انسانی رشتوں کے حقوق کی ادائیگی اور اس کی پاس داری میں ہی زندگی کی اصل خوب صورتی ہے۔ رشتوں میں پائیداری کے لئےبے لوث محبت اور پُرخلوص خدمت ازحد ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 3:55 PM IST | Naaz Afreen | Mumbai
انسانی رشتوں کے حقوق کی ادائیگی اور اس کی پاس داری میں ہی زندگی کی اصل خوب صورتی ہے۔ رشتوں میں پائیداری کے لئےبے لوث محبت اور پُرخلوص خدمت ازحد ضروری ہے۔
انسانی رشتوں کے حقوق کی ادائیگی اور اس کی پاس داری میں ہی زندگی کی اصل خوب صورتی ہے۔ رشتوں میں پائیداری کے لئےبے لوث محبت اور پُرخلوص خدمت ازحد ضروری ہے۔ خداوند کریم نے جہاں ان رشتوں کی پاسبانی کی ہدایت کی ہے، وہیں ان کی اہمیت اور مرتبہ بھی واضح کر دیا ہے۔ بنی آدم کو ربِّ کائنات نے بنیادی طور پر دو طرح کے حقوق دیئے ہیں: پہلاحقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد۔ حقوق العباد کی حفاظت، ان کی ادائیگی اور تکمیل کا راستہ، قرآن و حدیث کی اطاعت و پیروی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ذیل کی سطور میں چند حقوق کا ذکر کیا گیا ہے:
والدین کے حقوق: قرآنِ مبین میں کئی مقامات پر والدین کے حقوق پر احکام آئے ہیں۔ والدین ہی سے ہماری جنّت اور جہنّم وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نرمی اور حُسنِ سلوک کی تاکید کی ہے۔ حقوق اللہ کے بعد بندوں کے حقوق میں سرفہرست اطاعت و فرماں برداری والدین کی ہے۔ ان کے مقام و مرتبہ اور فضیلت کا تذکرہ کئی جگہوں پر کیا گیا ہے۔
حدیث پاک ہے: ’’ایک آدمی نے اللہ کے رسولؐ سے پوچھا: میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ تو آپؐ نے فرمایا: پھر تیرا باپ، پھر درجہ بدرجہ جو تیرے قریب لوگ ہیں‘‘۔(ابن ماجہ) اس حدیث پاک سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا درجہ باپ سے بڑا ہے۔ اس لئےکہ ولادت کے دوران عورت ایک قسم کے تخلیقی مراحل سے گزرتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ والد کی اہمیت کم ہے۔ والد جنّت کے دروازوں میں ایک دروازہ ہے۔ اُس شخصیت کی عظمت کا بیان کون کرسکتا ہے کہ جس کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنا بھی باعث اجروثواب ہے۔ والدین کی اہمیت اس حدیث سے بالکل واضح ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی فیصلے صرف عقل کا نتیجہ نہیں ہوتے
حقوقِ زوجین : اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں حقوقِ زوجین کو بھی بیان کیا ہے (سورئہ نساء، سورئہ روم:۲۱ اور سورئہ بقرہ:۱۸۷)۔ اس بیان کا مقصد یہی ہے کہ کسی کی حق تلفی اور دل آزاری نہ ہو۔ اس رشتے کا آغاز ہی اعتماد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ دونوں کے باہمی تعاون سے ہی گھر کا سکون بحال رہ سکتا ہے۔ ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کیلئے دونوں فریقین کا ایک دوسرے پر اعتماد بے حد ضروری ہے۔
قرآن میں ان دونوں کو ایک دوسرے کا ’لباس‘ کہا گیا ہے۔ ’لباس‘ سےمراد ایک دوسرے کی اچھائیوں کو سمجھنا اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ اس رشتے میں ذہنی ہم آہنگی کا ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے عورت کے لئےاپنے شوہر کا احترام لازم کیا، تو اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں کہ خاوند صرف اس بنیاد پر اندھی حاکمیت چلانے لگ جائے بلکہ شوہر کے جو اوصاف اسلام میں بتائے گئے ہیں، انہیں ملحوظ رکھا جائے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’تم میں کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں اور تم میں بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔‘‘ (ترمذی)
اسی طرح قرآن کریم میں متعدد مقامات پر انہیں ان کے حقوق کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، اور بعض مقامات پر تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں ’راعی‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا گیا ہے۔
اولاد کا حق:والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو اپنی استطاعت کے مطابق کھلائیں، پہنائیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اللہ نے خصوصی طور پر والدین کو مخاطب کیا ہے کہ تم اپنے ماتحت کو رزقِ حلال کھلائو۔ بیٹا اور بیٹی کا فرق بالکل نہ کرو۔ رزق کی تنگی کے ڈر سے نہ انھیں قتل کرو اور نہ ان کے ساتھ بدسلوکی کرو۔ اصل میں والدین صرف ایک ذریعہ ہیں۔ حقیقی کفالت کرنے والا تو خدائے رحمٰن ہے، جو صاف صاف کہتا ہے کہ رزق دینےوالا مَیں ہوں۔
’’حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: اجروثواب کے اعتبار سے وہ دینار بہتر ہے جو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو‘‘۔ (مسلم ، کتاب الزکوٰۃ)
یہ بھی پڑھئے: مساجد مسلمانوں کو جوڑنےاور اُن میں محبت پیدا کرنے میں معاون ہوسکتی ہیں
اسی رشتے کی ایک اہم کڑی بھائی بہن کا تعلق ہے، جو نہایت مقدس اور پاکیزہ ہے۔ بھائی کو بہن کیلئےاس کا مان ہونا چاہئے، اسی طرح بہن کو بھی بھائی کے لئےاس کا فخر بننا چاہئےمگر بدقسمتی سے آج ہمارے معاشروں کے حالات اس کے برعکس ہیں اور کئی جگہوں پر بھائی بہنوں میں بھی اختلافات کی خبریں ملتی ہیں۔
پڑوسیوں کا حق:اللہ کے نبی ؐ نے ہمیشہ اپنے گھروالوں اور صحابہ کرامؓ کو پڑوسیوں کے حقوق کے سلسلے میں عمدہ نصیحتیں کی ہیں۔ ان کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنے کی ترغیب دی ہے۔ یہی بات اُمت مسلمہ پر بھی لازم آتی ہے۔ اس لئےکہ چھوٹی بڑی پریشانی میں پہلے پڑوسی شامل ہوتے ہیں، بعد میں رشتہ دار آتے ہیں۔ دو بھائیوں سے پہلے دو پڑوسیوں کا حساب لیا جائے گا۔ ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا سوجائے۔
’’حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: جبریلؑ ہمیشہ مجھے ہمسایہ کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ عنقریب اسے وارث بنادیں گے۔‘‘ (بخاری)
رشتہ داروں کے حقوق: حقوق العباد کی ایک اہم کڑی رشتہ داروں سے حُسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ان کے ساتھ ادب اور تمیز سے بات کرنا ہے۔ ان کے ساتھ نرمی اور صلہ رحمی کا معاملہ کرنا ہے، تاکہ رشتوں میں حُسن اور محبت قائم رہے۔ اس میں مضبوطی اور پائیداری رہے۔ اس طرح سے پیش آنے کے باوجود کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اگلا شخص بدظن ہو اور اچھائی کا جواب بُرائی سےدے۔ ان حالات میں صبر کرتے ہوئے حُسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والوں کے لئےدگنا اجر ہے۔ ان رشتوں کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے: حضرت ابن عمرؓ راوی ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتہ دار اس سے کٹیں توو ہ ان سے جڑے۔‘‘ (صحیح بخاری)
خادم کے حقوق : عرب میں عام رواج تھا کہ غلاموں سے کام لیا جاتا تھا۔ ان غلاموں کے ساتھ بعض لوگ نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے اوربعض افراد بے جا سختی کرتے تھے۔ غلاموں کی اپنی کوئی زندگی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اللہ کے رسولؐ نے خادموں اور غلاموں کے ساتھ شفقت اور محبت کا رویہ اختیارکرنے کی تلقین کی۔ یہاں تک کہ آپؐ نے وصال سے قبل جو الفاظ بیان فرمائے ان میں لفظ ’غلام‘ بھی تھا۔
حدیث پاک کا حصہ ہے کہ ’’غلاموں کو وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائےجو وہ خود پہنتا ہے، اور اس پر کام کا اتنا بوجھ ڈالے، جو اس کی طاقت سے باہر نہ ہو، اور اگر اس پر ایسے کام کا بوجھ ڈالے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اور وہ اسے نہ کرپا رہا ہو تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔‘‘ (صحیح بخاری)
بیوہ و یتیم کے حقوق: اسلام واحد مذہب ہے جس نے حقوقِ نسواں کو زمین پر نافذ کیا جس سے معاشرے میں خواتین کو ان کا جائز مقام ملا۔ اسی طرح یتیم بچوں کی کفالت کا بھی بہترین انتظام کیا۔
اس حکیمانہ نظام نے ایک ساتھ بیوہ اور یتیم دونوں کی کفالت کا مسئلہ حل کیا۔ یتیم کی کفالت یا سرپرستی کرنے والے کو اللہ پسند کرتا ہے۔ اس کے ولی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے بالغ ہونے تک اس کے جان و مال کی حفاظت کرے، اسے ستائے نہیں بلکہ رحم دلی سے پیش آئے۔
حضرت سہل بن سعدؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’مَیں اور یتیم کا سرپرست، ہم دونوں جنّت میں اس طرح ہوں گے۔ یہ کہہ کر آپؐ نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللّعان، حدیث: ۵۰۰۲)
یہ بھی پڑھئے: خبردار!فتنۂ قادیانیت میں اسلامی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں
مسلمان کا مسلمان پر حق: ایک مسلم دوسرے مسلم بھائی کے لئےستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ایک کسی پریشانی و مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسرا اسے حوصلہ دیتا ہے۔ اسے صبرکی تلقین کرتا ہے۔ اس کی خوشی اور اس کے غم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ ایک مومن طعنہ دینے والا نہیں ہوسکتا، حفاظت کرنے والا ہوتاہے۔ وہ ہلاکت کو دفع کرنےوالا ہوتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کو ذلیل کرے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ تقویٰ یہاں ہے۔آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ آدمی کے بُرا ہونے کے لئےیہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہرمسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، مال اور آبرو حرام ہے‘‘۔(مسلم، کتاب البّر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم، حدیث: ۴۷۵۶)
حقوق العباد کی ادائیگی مرد و زن پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ کے یہاں فیصلہ انسان کے اوصاف کی بنیاد پر ہوگا۔ جوانسان کسی ظلم کا بارِ گناہ اُٹھائے ہوئے آئے گا ، خواہ اس نے حق تلفی اپنے خدا کے حقوق پر کی ہو،یا خلقِ خداپر، یا پھر اپنے نفس پر، اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ عدل و انصاف اور محبت و اخوت کا ساتھ دینےوالوں کو ہی کامیابی حاصل ہوگی۔ بہتر اور صالح معاشرے کا وجود اسی احترام کا متقاضی ہے اور اس کی پاسداری از حد ضروری۔