انسان کی زندگی اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹی جائے تو وہ لفظ ’’سیکھنا‘‘ ہوگا۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ نہ زبان جانتا ہے، نہ دنیا کے اصول، نہ تعلقات کے تقاضے اور نہ ہی اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 5:15 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai
انسان کی زندگی اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹی جائے تو وہ لفظ ’’سیکھنا‘‘ ہوگا۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ نہ زبان جانتا ہے، نہ دنیا کے اصول، نہ تعلقات کے تقاضے اور نہ ہی اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔
انسان کی زندگی اگر کسی ایک لفظ میں سمیٹی جائے تو وہ لفظ ’’سیکھنا‘‘ ہوگا۔ انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ نہ زبان جانتا ہے، نہ دنیا کے اصول، نہ تعلقات کے تقاضے اور نہ ہی اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ وہ بدلتا ہے، سمجھتا ہے، ردِّ عمل دیتا ہے اور ایک شخصیت میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ سارا عمل دراصل سیکھنے کا ہی نتیجہ ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی سیکھتا رہتا ہے، لیکن وہ یہ کم ہی سمجھتا ہے کہ وہ کیسے سیکھ رہا ہے۔ وہ یہ تو دیکھتا ہے کہ اس نے کیا سیکھا، مگر یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے سیکھنے کا طریقہ کیا ہے، اور یہیں اصل فہم کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
عام طور پر سیکھنے کو علم حاصل کرنے سے جوڑ دیا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ علم سیکھنے کا صرف ایک حصہ ہے، جبکہ اصل سیکھنا وہ ہے جو انسان کے اندر تبدیلی لائے۔ اگر کوئی شخص بہت کچھ جانتا ہو مگر اس کے فیصلے، رویے اور زندگی کا انداز نہ بدلے تو اس کا علم محض معلومات رہ جاتا ہے، سیکھنا نہیں بنتا۔ اس طرح سیکھنے کو سمجھنے کے لئے ہمیں معلومات سے آگے جا کر انسان کے اندر ہونے والے عمل کو دیکھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: حالات کا تقاضا ہے کہ فکرِ رضا کا اعادہ کیا جائے، اسے رسمی نہ بنایا جائے
نفسیات کے مطابق سیکھنے کا عمل ایک تین سطحی نظام کے تحت ہوتا ہے:
ادراک (Understanding)، تجربہ (Experience) اور تثبیت ، ثبت کرنا یا عمل میں لے آنا (Consolidation)۔ یہ تینوں سطحیں مل کر انسان کے ذہن میں نئی ساخت پیدا کرتی ہیں۔
سب سے پہلے انسان ادراک کے ذریعے سیکھتا ہے۔ وہ کسی چیز کو دیکھتا ہے، سنتا ہے، اس کے بارے میں سوچتا ہے اور ایک مفہوم اخذ کرتا ہے۔ یہی مفہوم اس کے ذہن میں ایک ابتدائی نقش بناتا ہے۔ مگر یہ نقش عموماً سطحی ہوتا ہے، کیونکہ اس میں گہرائی نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہم اکثر بہت سی باتیں سمجھتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے، کیونکہ وہ سمجھ ہمارے وجود کا حصہ نہیں بنتی۔
اس کے بعد آتا ہے تجربہ ، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سیکھنا گہرائی اختیار کرتا ہے۔ جب انسان کسی چیز کو خود محسوس کرتا ہے، جب وہ کسی نتیجے کو اپنی زندگی میں دیکھتا ہے، تو وہ اس کے ذہن میں مضبوطی پانے لگتی ہے۔ تجربہ انسان کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا درست ہے بلکہ یہ بھی محسوس کرواتا ہے کہ کیوں درست ہے۔ یہ بہت اہم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہی احساس سیکھنے کو زندہ بناتا ہے۔
مثال کے طور پر، کوئی شخص یہ سن سکتا ہے کہ جلد بازی نقصان دہ ہے، مگر جب وہ خود جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے تو یہ بات اس کے اندر رچ بس جاتی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ’’ سننے‘‘ اور ’’ سیکھنے‘‘ کے درمیان پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نوافل میں قعدہ اولیٰ، عقیقہ کا سوال، دوسرے کی کمپنی کا نام استعمال کرنا
سیکھنے کا تیسرا مرحلہ ہے تثبیت یا ثبت کرنا یا عمل میں لے آنا (Consolidation)۔ یہ وہ عمل ہے جس میں سیکھا ہوا علم یا تجربہ مستقل رویّے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جب کوئی چیز بار بار دہرائی جاتی ہے تو وہ عادت بن جاتی ہے، اور یہی عادت شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ نفسیات میں اسے Neural Reinforcement اعصابی حمایت یا اعصابی تقویت یا اعصابی کمک کہا جاتا ہے، جہاں دماغ میں مخصوص راستے مضبوط ہو جاتے ہیں اور انسان کا رویہ خودکار ہو جاتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ انسان وہی بن جاتا ہے جو وہ بار بار کرتا ہے۔ سیکھنا اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ انسان کے عمل میں ظاہر ہونے لگے۔
انسان کے سیکھنے کا ایک بڑا حصہ لاشعوری (Implicit Learning) ہوتا ہے۔ وہ بہت کچھ بغیر شعوری کوشش کے سیکھتا ہے۔ اس کا ماحول، اس کے ارد گرد کے لوگ، اس کے روزمرہ کے مشاہدات ، یہ سب اس کے ذہن میں خاموشی سے اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔