Inquilab Logo Happiest Places to Work

حرمین شریفین سیلفی پوائنٹس نہیں

Updated: April 10, 2026, 4:20 PM IST | Dr. Muhammad Mushahid Rizwi | Mumbai

حرمین شریفین دنیا کے وہ مقدس مقامات ہیں جہاں دلوں کو جھک جانا چاہئے، نگاہوں کو ادب سیکھنا چاہئے اور روح کو پاکیزگی کا لباس پہننا چاہئے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں صدیوں سے انبیاے عظام علیہم السلام ، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، اولیاے کاملین علیہم الرحمہ اور عاشقانِ حق نے آنسوؤں سے اپنے دامن بھگوئے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

حرمین شریفین دنیا کے وہ مقدس  مقامات ہیں جہاں دلوں کو جھک جانا چاہئے، نگاہوں کو ادب سیکھنا چاہئے اور روح کو پاکیزگی کا لباس پہننا چاہئے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں صدیوں سے انبیاے عظام علیہم السلام ، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، اولیاے کاملین علیہم الرحمہ اور عاشقانِ حق نے آنسوؤں سے اپنے دامن بھگوئے۔ مگر افسوس کہ آج انہی پاکیزہ فضاؤں میں ایک نیا طرزِ عمل پنپ رہا ہے: موبائل فون، کیمرہ، ویڈیو، رِیل اور لائیو نشریات۔

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ یادگار کے لئے ایک آدھ تصویر لے لی جائے تو یہ الگ بات، لیکن مسجد الحرام میں داخل ہونے والا زائر اگر سب سے پہلے کیمرہ آن کرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آنکھ کعبہ دیکھ رہی ہے مگر دل کہیں اور مصروف ہے۔ طواف کے دوران وہ ہاتھ جو دعا کے لئے  اٹھنے تھے، اسکرین تھامے ہوئے ہیں۔ سجدے کی جگہ سیلفی اور ذکر کی جگہ ریکارڈنگ نے لے لی ہے۔ عبادت اب خلوت نہیں رہی بلکہ نمائش بن گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘

یہ طرزِ عمل صرف ذاتی غفلت نہیں بلکہ اجتماعی بے ادبی بھی ہے۔ جہاں فرشتے صف باندھتے ہوں، وہاں غیر ضروری گفتگو، قہقہے اور سوشل میڈیا کی لائیو اسٹریمنگ اس مقام کی روحانیت کو مجروح کر دیتی ہے۔ حرمین شریفین میں خاموشی خود ایک عبادت ہے اور وقار خود ایک دعا۔

مسجدِ نبوی ﷺ میں داخل ہوتے وقت نگاہوں کا جھک جانا سنت ہے، آواز کا مدھم ہونا ادب ہے اور دل کا لرز جانا محبت کی نشانی۔ مگر آج روضۂ رسول ﷺ کے قریب کھڑے ہو کر پوز بنائے جاتے ہیں، ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور ان مقدس لمحات کو دنیا کو دکھانے کی خواہش میں اخلاص کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم وہاں کس لئے گئے ہیں؟ رَب سے ملنے  یا دنیا کو دکھانے کے لئے؟

حرمین شریفین سیاحتی مقامات نہیں کہ وہاں یادگاری تصاویر کی نمائش ہو، یہ تو توبہ کی زمین، دعا کا مرکز اور خود احتسابی کے محور ہیں۔ یہاں انسان کو خود کو بھول جانا چاہئے، نہ کہ خود کو نمایاں کرنا۔جو زائرِ حرم بن کر آئے اور سیاح بن کر لوٹے، اس نے سفر تو کیا مگر فیض نہ پایا۔جو آنسو بہا سکتا تھا مگر فلٹر لگا کر مسکرا دیا، اس نے روحانی دولت کو دنیاوی شہرت کے بدلے بیچ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: جب زبان ’یا اللہ‘ کہے مگر دل حاضر نہ ہو، تو دعا الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے

آدابِ حرمین شریفین صرف لباس سے ادا نہیں ہوتے بلکہ نگاہ، زبان، نیت اور رویے سے ادا ہوتے ہیں۔ وہاں کم بولنا، آہستہ چلنا، نظریں جھکانا اور دوسروں کے آرام کا خیال رکھنا بھی عبادت کا حصہ ہے۔ حرمین میں ہر قدم تاریخِ ایمان پر پڑتا ہے، اس لئے ہر قدم سنبھال کر رکھا جانا چاہئے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ عبادت دکھانے کی چیز نہیں، چھپانے کی نعمت ہے۔ اخلاص وہ خوشبو ہے جو خاموشی میں پھیلتی ہے، شور میں نہیں۔

اگر حرمین شریفین میں جا کر بھی ہمارا دل موبائل میں قید رہے، تو سمجھ لیجئے کہ ہم نے قبلہ تو بدل لیا، مگر قبلۂ دل نہیں بدلا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ زائرین کو آدابِ حرمین کی تعلیم دی جائے، انہیں بتایا جائے کہ یہ مقامات سیلفی پوائنٹ نہیں، سجدہ گاہ ہیں۔ یہ کیمرہ زون نہیں، دعا زون ہیں۔ یہاں کی سب سے خوب صورت تصویر وہ ہے جو دل میں محفوظ ہو نہ کہ موبائل گیلری میں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK