Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب زبان ’یا اللہ‘ کہے مگر دل حاضر نہ ہو، تو دعا الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے

Updated: April 10, 2026, 3:54 PM IST | Razi Mohammed Wali | Mumbai

ہم سب دعا کرتے ہیں، اور رات دن کرتے ہیں۔ یہ دُعائیں اپنی ذات، اپنے بچوں ، دیگر اہلِ خانہ، رزق میں کشادگی ، صحت و تندرستی اور مرحومین کی مغفرت وغیرہ کے لیے ہوتی ہیں۔

There are certain etiquettes for calling upon the Lord of the Worlds through prayer, which should also be observed. Photo: INN
رب العالمین کو دعا کے ذریعے پکارنے کے کچھ آداب ہیں، ان کی رعایت بھی کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

ہم سب دعا کرتے ہیں، اور رات دن کرتے ہیں۔ یہ دُعائیں اپنی ذات، اپنے بچوں ، دیگر اہلِ خانہ، رزق میں کشادگی ، صحت و تندرستی اور مرحومین کی مغفرت وغیرہ کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی طرح اُمت کی بھلائی و حفاظت ، مظلوموں کی داد رسی ، ملک کے امن و امان ، مسلم اُمہ کی گُم شدہ ناموس کی بحالی اور دیگر اجتماعی مقاصد کے لیے بھی دُعائیں ہوتی ہیں۔ یہ دُعائیں ہم نمازوں میں کرتے ہیں، نمازوں کے بعد کرتے ہیں، روزے کی حالت میں کرتے ہیں، افطار کے وقت کرتے ہیں، لیلۃ القدر میں کرتے ہیں، جمعہ، عیدین ، حج اور دیگر اجتماعات میں کرتے ہیں، ہمارے خطباء اور امام کرتے ہیں، جو راتوں کو اُٹھ سکتے ہیں وہ ربّ سے سرگوشی کے انداز میں کرتے ہیں، آنسو بہا کر کرتے ہیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا ربّ تبارک و تعالیٰ بہت حیا والا اور بڑا کریم ہے۔ جب اس کا بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ انھیں خالی واپس لوٹا دے‘‘ (سنن ابی داؤد: ۱۴۸۸، جامع ترمذی: ۳۵۵۶)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ دُعائیں قبول نہیں ہوتیں، ہماری دعائیں بے اثر سی ہوگئی ہیں؟ پھر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کیا اللہ ہماری سنتا نہیں؟ یا ہم سننے کے قابل نہیں رہے؟ جب کہ اللہ تو خود اعلان کرتا ہے:

 ’’تمہارا رب کہتا ہے: مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘(المؤمن: ۶۰)، ’’اور اے نبیؐ !جب میرے بندے آپ سے میری نسبت سوال کریں تو (بتا دیا کریں کہ) میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے۔‘‘  (البقرہ: ۱۸۶)  تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟  

آئیے ہم اُن وجوہ اور ان کے سدِّ باب کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری دُعائوں کی قبولیت میں رکاوٹ ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جمعہ کا اصل پیغام یاد رکھئے: اجتماع سے زیادہ ”اجتماعیت‘‘

گناہوں کی کثرت 

آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ جن اعمال پر کبھی دل کانپ جاتا تھا، آج وہ معمول بن چکے ہیں۔ جھوٹ کاروبار کی حکمت کہلاتا ہے۔ سود معاشی ضرورت بن گیا ہے۔ نگاہوں کی بے احتیاطی آزادی سمجھ لی گئی ہے، اور حقوق العباد کی پامالی کو چالاکی کا نام دے دیا گیا ہے۔ تکبر ہر خاص و عام میں سرایت کرگیا ہے۔ غیبت، تہمت اور بلاوجہ کا تجسس اتنا عام ہوگیا ہےکہ کسی کو اس سے روکیں تو وہ منہ کو آتا ہے۔ جب گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھا جائے تو اُس سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملتی اور یہ معاشرے کا کلچر بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گناہ انسانوں ہی سے ہوتے ہیں اور گناہ کے بعد ندامت کا ہونا ایمان کی علامت ہے، اور گناہ کو گناہ نہ سمجھنا اور اس پر ڈٹے رہنا شیطانی صفت ہے۔ جس طرح آدم ؑ نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی، پھر وہ اُس پر شرمندہ ہوگئے اور سچی توبہ کرلی، جب کہ دوسری طرف شیطان تھا جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور پھر اس پر اُسے کسی قسم کی ندامت بھی نہ ہوئی۔ اسی لئے اُسے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملی اور وہ مردُود قرار پایا ۔ موجودہ دور میں اُمت کے لوگ مذکورہ بالا اور ان کے علاوہ دیگر گناہ دلیری سے کر رہے ہیں ۔ 

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی وہ  رَانَ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورئہ مطففین کی آیت ۱۴؍ میں کیا ہے:’’ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘(جامع ترمذی: ۳۳۳۴) 

لہٰذا جب گناہوں کا تسلسل قائم رہے اور توبہ نہ کی جائے تو دل سیاہ پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دل سخت ہوجاتا ہے، دعا بے اثر ہونے لگتی ہے، عبادت میں لذت باقی نہیں رہتی، اور معاشرہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا معمول نہ بنائیں اور کبھی انسان ہونے کے ناتے گناہ سرزد ہوجائے تو توبہ کرنے میں تاخیر نہ کریں، اور اپنے باطن کا محاسبہ جاری رکھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: تعصب ذہنی رویہ نہیں، روحانی بیماری ہے

رزقِ حرام کی کثرت

مسلم معاشرے میں ایک نہایت خطرناک رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔ وہ یہ کہ رزق کے حلال و حرام ہونے کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ سودی لین دین کو مجبوری کا نام دے دیا گیا ہے اور اس وقت کرّۂ ارض پر کوئی ایک خطہ بھی ایسا نہیں جہاں سودی لین دین عام نہ ہو، جبکہ سودی لین دین کرنے والے کیلئے تو اللہ اور اس کے رسولؐ  کی جانب سے اعلانِ جنگ تک فرما دیا گیا ہے۔ پھر دوسری چیز رشوت ہے جسے ’تحفہ‘ کہہ کر جائز ٹھہرایا جا رہا ہے۔ جھوٹ اور دھوکا کاروباری حکمت سمجھا جانے لگا ہے، ناپ تو ل میں کمی تو معمول کا حصہ ہے، جبکہ ناپ تول میں کمی کے بارے میں اللہ تعالیٰ واضح ہدایت فرماتا ہے:’’اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔‘‘ (الانعام: ۱۵۲) اشیائے خوردو نوش ہوں یا کوئی اور چیز، ان میں ملاوٹ عام سی بات ہے اور دوسروں کے حقوق مار  کے دولت کمانا ذہانت تصور ہوتا ہے۔ حالانکہ قرآن سخت تنبیہ کرتا ہے: ’’اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۸)

حرام رزق صرف مال کو آلودہ نہیں کرتا، یہ دل کا نور بھی چھین لیتا ہے، عبادت کی لذت بھی ختم کر دیتا ہے، اولاد کی تربیت پر اثر ڈالتا ہے اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی دُعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی کمائی کو پاک کرنا ہوگا، کیونکہ جس گھر کی بنیاد حرام پر ہو وہاں سکون اور برکت ٹھہر نہیں سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں 

دل کی غفلت

دل کی غفلت بھی دعا کی قبولیت میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جب زبان تو’یا اللہ‘ کہہ رہی ہو مگر دل حاضر نہ ہو، تو دعا محض الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ سے دعا کرو اس حال میں کہ قبولیت کا یقین ہو، اور جان لو کہ اللہ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔‘‘(سنن ترمذی) 

غفلت یہ ہے کہ انسان ہاتھ تو اٹھا لے مگر ذہن دنیا کے حساب کتاب میں گم ہو، آنکھیں بند ہوں مگر دل بیدار نہ ہو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دُعا سرسری انداز میں، غفلت کے ساتھ یا بے یقینی کے ساتھ رسمی طور پر نہیں کرنی چاہیے بلکہ دُعا کے الفاظ صرف زبان سے نہ نکلیں بلکہ دل سے پورے یقین کے ساتھ نکلنے چاہئیں۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’اللہ سے اس طرح دعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو۔‘‘   (سنن ترمذی:۳۴۷۹)

یاد رکھئے! قبولیت ِ دُعا کا راستہ یہ ہے کہ دعا سے پہلے دل کو نرم کیا جائے، گناہوں پر شرمندگی ہو، عاجزی اختیار کی جائے اور یقین ِ کامل کے ساتھ رب کے حضور کھڑا ہوا جائے، کیونکہ زندہ دل کی آہ آسمان چیر دیتی ہے، جبکہ غافل دل کی آواز خود اپنے سینے سے باہر نہیں نکل پاتی۔ 

امربالمعروف ونہی المنکر چھوڑ دینا

دُعائیں ردّ ہونے کی ایک بڑی وجہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دیا جانا ہے۔ قرآن واضح اعلان کرتا ہے:

  ’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘(آل عمران : ۱۱۰)   

جب یہی وصف کمزور پڑ جائے تو ’خیر  ِ اُمت‘ ہونے کا اعزاز بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ آپؐ  نے تنبیہ فرمائی کہ ’’اگر تم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسا عذاب بھیجے گا کہ پھر تم دعا کرو گے مگر قبول نہ ہوگی۔‘‘ (سنن ترمذی)

آج ہماری کیفیت یہ ہے کہ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ دنیا میں طاقتور کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے۔ کبھی یہ انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور کبھی ریاستی سطح پر لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ ظلم شاید دوسرے کے ساتھ ہی ہونا ہے اور ہم اس سے محفوظ رہیں گے۔ سود، رشوت اور بے حیائی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، اور ’’مجھے کیا؟‘‘ کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اجتماعی گناہ پر خاموشی بھی گناہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خدمت ِ حجاج: سعادت بھی ہے اور امانت بھی

حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرنا

آج امت ِ مسلمہ میں ایک خطرناک بیماری یہ پیدا ہو گئی ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔ مراسمِ عبودیت کی ادائیگی میں تو ہم کچھ نہ کچھ حساس ہو جاتے ہیں، مگر لوگوں کے حق مارنے، وعدہ خلافی کرنے، امانت میں خیانت کرنے، ناپ تول میں کمی کرنے، ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے ہڑپ کرنے اور وراثت میں حقداروں کو اُن کا حق نہ دینے سے باز نہیں آتے۔ اس کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ حالانکہ قرآن متعدد جگہ متنبہ کرتے ہوئے کہتا ہے :’’ تباہی ہے ان لوگوں کیلئے جو دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔‘‘ (المطففین:۱-۳) ’’اور آپس میں ایکدوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔‘‘(البقرہ: ۱۸۸)’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائینگے۔‘‘ (سورہ النساء:۱۰) آج اپنی دُعاؤں کے قبول نہ ہونے کیلئے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ ہم حقوق العباد غصب کرنے کے مجرم تو نہیں ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK