گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے مضمون ’’بے پناہ تھا صحابہ کرامؓ کا قرآن مجید سے تعلق!‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ جس میں مزید چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 4:02 PM IST | Dr. Akhtar Hussain Azmi | Mumbai
گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے مضمون ’’بے پناہ تھا صحابہ کرامؓ کا قرآن مجید سے تعلق!‘‘ کا دوسرا اور آخری حصہ جس میں مزید چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
حضرت امام حسینؓ کا غلام اُن کے دسترخوان پر کھانے کا پیالہ لایا، اس کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ گیا۔ آپؒ کا لباس شوربے میں لتھڑ گیا۔ آپؓ نے غضبناک نظروں سے غلام کی طرف دیکھا۔ اس نے سورۂ آل عمران کی آیت۱۳۴؍ کا ایک حصہ پڑھا: وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ ’’غصہ پی جانے والے مومنین ہیں۔‘‘ آپؓ نے فرمایا: میں نے غصہ پی لیا۔ خادم نے آیت کا اگلا حصہ پڑھا: وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ’’اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں‘‘۔ سیدنا امام حسینؓ نے کہا: میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے آیت کا آخری حصہ پڑھا: وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ’’اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ آپؓ نے فرمایا: جائو میں نے تمہیں آزاد کیا۔ (سیرتِ حسینؓ، ص:۱۳۱)
حرؓ بن قیس کو امیر المومنین حضرت عمرؓ کے ہاں قدر و منزلت حاصل تھی۔ ان کا بھائی عُیَینہ بن حِصن ایک بدّو سردار تھا اور اکھڑ مزاجی اس کی طبیعت کا حصہ تھی۔عُیینہ اپنے بھائی حرؓ کے ہمراہ امیرالمومنینؓ کے ہاں پہنچے تو عُیینہ نے کرخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا:’’آپؓ ہمیں کچھ بھی مال نہیں دیتے۔ آپؓ ہمارے ساتھ عدل سے فیصلہ نہیں کرتے۔‘‘ حضرت عمرؓ کو اس کی بات بہت بُری لگی اور ممکن تھا کہ وہ اسے سزادیتے۔ حضرت حرؓ بن قیس نے اپنے بھائی کی اس کی گستاخی پر امیر المومنینؓ کی ناراضگی کو بھانپ لیا اور یہ آیت پڑھی: ’’نرمی و در گزر کا طریقہ اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔‘‘ (اعراف: ۱۹۹) یہ سن کر حضرت عمرؓ کا غیظ و غضب فوراً کافور ہو گیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
یہ بھی پڑھئے: انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے
لذتِ تلاوت ایسی تھی کہ تیر کھانے کا بھی احساس جاتا رہا
قرآن مجید، اس کتابِ الٰہی کے سننے سے اہلِ ایمان کے بدن کےرونگٹے کھڑے ہونے، دلوں کے نرم پڑنے اور یادالٰہی کی طرف متوجہ ہونے کی خبر دیتا ہے:’’اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر اُن کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔‘‘ (الزمر : ۲۳)
ایک غزوہ سے واپسی پر حضورؐ نے ایک گھاٹی میں رات کو پڑائو کیا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبادؓ بن بِشر انصاری گھاٹی کے سرے پر پہرے دار مقرر ہوئے۔ رات کے پہلے حصے کے لئے عبادؓ بن بِشر کا جاگنا طے ہوا اور عمار بن یاسرؓ سو گئے۔ عبادؓ بن بِشر کھڑے ہو کرنفل پڑھنے لگے۔ اس دوران ایک تیر عبادؓ بن بِشرکی پسلی میں آ کر لگا۔ انہوں نے اسے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی۔ کچھ دیر بعد ایک اور تیر ان کے پہلو میں آ کر لگا لیکن انھوںنے نماز توڑے بغیر تیرنکال دیا۔ اب تیسرا تیر آکر لگا، انہوں نے نماز مکمل کی تو ان کا کافی خون بہہ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھی عمار بن یاسرؓ کو جگا کر اپنی صورت حال بتائی۔
عمار بن یاسرؓ نے انہیں خون آلود دیکھ کر کہا:’’سبحان اللہ! آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتایا جب آپ کو پہلا تیر لگا تھا؟ حضرت عبادؓ بن بِشرنے کہا:میں اس وقت نماز میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے گوارا نہ کیا کہ اسے درمیان میں چھوڑ دوں۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بکثرت خون بہنے سے میری موت واقع ہو سکتی ہے اور تمہیں جگا کر مورچہ سنبھالنے کا فرض ادا نہ کیا تو میں ایک بڑی خیانت کا مرتکب ہوں گا، تو میں کبھی سورۂ کہف کی تلاوت نہ چھوڑتا، خواہ میری جان ہی چلی جاتی۔‘‘(سیرۃ ابن ہشام، ص ۷۴۹، ابن قیم، زاد المعاد، ۲/۱۱۲ )
آخرت اور حساب کی آیات پر خوف سے روتے رہے
حضرت مجاہد تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس جا کر یہ واقعہ بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اس آیت: ’’تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کر و یا چھپائو، اللہ اس کا حساب تم سے لے لے گا‘‘ (البقرۃ : ۲۸۴) کی تلاوت کی تو بہت روئے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا: اس آیت کے نزول پر یہی حال دیگر صحابہ کا بھی ہوا تھا۔ وہ سخت پریشان ہوئے۔ حضورؐ سے عرض کیا کہ دل کے خیالات پر بھی پکڑے گئے تو بڑی مشکل ہوگی کیونکہ دلوں پر تو اختیار نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا (ہم نے سنا اور اطاعت کی) کہو۔ انھوں نے جب یہ کہا تو آیت’’اﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا ‘‘(البقرۃ : ۲۸۶) نازل ہوئی۔ اس آیت نے طے کردیا کہ عمل پر تو پکڑ ہوگی لیکن دل کے خیالات اور نفس کے وسوسوں پر پکڑ نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری، کتاب العتق، صحیح مسلم، کتاب الایمان، مسنداحمد، تفسیر ابن کثیر)
عبد الله بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نماز فجر کی امامت میں یہ آیت پڑھ رہے تھے:’’میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اﷲ کے حضور کرتا ہوں۔‘‘(یوسف: ۸۶) اس آیت کی تلاوت کے وقت ان کے رونے کی آواز میں سن رہا تھا حالانکہ میں اس وقت سب سے آخری صف میں تھا۔ (بخاری، رقم : ۷۱۵، ابن ابی شیبہ ۷ / ۲۲۴)
یہ بھی پڑھئے: مساجد مسلمانوں کو جوڑنےاور اُن میں محبت پیدا کرنے میں معاون ہوسکتی ہیں
تمیم داری پوری رات تہجد میں سورئہ جاثیہ کی یہ آیت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی: ’’کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کما رکھی ہیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں اُن لوگوں کی مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے (کہ) اُن کی زندگی اور ان کی موت برابر ہو جائے۔؟ جو دعویٰ (یہ کفّار) کر رہے ہیں نہایت برا ہے، (الجاثیہ:۴۵) (طبرانی بحوالہ ابن کثیر ۵ / ۸۴)
جُبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے نماز مغرب میں حضورؐ سے سورۂ طورسُنی جب حضوؐر آیت ۳۵ ’’کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کر دیئے گئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں‘‘ اور اس سے اگلی آیات پر پہنچے تو میری حالت یہ ہو گئی کہ قریب تھا کہ میرا دل اڑ جاتا۔ اس موقع پر ایمان میرے دل میں جا گزیں ہو گیا۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث: ۴۰۲۳، ۴۸۵۴)
براءؓ بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت اُسیدؓ بن حضیر سورۂ کہف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا قریب ہی دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ اچانک بادل چھا گئے۔ آہستہ آہستہ وہ بادل قریب ہونے لگے اور گھوڑا اُچھل کود کرنے لگا۔ اُسَیدؓ بن حضیر دیکھنے کے لئے باہر نکلے لیکن انھیں کچھ نظر نہ آیا۔ جب صبح ہوئی اور اللہ کے رسولؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے فلاں! قرآن پڑھو، بے شک یہ وہ سکینت تھی جو قرآن کی قرأت کے وقت نازل ہوتی ہے۔‘‘(بخاری، کتاب المناقب)
صحابیؓ نے چراغ بجھا کر مہمان نوازی کی تو آیت نازل ہوئی!
صحابہ کرامؓ نے قرآن کے رنگ میں اس طرح خود کو رنگ لیا تھا، کہ انھوں نے کوئی عمل کیا تو اس کی تعریف خود اللہ نے مختلف مواقع پر فرمائی۔
بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسولؐ کے پاس آیا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! سخت ضرورت مند ہوں مجھے کچھ کھلوائیے۔ آپؐ نے اپنے گھروں کی طرف آدمی بھیجا لیکن تمام گھروں سے جواب ملا کہ کھانے کی کوئی چیز موجود نہیں۔ اب آپؐ نے صحابہ سے کہا: ہے کوئی جو آج اس مسافر کی مہمان نوازی کرے؟
یہ بھی پڑھئے: خبردار!فتنۂ قادیانیت میں اسلامی اصطلاحات استعمال ہورہی ہیں
ایک انصاری نے کہا کہ حضوؐر میں اس کی مہمان نوازی کروں گا۔ وہ مہان کو گھر لے گئے اور بیوی کو کہا کہ یہ اللہ کے رسولؐ کے مہمان ہیں۔ آج ہمیں چاہے کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن یہ بھوکے نہ رہیں۔ بیوی نے کہا کہ آج گھر میں صرف اتنا کھانا ہے کہ بچے سیر ہو سکیں۔ انصاری نے کہا کہ بچوں کو تو بہلا پھسلا کر سُلا دو اور ہم دونوں بھی فاقے سے رات گزار لیں گے، اور کھانے کے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ مہمان کو پتہ نہ چلے کہ ہم کھا رہے ہیں یا نہیں، تاکہ وہ سیر ہو کر کھا لے۔ چنانچہ کھانا رکھتے ہی بیوی نے چراغ کو درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دیا۔ مہمان نے کھانا کھایا اور سارے خاندان نے رات بھوک سے گزاری۔
صبح جب یہ انصاری مہمان کے ساتھ خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: اس شخص اور اس کی بیوی کے رات کے عمل سے اللہ خوش ہوا ۔‘‘ انہی کے بارے میں سورۂ حشر کی آیت ہے کہ : ’’وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود انھیں کتنی ہی سخت حاجت ہو۔‘‘(الحشر : ۹) نازل ہوئی۔