار ہمت ہار دیتا ہے۔
مایوسی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کی عملی قوت کو مفلوج کر دیتی ہے۔ جب انسان کو یقین ہی نہ رہے کہ اس کی کوشش کا کوئی فائدہ ہوگا تو وہ عمل کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مایوسی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے امید اور مثبت سوچ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’اور جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے۔‘‘ ِ (ترمذی) یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مشکلات کے بعد آسانی آتی ہے، بشرطیکہ انسان صبر اور امید کو برقرار رکھے۔
اسلامی تعلیمات میں مایوسی کے علاج کیلئے سب سے اہم چیز رجاء (امید) ہے۔ رجاء انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ حالات بدل سکتے ہیں اور اللہ کی مدد قریب ہے۔
اسی طرح توکّل بھی بہت اہم ہے جو مایوسی کے علاج میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے اور وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا: ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔ ‘‘ (الطلاق:۳)
مایوسی انسانی باطن کی ایک ایسی کمزوری ہے جو امید کے چراغ کو بجھا دیتی ہے۔ یہ انسان کو اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خداوند قدوس نے آپؐ کو بڑی متاثر کن نرم گفتاری اور دانائی عطا فرمائی تھی!
قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ امید کا دامن کبھی نہ چھوڑے، اللہ کی رحمت پر یقین رکھے اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھتا رہے۔ جب انسان امید کو زندہ رکھتا ہے تو وہ ہر مشکل کو عبور کر سکتا ہے۔ یہی امید اس کے باطن کو روشنی عظا کرتی ہے، یہی اسے زندہ رکھتی ہے اور یہی اسے ایک مضبوط، متوازن اور کامیاب انسان بناتی ہے۔
مایوسی کا علاج اور نفسیات
نفسیاتی اعتبار سے مایوسی کے علاج کے لئے Positive Reframing یعنی حالات کو مثبت زاویے سے دیکھنا اہم ہے۔ اسی طرح Goal Setting کا طریق کار انسان کو ایک سمت دیتا ہے اور اسے مایوسی سے نکالتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک چیز Social Support ہے یعنی دوسروں کا ساتھ ، جو انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے۔ جب انسان اپنے مسائل کو دوسروں کے ساتھ بانٹتا ہے تو اس کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ایک اور اہم طریقہ Meaning-Making ہے، یعنی انسان اپنی مشکلات میں بھی کوئی مقصد یا معنی تلاش کرے۔ جب انسان اپنے دکھ کو ایک معنی دے دیتا ہے تو وہ اس کے لئے قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔