کلام پاک وہ کتاب ِ ہدایت ہے جسے قاری جس رخ سے بھی دیکھنا چاہے، اپنے لئے ہدایت کی روشنی پائے گا ۔ زیر نظر تحریر پڑھئے جس میں مضمون نگار نے قرآن کو خود کس طرح پایا ، اس پر روشنی ڈالی ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 4:28 PM IST | Syed Qutb | Mumbai
کلام پاک وہ کتاب ِ ہدایت ہے جسے قاری جس رخ سے بھی دیکھنا چاہے، اپنے لئے ہدایت کی روشنی پائے گا ۔ زیر نظر تحریر پڑھئے جس میں مضمون نگار نے قرآن کو خود کس طرح پایا ، اس پر روشنی ڈالی ہے۔
بچپن میں قرآن سے تعلق
ابھی میں چھوٹا بچہ ہی تھا کہ میں قرآن پڑھنے لگا۔ اس کے مضامین کے گوشوں تک میری پوری طرح رسائی نہ تھی اور نہ اس کے بلند اغراض ہی کو میرا فہم احاطہ کرسکتا تھا۔ تاہم، میں اس کے کچھ اثرات اپنے دل میں محسوس کرتا تھا۔ میرا سیدھا سادہ ذہن تلاوتِ قرآن کے دوران بعض خیالی صورتیں اخذ کرتا جو بظاہر بڑی معمولی سی ہوتیں۔ لیکن میرے نفس میں اشتیاق اور حواس میں لذت پیدا کرتی تھیں۔ میں دیر دیر تک فرحت و نشاط کے ساتھ ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔ ان سادہ تصویروں میں سے جو اس وقت میرے ذہن میں مرتسم ہوا کرتی تھیں، ایک وہ تصویر ہے جو اس آیت کو پڑھتے وقت میرے ذہن میں منقش ہوا کرتی تھی:
’’ اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر سے کرتاہے، پس اگر اسے بھلائی پہنچے تو وہ اس (عبادت) پر مطمئن رہتاہے، لیکن اگر اسے کوئی آزمائش پیش آجائے تو وہ (عبادت سے) اپنا منہ موڑ لیتا ہے۔ ایسا آدمی دُنیا و آخرت دونوں طرف سے خسارے میں رہا۔ ‘‘ (سورہ الحج:۱۱)
اس خیالی تصور کو اگر میں کسی کے سامنے پیش کروں تو شاید وہ اس کی ہنسی اُڑائے۔ یہ تصویر یوں بنی کہ میں ایک گائوں میں رہتا تھا اور گائوں کے قریب ہی وادی کا ایک خاص ٹیلہ میری نگاہ میں تھا۔ اسے دیکھ کر میرے تصور میں یہ بات آتی تھی کہ گویا ایک شخص ہے جو ایک جھکے ہوئے بلند مکان کے کنارے پر یا تنگ سے ٹیلے کی چوٹی پر کھڑا نماز ادا کر رہا ہے، لیکن وہ اپنی حالت ِ قیام پر قابو نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنی ہرحرکت کے دوران میں یوں کانپ رہا ہے ، گویا کہ گرا ہی چاہتا ہے۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہوں، اسے دیکھ رہا ہوں، اس کی حرکات پر غور کرتا ہوں اور عجیب کیف و نشاط محسوس کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا
ایسی ہی سادہ اشکال میں سے ایک تصوراتی منظر وہ ہے جو اس آیت کو پڑھتے وقت میرے ذہن میں جاگزیں ہوا تھا: ’’اور (اے نبیؐ) ان کو پڑھ کر سنایئے اُس شخص کا حال کہ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں اور وہ ان کی پابندی سے بھاگ نکلا، پھر اسے اپنے پیچھے لگا لیا شیطان نے اور وہ گمراہوں میںشامل ہوگیا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیات کے ذریعے بلندی عطا کرتے لیکن وہ تو خود ہی زمین سے چپک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑگیا۔ سو (اب) اس کی مثال ایک کتّے کی سی ہے ۔ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ ‘‘ (اعراف : ۱۷۵- ۱۷۶)
میں اس آیت کے مضامین اور اغراض کو تو نہ سمجھتا تھا لیکن یہ نقشہ میرے خیال میں ضرور آتا تھاکہ ایک شخص ہے جس کا منہ کھلا ہوا ہے، زبان لٹک رہی ہے اور وہ کتّے کی طرح مسلسل ہانپ رہا ہے۔ میری نظریں اس سے نہ ہٹتی تھیں۔ لیکن میں یہ نہ سمجھ سکا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ میں اس کے قریب جانے کی جرأت بھی نہ کرسکتا تھا۔
اس طرح کی مختلف صورتیں میرے کوتاہ ذہن میں منقش ہوتی تھیں اور میں ان میں غوروفکر کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتا۔ اس وجہ سے میرا دل قرآن کریم کی تلاوت کا مشتاق رہتا تھا۔قرآنِ مجید پڑھتے وقت اس کی وادیوں میں ایسی تصاویر کو تلاش کرتا رہتا تھا۔ یہ دن وہ تھے جو انہی عمدہ یادوں اور سادہ تخیلات کے ساتھ بیت گئے۔
اس کے بعد وہ زمانہ آیا جب میں نے علمی اداروں میں تحصیل علم کا آغاز کیا اور تفاسیر کی کتابوں سے قرآن کریم سمجھنے کی کوشش کی۔ اساتذہ سے قرآن کی تفسیر سنی لیکن اس پڑھنے اور سننے میں مجھے وہ بے مثال لذت حاصل نہ ہوتی جو مجھے بچپن میں حاصل ہوتی تھی۔ لیکن افسوس کہ شیریں اور حسین و جمیل قرآن جس کی وہ تلاوت جو میں بچپن میں کیا کرتا تھا، پھرکبھی بچپن کے تصورات کے ساتھ نہیں ہوئی۔
واحسرتا! دوران تلاوت تصور کے وہ حسین نشانات خواب و خیال ہوگئے، لذت و اشتیاق جاتی رہی۔ تو کیا یہ دو قرآن ہیں؟ ایک بچپن کا قرآن جو شیریں، سہل اور شوق افزا تھا اور دوسرا جوانی کا قرآن، جو مشکل، پیچیدہ اور بظاہر غیرمربوط! شایدیہ تاثرات مقلدانہ اندازِ تفسیر کا کرشمہ تھے۔
میرے اندر ایک نئے رجحان نے انگڑائی لی اور میں نے کتب تفسیر سے نگاہ ہٹا کر قرآن کو خود قرآن کی مدد سے پڑھنا شروع کیا ۔ حیرت کی بات ہے کہ مجھے پھر میرا کھویا ہوا حسین اور دل خوش کن قرآن میسر آگیا۔ قرآن سے شوق و محبت پیدا کرنے والی وہی سرورآفریں تصاویر مجھے پھر مل گئیں۔ لیکن اب یہ پہلے کی طرح سادہ نہ تھیں، کیونکہ مَیں بدل گیا تھا ان معنوں میں کہ میرے فہم میں تغیر آگیا تھا۔ اب میں ان کے اغراض و مقاصد کو سمجھ رہا تھا اور جانتا تھاکہ وہ زندگی میں پیش آنے والے بعض واقعات کی مثالیں ہیں جو نمایاں کی جارہی ہیں لیکن ان کی اثرآفرینی اور جاذبیت لازوال اور دائمی ہے۔
الحمدللہ! میں نے قرآن کو پالیا!
یہ بھی پڑھئے: انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے
قرآن کی سحر طرازی
قرآن کریم نے آغازِ نزول سے عربوں کو اپنی سحرطرازی سے مسحور کرلیا تھا۔ اس سے وہ لوگ بھی مسحور ہوئے جن کے سینے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا اور وہ اس کی آغوش میں آگئے ، اور وہ بھی جن کی آنکھوں پر اللہ نے پردہ ڈال دیا اور وہ نورِ قرآن سے مستفید نہ ہوسکے۔
حضرت عمرؓ بن الخطاب کے اسلام لانے اور ولید بن مغیرہ کی اسلام سے روگردانی اختیار کرنے کے واقعات، ایمان و انحراف کے کثیر واقعات میں سے دو عجیب نمونے ہیں۔ روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے اپنی بہن فاطمہ کے گھر سورہ طٰہ کی چند آیات پڑھیں اور حضور ؐ کے پاس پہنچ کر مسلمان ہوگئے اگرچہ نکلے تھے آپؐ کو قتل کرنے۔
ولید بن مغیرہ نے حضورؐ سے قرآن کا کچھ حصہ سنا اور اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ یہ دیکھ کر قریش کہنے لگے: ولید دین سے پھر گیا۔ ولید کہنے لگا کہ میں قرآن کے بارے میں کیا کہوں؟ بخدا تم میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو شعر، ترانہ، قصائد حتیٰ کہ جنوں کے اشعار کے بارے میں بھی مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ محمدؐ جو قرآن سناتے ہیں وہ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی مشابہت نہیں رکھتا۔ خدا کی قسم، جو کلام ان پر نازل ہوا ہے اس میں شیرینی پائی جاتی ہے، اس میں تروتازگی اور شادابی کے آثار ہویدا ہیں، جو چیز بھی اس کے مقابل آتی ہے اس کو ریزہ ریزہ کر ڈالتا ہے اور وہ غالب ہے، مغلوب نہیں۔‘‘
یہ دونوں واقعات اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ قرآن نے آغاز ہی میں اپنے سحر سے عربوں کو مسحور کرلیا تھا اور اس کا اعتراف اہل ایمان اور کفار سب ہی کو تھا۔
قرآن مجید نے بعض کفار کا جو یہ قول نقل کیا ہے ، قرآن کی سحربیانی پر دلالت کے لئے وہ بھی کسی طرح ان دو واقعات سے کم نہیں ہے :
’’اور کافر لوگ کہتے ہیں: تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرات کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہو۔‘‘
(حم السجدہ:۲۶)
یہ آیت اس خوف و اضطراب کی نشاندہی کرتی ہے جو ان کے دلوں میں اس لئے جاگزیں تھا کہ مبادا وہ خود یا ان کے ساتھی اور پیروکار اس قرآن سے متاثر ہوجائیں۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جونہی محمدؐ ان ان کے رفقاء میں سے کسی نے بھی ایک یا دو سورتیں تلاوت کیں تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اگر وہ قرآن خوانی سے اپنے قلب و ضمیر میں قلق و اضطراب محسوس نہ کرتے تو اپنے متعلق کو یہ حکم صادر نہ کرتے اور نہ ہی اپنی قوم کو ایسی تنبیہ کرتے جو قرآن کی قوت ِ تاثیر کی عظیم ترین دلیل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مساجد مسلمانوں کو جوڑنےاور اُن میں محبت پیدا کرنے میں معاون ہوسکتی ہیں
تاثیر ِ قرآن
یہ بحث نامکمل رہے گی اگر ان آیات کا تذکرہ نہ کریں جن میں وارد ہوا ہے کہ قرآن نے نازل ہوکر کس طرح لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ یہود و نصاریٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد فرمایا گیا:
’’جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘ (المائدہ:۸۳)
یہ اس وجدانی تاثر کی منظرکشی ہے جو سماع قرآن سے ان میں پیدا ہوا۔ اور یہ کہ ان کی آنکھوں سے آنسو اس لئے جاری ہوگئے تھے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔
قرآن حکیم میں دوسری جگہ فرمایا گیا:
’’جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں:پاک ہے ہمارا رب، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔‘‘ (الاسراء: ۱۰۷۔۱۰۸)
قرآن مجید سن کر اللہ سے ڈرنے والوں کی تصویر ان الفاظ میں بھی کھینچی گئی ہے:
’’اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔‘‘ (الزمر:۲۳)
درج بالا آیات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ قرآنی آیات میں وہ تاثیر ہے جو وجدان کو متاثر کرتی ہے، احساسات و جذبات میں ہیجان پیدا کرتی ہے، آنسوؤں کی جھڑیاں باندھ دیتی ہے۔ جو لوگ ایمان لانے کے آرزو مند ہوتے ہیں وہ قرآن کو سنتے ہی اس کے سامنے اپنا سر ِنیاز جھکا دیتے ہیں۔ جو لوگ کبر و غرور کے مارے اپنے آپ کو اس سے بالاتر سمجھتے ہیں وہ بھی شعوری یا غیرشعوری طور پر قرآن کے عظیم اعجاز کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہتے۔