یہ دراصل نیت کی خرابی کا نام ہے۔ عمل اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے مگر اس کے پیچھے خالص نیت بھی ضروری ہے۔ یہ نہ ہو تو عمل اپنی اصل قدر کھو دیتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 4:18 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai
یہ دراصل نیت کی خرابی کا نام ہے۔ عمل اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے مگر اس کے پیچھے خالص نیت بھی ضروری ہے۔ یہ نہ ہو تو عمل اپنی اصل قدر کھو دیتا ہے۔
انسانی باطن کی سب سے پیچیدہ کمزوریوں میں سے ایک ریاکاری ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جو بظاہر نیکی کے لباس میں چھپی ہوتی ہے مگر اپنے اندر خلوص کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ انسان اچھا عمل کرتا ہے مگر اس کا مقصد اللہ کی رضا نہیں بلکہ لوگوں کی نظر میں اچھا بننا ہوتا ہے، نمائش ہوتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں ظاہر سنور جاتا ہے مگر باطن بگڑ جاتا ہے، اور یہی تضاد انسان کی شخصیت کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس باطنی بیماری کو نہایت شدت کے ساتھ بیان کیا ہے، کیونکہ یہ انسان کے اعمال کو بے وزن کر دیتی ہے اور اس کے روحانی سفر کو بے اصل بنا دیتی ہے۔
ریاکاری دراصل نیت کی خرابی کا نام ہے۔ عمل اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر جب اس کے پیچھے نیت خالص نہ ہو تو وہ عمل اپنی اصل قدر کھو دیتا ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
’’ پس ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو دکھاوا کرتے ہیں۔‘‘ (الماعون:۴؍تا۶) قرآن نے واضح کر دیا کہ محض عمل کافی نہیں بلکہ اس کے پیچھے نیت کا خالص ہونا ضروری ہے۔ اگر عبادت بھی دکھاوے کے لئے ہو تو وہ انسان کو فائدہ دینے کے بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ روز محشر وہ نیکیاں کام نہیں آنے والی ۔
رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کو نہایت خطرناک قرار دیا اور فرمایا: ’’ مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے۔‘‘ صحابہؓ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ریاکاری۔‘‘(مسند احمد) یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ریاکاری انسان کے ایمان کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ اس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کر لیا جاتا ہے یعنی لوگوں کی رضا کو اللہ کی رضا پر ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حج مبارک، آپ وہاں سے کیا لے کر آئے؟
ریاکاری کی ایک بنیادی شکل یہ ہے کہ انسان اپنی پہچان کو دوسروں کی نظر میں قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اسے نیک، دیندار، یا اچھا انسان سمجھیں۔ یہی خواہش اسے ایسے اعمال پر آمادہ کرتی ہے جو بظاہر اچھے ہوتے ہیں مگر ان کا مقصد اللہ کی رضا نہیں بلکہ لوگوں کی تعریف ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس کیفیت کو ایک اور انداز میں بیان کیا ہے: ’’ بے شک منافق اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں (بزعمِ خویش) حالانکہ وہ انہیں اس دھوکے کی سزا دینے والا ہے، اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ (محض) لوگوں کو دکھانے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو یاد (بھی) نہیں کرتے مگر تھوڑا۔ ‘‘ (النساء:۱۴۲) اللہ تعالیٰ نے ریاکاری کی اصل روح کو ظاہر کیا ہے کہ ایسے لوگ دراصل دوسروں کو دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں، اللہ کے لئے نہیں۔
ریاکاری کا ایک گہرا تعلق انسان کے اندرونی عدمِ اطمینان سے بھی ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر سے مطمئن نہیں ہوتا تو وہ باہر سے تعریف حاصل کر کے اس خلا کو بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ ایک عارضی تسکین ہوتی ہے، جو اسے مزید بے چین کر دیتی ہے۔ریاکاری کی ایک خطرناک شکل یہ ہے کہ انسان اپنے عمل پر فخر کرنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے، اور یہی احساس اسے تکبر کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں ریاکاری صرف ایک کمزوری نہیں رہتی بلکہ دیگر اخلاقی بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے۔
ریاکاری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو دھوکہ دینے لگتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے، مگر وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی نیت میں کھوٹ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی اصلاح کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
علم ِ نفسیات میں اس کیفیت کا تعلق Self-Image Maintenance سے ہے۔ انسان اپنی ایک مثبت تصویر قائم رکھنا چاہتا ہے، چاہے حقیقت کچھ بھی ہو۔ وہ اپنے اعمال کو اس طرح دیکھتا ہے کہ وہ خود کو اچھا محسوس کرے، چاہے اس میں اخلاص نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں حصہ لیں، غفلت نہ ہو، یہ آپ کی اہم ذمہ داری ہے
ریاکاری کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کے اعمال کی روح کو ختم کر دیتی ہے۔ عمل باقی رہتا ہے مگر اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ وہ عمل جو انسان کو اللہ کے قریب لے جا سکتا تھا، وہ محض ایک ظاہری حرکت بن کر رہ جاتا ہے۔
اسی طرح ریاکاری انسان کو مستقل بے چینی میں مبتلا رکھتی ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ اس فکر میں رہتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ وہ اپنی زندگی دوسروں کی نظر کے مطابق جیتا ہے، نہ کہ اپنے اصولوں کے مطابق۔
اسلامی تعلیمات میں ریاکاری کے علاج کے لیے سب سے اہم چیز اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کو اللہ کے لیے خالص کرے، بغیر اس کی پروا کیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔قرآنِ مجید فرماتا ہے: ’’اور انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ ‘‘(سورہ البینہ: ۵) اخلاص کی بنیاد کو یہاں واضح کیا گیا ہے کہ اصل مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہئے نہ کہ کسی کی تعریف۔ ریاکاری کا علاج تب ممکن ہوتا ہے جب انسان اپنے باطن کی اصلاح پر توجہ دے۔ جب وہ اپنے دل کو صاف کرتا ہے، اپنی نیت کو خالص بناتا ہے اور اپنی زندگی کو سچائی کے ساتھ جیتا ہے تو اس بیماری سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ ریاکاری انسانی باطن کی ایک ایسی کمزوری ہے جو نیکی کو بھی بے معنی بنا دیتی ہے۔ یہ انسان کو دوسروں کے سامنے اچھا اور اللہ کے سامنے خالی کر دیتی ہے۔
قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو خالص کرے، اپنی نیت کو درست کرے اور اپنے باطن کو سنوارے۔ جب انسان اخلاص کو اپنا لیتا ہے تو اس کے اعمال میں برکت آ جاتی ہے، اس کے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے اور اس کی شخصیت میں سچائی اور استحکام آ جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اخلاص ہی ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اخلاص ہی داخلی صداقت بھی ہے جس کا سب سے بڑا فیضان یہ ہے کہ بندہ کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسوۂ براہیمی اور ملت ِ اسلامیۂ عالم
ریاکاری کی نفسیاتی تعریف
نفسیاتی اعتبار سے ریاکاری کا تعلق انسان کی Recognition Seeking سے ہے، یعنی وہ دوسروں کی توجہ اور تعریف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ خواہش اگر حد میں رہے تو ایک فطری جذبہ ہے، مگر جب یہ انسان کی نیت کو بدل دے تو یہ ریاکاری بن جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اہم نفسیاتی تصور Impression Management ہے۔ اس میں انسان اپنی ایک مخصوص تصویر دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے، تاکہ لوگ اسے اسی نظر سے دیکھیں جو وہ چاہتا ہے۔ وہ اپنے اصل وجود کے بجائے ایک مصنوعی شخصیت کو نمایاں کرتا ہے۔
ریاکاری کا نفسیاتی علاج
نفسیاتی اعتبار سے ریاکاری کے علاج کیلئے Authenticity ضروری ہے، یعنی انسان اپنے اصل وجود کے ساتھ جینا سیکھے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو قبول کرے اور اپنی شخصیت کو مصنوعی بنانے کے بجائے حقیقی بنائے۔اسی طرح Internal Validation بھی اہم ہے، یعنی انسان اپنی قدر کو دوسروں کی رائے سے نہیں بلکہ اپنے اصولوں سے وابستہ کرے۔ Intention Awareness بھی ایک طریقہ ہے یعنی ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کا جائزہ لینا۔ اسی طرح Silent Good Deeds یعنی چھپ کر نیکی کرنا بھی ریاکاری کو کم کرتا ہے، کیونکہ اس میں دکھاوے کا امکان یا اندیشہ کم ہوتا ہے۔