Inquilab Logo Happiest Places to Work

’فکری مرکز‘ انسانیت کیلئے ضروری ہے

Updated: April 10, 2026, 3:43 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

کتنا دلنشیں تصور ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی فکری مرکز کے گرد جمع ہو، جہاں اختلاف انسان کو تقسیم نہ کرے بلکہ ایک بڑے مقصد میں ضم ہو جائے، اور جہاں انسان کی پہچان اس کے رنگ، نسل یا طبقے سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے ہو۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کتنا دلنشیں تصور ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی فکری مرکز کے گرد جمع ہو، جہاں اختلاف انسان کو تقسیم نہ کرے بلکہ ایک بڑے مقصد میں ضم ہو جائے، اور جہاں انسان کی پہچان اس کے رنگ، نسل یا طبقے سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے ہو۔ انسان کی فطرت خود اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ انتشار سے تھک جاتا ہے اور وحدت میں سکون حاصل کرتا ہے؛ جیسے ایک منتشر خاندان کبھی حقیقی خوشی نہیں پا سکتا، ویسے ہی بکھری ہوئی انسانیت بھی اندرونی اضطراب سے آزاد نہیں ہو سکتی۔ جب اصول مختلف ہو جائیں تو انصاف کا معیار بھی بدل جاتا ہے اور جب معیار بدل جائے تو حق اور باطل کا فرق دھندلا جاتا ہے، پھر ہر گروہ اپنی خواہش کو حق اور دوسرے کی بات کو باطل سمجھنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے ٹکراؤ جنم لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تعصب ذہنی رویہ نہیں، روحانی بیماری ہے

انسانی عقل اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتی ہے کہ کوئی بھی ایسا نظام جو سب کے لئے نہ ہو، وہ درحقیقت کسی کے لئے بھی مکمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسانوں کی بنیادی ضروریات اور ان کی فطری ساخت ایک جیسی ہے۔ جیسے سورج کی روشنی کسی ایک خطے کے لئے مخصوص نہیں ہوتی بلکہ ہر سمت یکساں طور پر پھیلتی ہے، ویسے ہی حقیقی رہنمائی بھی ایسی ہونی چاہیے جو ہر انسان تک بلا امتیاز پہنچے۔ اگر روشنی کو چند دیواروں کے اندر قید کر دیا جائے تو وہ روشنی نہیں رہتی، بلکہ ایک محدود چمک بن جاتی ہے جو اندھیروں کو ختم کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔

اسی پس منظر میں یہ حقیقت اور بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ دنیا میں ایک ایسا نظامِ فکر موجود ہے جو نہ صرف اپنے اصل ماخذ سے جڑا ہوا ہے بلکہ اپنی تعلیمات میں وہ وسعت بھی رکھتا ہے جو ہر دور اور ہر انسان کو اپنے دائرے میں سمیٹ سکتی ہے۔ اس کی بنیاد کسی نسل، علاقے یا طبقے پر نہیں بلکہ انسان ہونے کی بنیاد پر رکھی گئی ہے، اس لئے اس میں داخل ہونے کے دروازے سب کیلئے یکساں کھلے ہیں۔  اس میں کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا، کیونکہ جبر سے پیدا ہونے والا یقین دراصل یقین نہیں بلکہ ایک وقتی دباؤ ہوتا ہے جو حالات بدلتے ہی ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ سچا یقین وہ ہے جو دل کی گہرائی سے ابھرے اور عقل کی کسوٹی پر بھی پورا اترے۔

یہی وہ نظام ہے جہاں عبادت کا منظر خود ایک زندہ دلیل بن جاتا ہے کہ انسان برابر پیدا کیا گیا ہے؛ جہاں ایک ہی صف میں کھڑے لوگ اپنے ظاہر کے تمام امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا اصل مقام ایک ہی ہے۔ یہ منظر صرف ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ ایک عملی اعلان ہے کہ برتری کا معیار کچھ اور ہے، اور جب یہ احساس دل میں جاگزیں ہو جائے تو انسان دوسروں کو کمتر سمجھنے کے بجائے اپنے کردار کو بہتر بنانے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟

اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ اسے ایک ایسا اصول مل جائے جو اس کی سوچ کو انتشار سے بچا کر ایک مرکز پر جمع کر دے، کیونکہ جب تک سوچ منتشر رہے گی، عمل بھی بکھرا رہے گا۔ اور جب سوچ اور عمل دونوں بکھر جائیں تو انسان اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے۔ اس لئے ایک ایسا جامع اور محفوظ نظام، جو انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلائے اور اسے دوسروں کے ساتھ جوڑ دے، محض ایک نظریہ نہیں بلکہ انسانیت کی بقا کی ضرورت ہےاور یہی وہ نکتہ ہے جو دل میں ایک خاموش مگر گہری چنگاری بن کر روشن ہو جاتا ہے، جو انسان کو خود سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ کس راستے پر ہے اور اسے کس سمت جانا چاہئے۔

مذہب ِ اسلام کی اصل خوبصورتی اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وہ انسان کو ایک ایسے مرکز کی طرف بلاتا ہے جہاں کثرت کے تمام بکھرے ہوئے دھاگے ایک وحدت میں پرو دیے جاتے ہیں۔ جب انسان اپنے وجود اور کائنات کے درمیان ایک ہی حاکم کو پہچان لیتا ہے تو اس کی سوچ میں وہ ترتیب پیدا ہوتی ہے جو اسے اندرونی تضادات سے نکال کر ایک واضح راستے پر ڈال دیتی ہے۔ یہی ادراک آگے بڑھ کر انسانوں کے باہمی تعلقات کو بھی نئی بنیاد دیتا ہے، کیونکہ جب سب کا خالق ایک ہو تو مخلوق کے درمیان مصنوعی امتیازات کی گنجائش خود بخود ختم ہونے لگتی ہے، اور یوں انسان اپنی اصل پہچان کی طرف لوٹ آتا ہے جہاں وہ نہ کسی سے برتر ہے اور نہ کمتر، بلکہ ایک ذمہ دار وجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جمعہ کا اصل پیغام یاد رکھئے: اجتماع سے زیادہ ”اجتماعیت‘‘

اسی بنیاد پر یہ تصور ابھرتا ہے کہ انسانیت دراصل ایک ہی خاندان کی مانند ہے، جس کے افراد کو رنگ، زبان، نسل یا جغرافیہ کے خانوں میں قید کرنا فطرت کے خلاف ہے۔ اگر کوئی شخص محض اپنے ظاہری امتیاز کو بنیاد بنا کر برتری کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دراصل اس اصول سے انحراف کرتا ہے جو تمام انسانوں کو ایک سطح پر کھڑا کرتا ہے۔  اس کے برعکس جب یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ سب ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں، تو دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور نظر میں اعتدال آ جاتا ہے۔

اگرچہ وقت کے ساتھ مختلف افکار اور تصورات نے انسان کو پھر سے تقسیم کرنے کی کوشش کی، اور نئی نئی بنیادوں پر امتیازات کو زندہ کیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہی کہ ایک مضبوط فکری بنیاد کو محض ظاہری دباؤ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وقتی اثرات ضرور پیدا ہوتے ہیں، لیکن وہ اس گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے جہاں سے ایک اجتماعی شعور جنم لیتا ہے۔

islam muslim Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK