Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘

Updated: April 10, 2026, 4:13 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

یہ صرف ایک جملہ نہیں ، ایک نسخۂ اکسیر ہے اور اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ اگر انسان اسے اپنےدل میں بسالے تو اس کے اثر سے زندگی کے ہر طوفان سے صحیح سالم باہرآسکتا ہے۔

"Whoever trusts in Allah, Allah is sufficient for him." If this belief remains, then difficulties will undoubtedly turn into ease. Photo: INN
’’جو اللہ عزوجل پر بھروسہ کرتا ہے اللہ عزوجل اس کیلئے کافی ہو جاتا ہے‘‘ اگر یہ یقین رہے تو بے شک مشکلات آسانیوں میں بدل جاتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

انسانی زندگی اور غم کا چولی دامن کاساتھ ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان اپنے حصے کی مشکلات کے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے۔ کسی کو ان مصائب وآلام سے مفر حاصل نہیں ہے۔ انسان کی زندگی ہر دن ان مسائل سے جوجھتی ہی رہتی ہے۔ کسی بادشاہ یا فقیر، امیر یاغریب ، گورے یا کالے کو اس معاملےمیں کوئی رعایت حاصل نہیں ہے۔ انسان کو کبھی مالی مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی رشتوں میں تناؤ اس کا چین و سکون تباہ کردیتے ہیں، کبھی بیماری اس کی زندگی اجیرن کردیتی ہے تو کبھی دیگر انسانوں کی جانب سے ملنے والی تکلیف انسان کو خون کے آنسو رلادیتی ہے۔ 

جب کبھی انسان کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ فوری طورپر اس کو حل کرنے کے لئےجدوجہد شروع کردیتا ہے۔ بیمار شخص علاج کرواتا ہے، بے روزگار نوکری تلاش کرتا ہے، جس کے گھر آگ لگی ہو وہ پانی کی طرف دوڑتا ہے،رشتوں میں دراڑ سے پریشان شخص کوشش کرتا ہے کہ رشتے استوار ہوجائیں اور زندگی سکون واطمینان سے  گزرے۔   اکثر  اوقات انسان کی کوششیں کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب بھی ہوجاتی ہیں لیکن انسان جیسے ہی ایک مصیبت سے نکلتا ہے ، اور چین کی سانس لینے  بھی نہیں پاتا کہ کوئی دوسری مشکل آدھمکتی ہے ۔یہ سلسلہ  پیدائش تا موت جاری ہی رہتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جب زبان ’یا اللہ‘ کہے مگر دل حاضر نہ ہو، تو دعا الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے

قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے۔‘‘ (البلد:۴) قرآن مجید میں ان مشکلات کے لئے ’کبد‘ لفظ آیا ہے۔ علامہ زمخشری نے تفسیر الکشاف میں اس لفظ کو عربی لفظ کبد سے مشتق قرار دیا ہے ، اس لئے کہ یہ لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب انسان کا جگر پھول جائے اور انسان کو بہت تکلیف دے۔ اس طرح انہوں نے اس سخت تکلیف کا رشتہ انسانی زندگی سے جوڑا ہے کہ زندگی بھی اسی طرح مختلف تکلیفوں کا مجموعہ ہے۔ اس آیت کی تفسیرمیں علامہ فخر الدین رازیؒ التفسیر الکبیر ،جلد ۳۱، صفحہ نمبر ۱۸۲ پر لکھتے ہیں:’’انسانی زندگی کے مراحل مشقت اور تکلیف سے ہی عبارت ہیں:پہلے ماں کے پیٹ میں، پھر مدت رضاعت میں، پھر بڑی عمر کو پہنچ کر روزی روٹی کمانے میں اور پھر اس کے بعد موت میں۔ ‘‘ گویا کہ انسانی زندگی  کبد میں یعنی تکالیف میں اور وہ بھی پیہم اور مسلسل تکالیف میں ہی گزرتی ہے اور یہ مشکلات گویا کہ زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان سے بھاگ کر نہیں ان کے ساتھ  نباہ کے ذریعہ ہی زندگی گزرتی ہے۔ 

لیکن زندگی کی اس تلخ حقیقت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام یہ بھی بیان کرتا ہے کہ یہ مشکلات،یہ مصائب ، یہ پریشانیاں ان بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں جواللہ عزوجل کی رحمت اور مدد پریقین کرلیں۔ جو اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ دنیاوی مشکلات کچھ بھی نہیں ایک عارضی مسئلہ ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ خودبخود کافورہوجاتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’فکری مرکز‘ انسانیت کیلئے ضروری ہے

نبی کریم ﷺجب مدینہ کی جانب ہجرت کے لئے نکلے اور غارثور میں پناہ لی تو کفارومشرکین مکہ اسی غار کے دہانے پر آپؐ کی تلاش میں آدھمکے۔روایات میں یہ بات آئی ہے کہ وہ اس قدر قریب آگئے کہ بس ان کی نگاہ تھوڑی سی اس طرف گھومتی اور وہ  آپؐ اورحضرت ابو بکرؓ کو دیکھ لیتے۔  یہ بہت بڑی مشکل تھی۔ اس لئے کہ سفر ہجرت کی رات میں یہی لوگ اپنی تلواریں سونت کر، قتل کے ارادے سے آپؐ کے مکان کے باہر جمع ہوئے تھے ۔جب ان دشمنوں کے نہایت قریب آجانے پر حضرت ابو بکرؓ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے، یہ ایک نسخۂ اکسیر ہے کہ اگر انسان اسے اپنےدل میں بسالے، اپنے ذہن میں اس کو جگہ دے دے،تو یہ اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ انسان اس کے اثر سے زندگی کے ہر طوفان سے صحیح سالم باہرآسکتا ہے۔ اس لئے کہ سوائے اللہ عزوجل کے سہارے کےاس دنیا میں کوئی اور سہارا اتنا پائیدا ر ہے ہی نہیں کہ جو انسان کا مشکلات میں ساتھ دے سکے۔کتنی ہی مرتبہ انسان کے اپنے لوگ مشکلات کے بھنور میں اس کا یا تو ساتھ چھوڑ جاتے ہیں یا چاہنے کے باوجودبھی مدد نہیں کرپاتے،کتنی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ روپیہ پیسہ ہونے کے باوجود انسان اس کے ذریعہ اپنا کوئی کام نہیں کرپاتا۔ دوست یار بھی ایک حد کے بعد انسان سے کہہ دیتے ہیں کہ یہاں سے آگے کی جدوجہد اب تمہاری خود کی ہے۔ کتنی ہی مرتبہ شہرت کے اعلیٰ مقام پر فائز انسان چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لئے خود کو بے بس اور مجبور محسوس کرتا ہے۔ کئی مرتبہ طاقت اور خوبصورتی کا اعلیٰ مرقع ہونے کے باوجود انسان کسی چھوٹی سی مشکل سے مارکھاجاتا ہے۔ القصہ مختصر یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر فرد اور ہر شے ہمارا ساتھ چھوڑسکتی ہے، سوائے اس رب کریم کے جواپنے بندوں کے ساتھ بڑا ہی رحم وکرم کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک عربی مصنف نے اس ضمن میں بڑی ہی اچھی بات لکھی ہے کہ آگ کا کام جلانا ہے اور پانی کا کام غرق کرنا ہےلیکن حضرت ابراہیمؑ کےلئے آگ سلامتی والی بن جاتی ہے  اور حضرت موسیٰؑ کیلئے پانی میں راستہ نکل آتا ہے۔ اللہ کی مدد ہر اس شخص کیلئے ہے جو حتی المقدور کوشش کرے اور پھر مکمل طور پر اللہ عزوجل پر بھروسہ کرلے۔ 

انسان کے ذہن کواسی طاقت ، اسی توکل سے روشناس کروانے کے لئے رب العالمین نے قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے انسان کو سمجھایا ہے کہ حالات چاہے کچھ ہوں، ہمت ہارنا  تمہارا شیوہ نہیں ۔ تمہارا تو کمال یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کا شکر اداکرتے رہو، اس کی حمدوثنا بیان کرو، اسی کو پکارو اور اسی پر توکل کرو۔  خالق کائنات نے ارشاد فرمایا: ’’میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۶)اور ہر انسان کو یہ تیقن دیا کہ ’’اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔‘‘ (ق:۱۶) اور ہر ایمان والے سے سوال پوچھا: ’’کیا اللہ عزوجل اپنے بندے کیلئے کافی نہیں ہے؟ ‘‘(الزمر: ۳۶)  مشکلات کی سونامی میں بندوں کو اس بات کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ زندگی میں چاہے کوئی مرحلہ آئے لیکن یقین رکھو کہ ’’جو اللہ عزوجل پر بھروسہ کرتا ہے اللہ عزوجل اس کیلئے کافی ہو جاتا  ہے۔‘‘  (الطلاق: ۳) اسلئے کہ زندگی سدا ایک دھارے پر نہیں بہتی ’’یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔‘‘(آل عمران: ۱۴۰)اس لئے اگر دن خراب بھی چل رہےہوں تو انسان اس نیت کے ساتھ صبر کرلے کہ ’’بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ (البقرۃ: ۱۵۳) اور ’’بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘ (انشراح:۵)

یہ بھی پڑھئے: تعصب ذہنی رویہ نہیں، روحانی بیماری ہے

یاد رکھئے کہ  وقت کا پانسہ آج نہیں تو کل پلٹتا ضرور ہے اور انسان ہر مشکل کے بھنور سے ، اللہ عزوجل کی مدد سے ، نکلنے میں کامیاب ضرورہوتا ہے۔ اس لئے کہ ’’اللہ عزوجل کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔‘‘(البقرۃ: ۲۸۶)  بس ہر مسئلے کا حل یہ ہے کہ انسان  اس بات کو گھول کر پی جائے کہ’’اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔‘‘(آل عمران: ۱۷۳)   

کاش کہ ہم قرآن مجید کی ان بشارتوں کی اہمیت کو سمجھیں اور ان تعلیمات کو اپنے اندر جذب کرلیں اور جب کبھی زندگی ہمیں مسکراہٹ کے بدلے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرے، پھولوں کی سیج کے بدلے کانٹوں بھری راہ ہمارے روبرو کردے  اور آسانیوں کے بدلے مشکلات سے ہمیں دوچار کرے تو ہمارے لبوں پر یہ خیال ، یہ تصور اور یہ جملہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہو کہ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK