واپسی کے بعد حاجی کی آزمائش شروع ہوتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر حج کے ماحول ہی میں رہے گا یا دور ہوجائیگا۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 3:54 PM IST | Naeem Siddiquie | Mumbai
واپسی کے بعد حاجی کی آزمائش شروع ہوتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر حج کے ماحول ہی میں رہے گا یا دور ہوجائیگا۔
حج کے مبارک سفرسے سعادتوں کے ساتھ واپس آنے والے خوش قسمت برادران کے لئے دیدہ و دل فرش راہ! محترم بزرگوار اور عزیز بھائیو! کیا آپ نے حج کو اچھی طرح جانا اور سمجھا ؟ اُس سے جو کچھ لینا تھا لیا؟ آپ اپنے ساتھ، اپنے اور دوسروں کے لئے کیا لے کر آئے؟ حج نے آپ سے کچھ باتیں کیں؟ اُس نے کوئی پیغام آپ کو ودیعت کیا؟ یا آپ صرف آبِ زم زم، کھجوریں، جانمازیں اور تسبیحیں لے کر آگئے؟
بہت سے حاجی ہیں جو اگرچہ ہمیشہ حاجی کہلائیں گے الحمد للہ، مگر وہ اپنے حج سے دُور ہوتے جاتے ہیں۔ جس دنیا کے مفاد سے وہ کچھ دیر کے لئے الگ ہوئے تھے، وہ پہلے سے زیادہ زور اور پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ انہیں دوبارہ دبوچ لیتا ہے اور وہ غفلت میں رہ جاتے ہیں۔
اصل میں بات بڑی نازک سی ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ: ’’شیطان کو اذان کی آواز سخت ناپسند ہے اور وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر اس سے بھاگتا ہے‘‘۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ’’وہ جب کسی شخص کو خدا کے سامنے سربسجود دیکھتاہے تو اسے بہت ناگوار ہوتا ہے‘‘ خصوصاً حج جیسی عظیم عبادت سے جو شخص گزر کر آرہا ہے، اُس کا نام تو درخواست دینے کے دن سے ہی ابلیسی نظام کی لال کتاب میں درج ہوگیا۔ شیاطین جن سے زیادہ ذمہ داریاں انسانی شیاطین کے سر ہوتی ہیں اور یہ اپنا کام دن رات جاری رکھتے ہیں۔ کچھ محبوب اور عزیز لوگ، کچھ کاروبار کے ساتھی، کچھ دفتروں کے ہم نشین، کچھ گائوں اور محلے کے خیرخواہ، کچھ دنیوی معاملات میں مشورے دینے والے، کچھ دین میں نئے نئے شگوفے نکالنے والے، کچھ قصیدہ خواں، کچھ خوشامدی، کچھ خدمت کیش!
یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں حصہ لیں، غفلت نہ ہو، یہ آپ کی اہم ذمہ داری ہے
حج کے ثمرات جو بہت سی عبادات کا جامع ہے
حج فی الواقع بہت بڑی عبادت ہے اور بہت سی عبادات کی جامع!
حج میں ہجرت کا رنگ بھی شامل ہے، اور جہاد کا اسلوب بھی۔ اس میں ذکر و دعا بھی ہے اور رکوع و سجود بھی۔ مزدلفہ کی رات کی خاموش عبادت بھی اور لاکھوں کے مجمع میں یومِ عرفہ کا خطبہ بھی۔ احرام کی کفن نما پوشش بھی ہے اور عید کا خوش آیند لباس بھی۔ وہاں آنسوئوں کی جھڑیاں بھی ہیں اور مسکراہٹوں کی کلیوں کی لڑیاں بھی۔ آدمی بیک وقت وہاں بے ہمہ بھی ہوتا ہے اور باہمہ بھی۔ تھوڑی دیر کے لئے تارکِ دنیا بھی ہوتا ہے اور پھر نئی شخصیت کے ساتھ فاتحانہ شان سے دنیا کے دروازے پر دستک بھی دیتا ہے۔بے شمار قبیلے اس کے اپنے بن جاتے ہیں، کتنے ممالک اسے اپنے ملک لگنے لگتے ہیں، مختلف بولیوں میں وہ ایک ہی جیسے معانی جھلملاتے دیکھتا ہے، تنگ عصبیتوں اور تالاب جیسی محدود قومیت سے آگے بڑھ کر وحدت کے ایک سمندر میں شامل ہوجاتا ہے۔
حاجی جب اللہ اکبر کہتا ہے تو وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے دل سے مان لیا کہ خدا ساری قوتوں سے بڑی قوت ہے، اور اُس کا دین برتر ہے، اور اُس کا قانون سب سے فائق ہے، اُس کا اقتدار سب پر غالب ہے، اور اُس کا حکم ہر طرف جاری و ساری ہے۔ وہ جب لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتا ہے تو دراصل اپنے آپ کو بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتا ہے کہ میں آپ کی پکار پر حاضر ہوں اور عمل سے اقرار کرتا ہے کہ جدھر آپ بلائیں گے، اُدھر مجھے حاضر پائیں گے، جدھر سے آپ ہٹائیں گے میں اُدھر سے ہٹ جاؤں گا۔
پھر اپنے احرام سے وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو موت کے اُس خط پر کھڑا کر دیا ہے جس سے مجھے ایک نہ ایک دن آگے جانا ہے اور زندگی کا حساب پیش کر کے جزا و سزا سے حصہ پانا ہے۔ وہ جب بیت اللہ نامی مکان کا طواف کر رہا ہوتا ہے تو دراصل اُس کی روح خداوند لامکانی کا طواف کر کے یہ ظاہر کرتی ہے کہ میرا مرکز و محور صرف ذاتِ الٰہی ہے، اُس کی طرف لپکنا، اُسی سے محبت، اُسی کے لئے فدائیت اور اُسی کی اطاعت! وہ جب حجر اسود کا استلام کرتا ہے تو دراصل اپنے رب و الٰہ کے سنگ ِ آستاں کو اُس کے جذبات چوم رہے ہوتے ہیں۔ وہ جب مقامِ ملتزم پر کھڑے ہوکر ایمان و بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور اپنے والدین کی مغفرت کی درخواست کرتا ہے تو گویا وہ ایوانِ جاناں کی چوکھٹ کو تھامے ہوئے ہوتا ہے اور بے اختیار روتا ہے۔ وہ صفا و مروہ میں سعی کرتا ہے اور پھر لمبی پیاس کے ماروں کی طرح پیٹ بھر کر آبِ زم زم پیتا ہے، اگر جذبہ صحیح ہو تو یہ آبِ زم زم وجہ شفاء القلوب ہے اور قلوب اگر صحت مند ہوں تو بدن آسانی سے امراض کا شکار نہیں ہوتے۔
حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیل ؑ کے احوال و جذبات سے حصہ پانے کے لئے وہ (حاجی) صدیوں پہلے کی تاریخ کو کھینچ لاتا ہے۔ وہ جب عرفات کے بے پایاں ہجوم میں موجود ہوتا ہے تو اُس کے سامنے میدانِ حشر کا سا نقشہ آجاتا ہے۔ وہ قربانی کرتا ہے تو دراصل اس کا استعارہ یہ ہوتا ہے کہ میں اپنے آپ کو اسی طرح احکامِ الٰہی کے تحت قربانی کے لئے پیش کردوں گا جس طرح حضرت اسماعیل ؑنے بہ رضا و رغبت پوری شانِ صبر کے ساتھ پیش کر دیا تھا۔ یہاں اسے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ حضرت اسماعیل ؑمیں جو آدابِ فرزندی ابراہیمی تعلیم و تربیت نے پیدا کیے تھے، وہی اسے اپنی اولاد میں پیدا کرنے ہیں۔ تب اُس کے دل میں اس ابراہیمی ؑ ارشاد کا صحیح مفہوم نقش ہوجاتا ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب کچھ رب العالمین کے لئے ہے۔
حج کی دعاؤں کا حاصل
حاجی جب مقامِ ابراہیم پر نوافل ادا کرتا ہے تو اس کے کانوں میں باپ بیٹے کی دعائیں گونجنے لگتی ہیں۔ قرآن میں ہے:
’’اور یاد کرو، ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ جب اس گھر کی دیواریں اُٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے: اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے رب! ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان) بنا۔ ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اُٹھا جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور اے رب! ان لوگوں میں سے خود ان ہی کی قوم سے ایک رسول اُٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے، تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘(سورہ البقرہ :۱۳۷-۱۳۹)
حاجی اس دعا کی صدائے بازگشت سنتے ہوئے یہ نکتہ پا لیتا ہے کہ جس گھر کی تعمیر کا ذکر ہے، وہ حرم ہے جو اس کے سامنے ہے۔ یہ توحید پر استوار ہوا ہے۔ یہ سچے خدا پرستوں کا ایک مرکز دل و نظر ہے، یہ امن کا ایک سرچشمہ ہے، انسانیت کی پناہ گاہ ہے اور اس کی یہ شان برقرار رکھنا اصلاً اللہ تعالیٰ کے اپنے اہتمام سے ہے، لیکن ظاہری طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری اُمت محمدیؐ کا فریضہ ہے کہ وہ خدا کے اس گھر کو طواف،اعتکاف اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے ہرقسم کے شرک کی آلائش اور ہرقسم کے فساد کی رکاوٹ سے پاک رکھیں۔
پھر اس دعا میں یہ آرزو کی گئی ہے کہ دعا کرنے والوں کو مسلم بنا۔ ایک حاجی کو بھی یہ جذبہ ان فضائوں سے نچوڑ کر لانا چاہئے کہ وہ مسلم بن کر رہے،یعنی خدا کا مطیع فرمان بنا رہے، وہ نہ بغاوت و سرکشی اختیار کرے نہ شرک و نفاق کی راہیں نکالے۔ مسلم ہو تو حنیف ہو، یکسو ہو، ایک ہی رب سے لو لگا لے اور ایک ہی الٰہ کے جلوئوں سے دل کے پنہاں خانے کو روشن کرلے۔
یہ بھی پڑھئے: آدابِ فرزندی اور عصر ِ حاضر کا خاندانی بحران
دعا کرنے والوں نے صرف اپنے لئے ہی نعمت ِ اسلام نہیں مانگی، بلکہ اپنی نسل سے بننے والی قوم کے لئے یہ درخواست بھی کی کہ اس کو اپنا مسلم و مطیع بنایئے گا اور اُس کے اندر سے اپنا رسول مبعوث فرما کر ان کو بھی صحیح راہِ عبادت اورطریقۂ اسلام بتایئے گا۔ معلوم ہوا کہ خدا کے رسولؐ کا دامن تھامے بغیر اور اُس کی لائی ہوئی الہامی تعلیم کو قبول کئے بغیر زندگی میں نہ عبادت کا رنگ پیدا کیا جاسکتا ہے، نہ مسلم بن کے جینا ممکن ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ رسولؐ آئے اور خدا کی آیات بندوں تک پہنچائے، ہدایت اُن کو پڑھ کر سنائے، خدا کی کتاب اور حکمت ِ دین کی اُن کو وسیع تر تعلیم دے۔ پھر اُن کی زندگیوں کو فکری و اعتقادی لحاظ سے اور اخلاقی، معاشی اور سیاسی لحاظ سے بھی سنوارے۔
اب تو سوال صرف یہ ہے کہ ہم سب مسلمان اس تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیۂ حیات سے سبق لے کر اپنی اور معاشرے کی زندگی کو کیسے اسلامی زندگی بناتے ہیں؟ میرے محترم حجاج بھائیو! یہ فریضہ آپ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ توجہ چاہتا ہے۔ کیا آپ اس فریضے کی ادائیگی کے لئے تیار ہیں؟
شیطانوں کو سنگ باری کا سبق
شعائر حج کا ایک اہم موقع وہ ہے جو آپ شیطانوں کو کنکریاں مار رہے تھے۔ کیا اُس وقت آپ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ شیطان بس یہ تین ہیں، جو بُرجیوں کی شکل میں آپ کے سامنے ہیں؟ آپ کو یہ مغالطہ تو نہیں ہوا کہ شیطان صرف خارج ہی خارج میں ہوسکتا ہے؟ کچھ آپ کو احساس ہوا کہ آپ کے گرد اور آپ کے اندر گھس کر شیاطین ساری عمر شرپسندانہ حرکات کرتے رہے ہیں؟ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی کچھ خواہشیں اور جذبے ہیں، جنہیں ضرورت سے زیادہ اُکسا کر وہ آپ کو ایسی کشمکش میں مبتلا کرتے رہے ہیں جو کبھی دانستہ اور کبھی نادانستہ طور پر آدمی کو غلط سمت میں لے جاتی ہے؟ کیا آپ کے تصور میں یہ بات بھی آئی کہ یہاں سے پلٹ کر آپ کا سابقہ پھر انہی شیاطین سے پڑے گا اور آپ کی پھینکی ہوئی کنکریاں اُس وقت تک ان کو سنگسار نہیں کرسکتیں جب تک کہ آپ کچھ کنکریاں اپنے دل و دماغ کے غلط رجحانات پر اور اپنے اعزہ و احباب کی غلط خواہشوں اور نظریات کو بھی نہ ماریں؟
اگر زندگی کی فاسد و مفسد قوتوں کے خلاف خواہ وہ قلبی و ذہنی ہوں یا خارجی، انفرادی ہوں یا اجتماعی، افکار کے میدان میں کام کریں یا اعمال کے دائرے میں، آپ سنگ باری کا سبق وادیٔ محشر سے سیکھ آئے ہیں تو آپ نے حج کی رُوح پالی۔
یہ بھی پڑھئے: ایک بے سکون دَور
اصلاحِ معاشرہ کی فکر کیجئے
آپ جس معاشرے کو چھوڑ کر گئے تھے اور جس میں واپس آئے ہیں، اس کے احوال پر ذرا غور سے نگاہ ڈالئے۔
یہاں دین سے عملی وابستگی رکھنے والوں اور سچے خدا پرستوں کی بہت کم تعداد پائی جاتی ہے۔ یہاں عظیم معلّمِ توحید حضرت ابراہیم ؑ کے واضح کردہ مسلک کے مطابق ہر طرف سے منہ موڑ کر اور صرف خدائے واحد کی عبادت و اطاعت میں لگ جانے والوں اور شرک اور نفاق اور تضاد اور دوعملی و دو رنگی سے پاک افراد آٹے میں نمک کی طرح ہیں۔ اسلامی تقریروں، اسلامی کتابوں، اسلامی تقریبوں، اسلامی میلوں، اسلامی عرسوں، اسلامی جلوسوں، اسلامی مشاعروں، اسلامی یوموں اور اسلامی نعروں کے خوش نما غلافوں کو دیکھ کر ہم سب کی طبیعتیں بہلتی ہیں، مگر غلافوں کو ہٹائیں تو نیچے کھلی لادینیت بھی ملتی ہے۔ کہیں بے قید سیکولر زندگی، کہیں مختلف آلائشوں کے ساتھ پائی جانے والی مذہبیت، کہیں تعصب و تخریب کے مارے ہوئے فرقوں کے مناظرانہ محاذ! سارے عالمِ اسلام کی حالت یکساں ہے۔ اب آپ اپنے اس مصیبت زدہ معاشرے پر رحم کھا کر کوشش کیجئے کہ یہاں خداپرستی، رزقِ حلال اور اطمینان قلب کا دور دورہ ہو۔ اس مقصد کے لئے آپ کام کرنے کی راہیں تلاش کریں۔ کچھ نور اگر آپ نے دورانِ حج حرم سے حاصل کیا ہے تو اب قوم کی تاریکیوں میں اسے پھیلانے کی فکر کیجئے۔ یہ آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ حج (اس سال کا) ختم ہوگیا مگر حج کی برکت باقی رہنی چاہئے۔