مسجد ہر آبادی کے لئے مرکزی مقام ہے۔ اس کا سب سے اہم اور لازمی استعمال تو باجماعت نماز کی ادائیگی ہے، تاہم جس طرح نماز انسانی زندگی پر غیر معمولی اور نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے، اسی طرح مسجد کے فائدے بھی بے شمار ہیں۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 3:49 PM IST | Muhiuddin Ghazi | Mumbai
مسجد ہر آبادی کے لئے مرکزی مقام ہے۔ اس کا سب سے اہم اور لازمی استعمال تو باجماعت نماز کی ادائیگی ہے، تاہم جس طرح نماز انسانی زندگی پر غیر معمولی اور نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے، اسی طرح مسجد کے فائدے بھی بے شمار ہیں۔
مسجد ہر آبادی کے لئے مرکزی مقام ہے۔ اس کا سب سے اہم اور لازمی استعمال تو باجماعت نماز کی ادائیگی ہے، تاہم جس طرح نماز انسانی زندگی پر غیر معمولی اور نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے، اسی طرح مسجد کے فائدے بھی بے شمار ہیں۔ مسجد کا مثالی کردار یہ ہے کہ اس سے گردوپیش کی آبادی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ اگر آبادی دین سے دور ہے تو وہ دوری ختم ہو، اگر آبادی تعلیمی، معاشی اور سماجی پہلو سے پس ماندہ ہے تو اس کی پس ماندگی دور ہو اور وہ ترقی کی راہ پر چل پڑے، اگر آبادی میں انتشار وافتراق اور گروہ بندیاں ہیں تو مسجد کی برکت سے یہ سب کچھ ختم ہو اور آبادی میں اتحاد و اتفاق قائم ہو۔ مسجد کے ذریعے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کیا جائے اوران کی خوشیوں کو دوبالا کیا جائے۔
مسجدوں کو آباد رکھیں
مسجد سے ہمارا گہرا رشتہ ہونا چاہئے۔ اسے قرآن مجید میں عمارة (آباد کرنے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے:
’’خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والے لوگوں میں ہوں۔‘‘ (سورہ التوبہ:۱۸)۔ مسجد میں دیر تک بیٹھیں، حمد و تسبیح کریں، قرآن مجید کی تلاوت کریں اور آیتوں پر غور و فکر کریں۔ جب ماحول پر مادہ پرستی کا غلبہ ہو، سماج میں صرف مادیت کی باتیں ہورہی ہوں ایسے میں اپنے دل ودماغ کو کچھ دیر کیلئے سہی، روحانی ماحول دینے کیلئے مسجد بہترین مقام ہے جہاں انسان کو روحانی سکون، روحانی پاکیزگی اور روحانی توانائی مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش: کبھی اس پر بھی غور کیجئے!
قرآن کریم میں فرمایا گیا: ’’(اللہ کا یہ نور) ایسے گھروں (مساجد اور مراکز) میں (میسر آتا ہے) جن (کی قدر و منزلت) کے بلند کئے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کئے جانے کا حکم اللہ نے دیا ہے (یہ وہ گھر ہیں کہ اللہ والے) ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں، (اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔‘‘(سورہ النور: ۳۶۔۳۷)۔ مسجد میں رہنے والوں کے بارے میں ایک حدیث میں بڑی پیاری بات بتائی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’مسجدوں میں کچھ کھونٹے ہوتے ہیں (یعنی ایسے لوگ جو مسجد میں کھونٹے کی طرح جمے رہتے ہیں)، ان کی ہم نشینی فرشتے کرتے ہیں، وہ کبھی غیر حاضر ہوں تو ان کی کمی محسوس کرتے ہیں، اگر بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اورانہیں کوئی ضرورت ہو تو ان کی مدد کرتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد)
اتحاد و اتفاق کی تربیت گاہ
مسجد کا مقام اور باجماعت نماز کی شان تو یہ ہے کہ جو لوگ مسجد اور باجماعت نماز سے وابستہ ہوجائیں وہ اتحاد واتفاق کے سب سے بڑے علمبردار بن جائیں۔ لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ دینی معاملات کو لے کر مسجد میں بھی اختلافات اور تنازعات ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ مسجد اور باجماعت نماز کے پیغام پر دھیان نہیں دیتے۔ مضبوط اجتماعیت کی زبردست پریکٹس روز دن میں پانچ بار کرتے ہیں، مگر انھیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس چیز کی ٹریننگ لے رہے ہیں۔مسجد اتحاد و اتفاق کی بہترین تربیت گاہ بن سکتی ہے، اگر باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے انسان اجتماعیت کا درس بھی دل میں بٹھالیں کہ کس طرح ایک امام کے پیچھے سب ایک صف میں قریب قریب کھڑے ہوتے اور ایک ساتھ نماز کے تمام اعمال انجام دیتے ہیں۔ مسجد میں باہمی رواداری کی بہترین تربیت ہوسکتی ہے اگر سبھی نمازی ایک دوسرے کی نماز کا احترام کریں اور اپنی نماز کی طرح اوروں کی نماز کو بھی صحیح سمجھیں۔
مسجد میں آپسی محبت پروان چڑھ سکتی ہے اگر یہ خیال رہے کہ مسجد کے تمام ساتھی جواللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں، اپنی اس ادا کی بنا پر اللہ کو محبوب ہوں گے،اس لئے مجھے بھی ان سے محبت کرنی چاہیے۔
ایک حدیث میں اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا وہ مسلم ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہے، اس لئے اللہ کی امان توڑنے کی کوشش مت کرو۔‘‘ (صحیح البخاری)
یہ بھی پڑھئے: جی ہاں، توہم پرستی اکیسویں صدی میں بھی ہے
اپنے ساتھ نماز پڑھنے والوں سے قلبی رشتہ قائم کریں،یہ سوچ کر کہ اللہ کی محبت میں آپ اور وہ دونوں شریک ہیں۔ جس طرح اللہ کی محبت آپ کو مسجد کھینچ لائی ہے انہیںبھی کھینچ لائی ہے۔
نماز میں اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ تنوّع رکھا ہے۔ یہ تنوّع نماز کے اذکار میں بھی ہے اور اعمال میں بھی ہے۔ اس تنوّع کو برتنے سے رواداری کی بہترین تربیت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کچھ لوگ آمین زور سے کہتے ہیں اور کچھ دھیرے سے کہتے ہیں اور کوئی کسی کو غلط نہ سمجھے تو اس سے رواداری کی تربیت ہوگی۔
اس پہلو سے مسجد ایک پیمانہ بھی ہے۔ اگر مسجد میں لوگ مختلف طرح کے تنوعات کو دل سے قبول کررہے ہیں اور ان تنوعات کے ساتھ تضادات کی طرح تعامل نہیں کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں رواداری ہے، لیکن اگر معاملہ برعکس ہے اور مسجد کے اندر کسی طرح کا تنوع گوارا نہیں کیا جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں رواداری ختم ہوچکی ہے اور صورت حال سنگین ہوگئی ہے۔ مسلم معاشرے کی خرابی کا علاج بھی مسجد کے ذریعے ہی بہتر طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔
بات بات پر ٹوکنے کا ماحول نہیں ہونا چاہیے:
بے جا روک ٹوک اور بے محل نکیر سے اختلافات میں شدّت آتی ہے۔ عوام کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں کس چیز کی کتنی اہمیت ہے، اس لئے ہر وہ چیز جو انہیں معمول سے مختلف نظر آتی ہے، اسے غلط سمجھتے ہیں اور اس پر ٹوکنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کوئی ٹوپی نہ پہننے پر ٹوک دیتا ہے تو کوئی نماز کے بعد دعا نہ مانگنے پر۔ اگرنماز میں کسی کے موبائل کی گھنٹی بج گئی تو اسے بہت سے لوگو ں کی کھری کھری سننا پڑتی ہے۔ کوئی اپنے ساتھ بچہ لے آئے اور وہ شرارت کرے پھر تو اس کی خیر نہیں۔ جن مسائل میں شریعت نے تنوع اور کشادگی رکھی ہے، بے علمی کی وجہ سے اس پر بھی لوگ نکیر کرنے لگتے ہیں۔ غرض روک ٹوک اور بے جا ملامت سے مسجد کا ماحول بہت تنگ اور گھُٹا گھُٹا سا بن جاتا ہے۔نمازی کو ہر وقت دھڑکا لگارہتا ہے کہ کس بات پر اسے ٹوک دیا جائے۔ یہ رویہ صحت مند نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی فیصلے صرف عقل کا نتیجہ نہیں ہوتے
مسجد میں زیادہ توجہ اپنے عمل اور اپنے دل کی کیفیت کی طرف ہونی چاہئے، دوسروں کے اعمال کی نگرانی پر آپ مامور نہیں کئے گئے ہیں۔ نکیر کا عمل کھلے منکرات اور بڑی غلطیوں تک محدود ہونا چاہئے اور اس میں بھی اگر کسی کو کسی بات کی طرف توجہ دلانی ہے تو تنہائی میں اور شفقت و نرمی کے ساتھ اپنی بات رکھ دینی چاہئے۔ اس سے پہلے کسی صاحب بصیرت عالم سے معلوم کرلینا چاہئے کہ اس بات پر ٹوکنے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔n