Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعصب ذہنی رویہ نہیں، روحانی بیماری ہے

Updated: April 10, 2026, 3:34 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

قرآنِ مجید نے انسانی باطن کی اس کمزوری کو نہایت گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کومختلف انداز سے بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تعصب انسان کی فکری صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ، وہ سننے کے قابل نہیں رہتا، سچ بولنے کی ہمت نہیں رکھتا اور حقیقت دیکھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔

At the societal level, prejudice breeds hatred, division, and conflict. When each group begins to consider its own opinion as right and refuses to listen to others, society becomes chaotic. Photo: INN
معاشرتی سطح پر تعصب نفرت، تقسیم اور تصادم کو جنم دیتا ہے۔ جب ہر گروہ اپنی رائے کو حق سمجھنے لگے اور دوسروں کو سننے سے انکار کر دے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو سب سے بڑی نعمت عطا کی ہے وہ اس کی عقل اور شعور ہے۔ یہی عقل اسے حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، یہی شعور اسے غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ مگر یہی عقل اس وقت مفلوج ہو جاتی ہے جب انسان اپنے ذہن پر تعصب کا پردہ ڈال لیتا ہے۔ تعصب دراصل وہ باطنی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی رائے، اپنے ماحول، اپنی روایت یا اپنے گروہ کے ساتھ اس قدر وابستہ ہو جاتا ہے کہ وہ سچائی کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ یوں اس کی عقل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ حق کو دیکھ کر بھی قبول نہیں کرتا۔
قرآنِ مجید نے انسانی باطن کی اس کمزوری کو نہایت گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ تعصب محض ایک ذہنی رویہ نہیں بلکہ ایک روحانی بیماری ہے جو انسان کے دل اور دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔‘‘ (البقرہ:۱۷۰)

یہ بھی پڑھئے: جمعہ کا اصل پیغام یاد رکھئے: اجتماع سے زیادہ ”اجتماعیت‘‘

اللہ رب العزت نے تعصب کی ایک بنیادی شکل کو یہاں ظاہر کیا ہے کہ انسان اپنے ماضی، اپنی روایت اور اپنے ماحول کے ساتھ اس قدر جڑ جاتا ہے کہ وہ سچائی کو صرف اس لئے قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اس کے مانوس دائرے سے باہر ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ دلیل کا نہیں بلکہ ذہنی جمود کا ہوتا ہے۔ علم نفسیاتی میں اس کیفیت کو Confirmation Bias کہا جاتا ہے۔ انسان صرف انہی باتوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم خیالات کے مطابق ہوں، اور جو باتیں اس کے خلاف ہوں انہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ یوں وہ حقیقت کو نہیں بلکہ اپنے تعصب کو دیکھتا ہے۔
قرآنِ مجید نے اس ذہنی کیفیت کو ایک اور انداز میں بیان کیا ہے:’’ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، پس وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘ (البقرہ:۱۷۱) یہاں قرآن اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تعصب انسان کی فکری صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ وہ سننے کے قابل نہیں رہتا، سچ بولنے کی ہمت نہیں رکھتا اور حقیقت کو دیکھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
تعصب کی ایک اور اہم شکل گروہی وابستگی ہے۔ جب انسان اپنی شناخت کو کسی گروہ کے ساتھ اس طرح جوڑ لیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے گروہ کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھنے لگتا ہے تو یہ تعصب کی شدید شکل اختیار کر لیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:
 ’’ہر گروہ اپنے پاس موجود چیز پر خوش ہے۔‘‘ (الروم: ۳۲) جب انسان گروہی تعصب میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی غلطی کو بھی حق سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی وفاداری حق کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے گروہ کے ساتھ ہوتی ہے۔
نفسیات میں اسے In-group Bias کہا جاتا ہے۔ انسان اپنے گروہ کے افراد کو بہتر اور دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انصاف اور توازن ختم ہو جاتا ہے۔ اکثر یہ مرض سیاسی گھرانوں ، اور کسی خاص مقام سے تعلق رکھنے والے ایک قبیلے کے لوگوں میں اسے دیکھا گیا ہے ۔ 

یہ بھی پڑھئے: علماء اُمت کی ذمہ داریاں

تعصب کی ایک اور شکل سانچے میں سوچنا (Stereotyping) ہے۔ انسان دوسروں کے بارے میں پہلے سے طے شدہ تصورات قائم کر لیتا ہے اور انہی کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ وہ کسی فرد کو اس کی اصل حقیقت کے مطابق نہیں بلکہ اپنے ذہنی سانچے کے مطابق دیکھتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو اس رویے سے روکتے ہوئے فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو۔ ‘‘ (الحجرات: ۱۲)یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تعصب اکثر بے بنیاد گمانوں اور مفروضوں پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ حقیقت پر۔ تعصب کی جڑ اکثر انا اور تکبر میں ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگتا ہے تو وہ کسی اور کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی کیفیت اسے ضد اور ہٹ دھرمی کی طرف لے جاتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اسی طرح اللہ ہر متکبر اور سرکش دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ ‘‘ (غافر:۳۵)
قرآن نے واضح کیا کہ تعصب کا تعلق صرف ذہن سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت سے بھی ہے۔ جب دل میں تکبر آ جائے تو انسان حق کو قبول کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی تعصب کی مذمت فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت (تعصب) کی دعوت دے۔(ابو داؤد) یہ حدیث اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اسلام انسان کو تعصب سے پاک کر کے ایک وسیع النظر اور انصاف پسند شخصیت بنانا چاہتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے تعصب کی ایک اور وجہ Belief Perseverance ہے۔ یعنی انسان کسی عقیدے یا رائے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، چاہے اس کے خلاف واضح دلائل موجود ہوں۔ یہ ذہنی جمود انسان کو حقیقت سے دور رکھتا ہے۔
اسی طرح Selective Perception بھی تعصب کو بڑھاتا ہے۔ انسان وہی چیزیں دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے، اور باقی حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
معاشرتی سطح پر تعصب نفرت، تقسیم اور تصادم کو جنم دیتا ہے۔ جب ہر گروہ اپنی رائے کو حق سمجھنے لگے اور دوسروں کو سننے سے انکار کر دے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن ایک اور جگہ فرماتا ہے:’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔‘‘ (المائدہ:۸) یہ آیت تعصب کے علاج کا ایک بنیادی اصول پیش کرتی ہے کہ انسان کو اپنے جذبات اور وابستگیوں سے بالاتر ہو کر انصاف کرنا چاہیے۔
قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کو تعصب سے پاک کرے، اپنی عقل کو آزاد کرے اور حق کو اپنا معیار بنائے۔ جب انسان اپنی انا اور وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر سچائی کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے تو اس کی شخصیت میں وسعت، توازن اور حکمت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ فکری آزادی ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، اور یہی وہ نفسیاتی پختگی ہے جو ایک صحت مند اور باشعور انسان کی پہچان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں

اسلام میں تعصب کا علاج
اسلامی تعلیمات میں تعصب کے علاج کے لیے سب سے اہم اصول عدل اور انصاف ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’ اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لئے گواہی دینے والے۔ ‘‘ (النساء:۱۳۵)یہ آیت انسان کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ اپنی رائے یا اپنے گروہ کے بجائے حق اور انصاف کو معیار بنائے۔

تعصب کا نفسیاتی علاج
تعصب کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کی تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو ختم کر دیتا ہے۔ انسان سوال کرنے، تحقیق کرنے اور سیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ وہ محض اپنے خیالات کی تکرار کرتا رہتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے تعصب کے علاج کے لئے Open-mindedness یعنی ذہنی وسعت ضروری ہے۔ انسان کو اپنے خیالات کو مطلق سمجھنے کے بجائے ان پر نظرثانی کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ اسی طرح Perspective-taking یعنی دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش بھی تعصب کو کم کرتی ہے۔ جب انسان دوسروں کے زاویے سے چیزوں کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر توازن پیدا ہوتا ہے۔ ایک اور اہم طریقہ Self-reflection ہے۔ جب انسان اپنے خیالات اور تعصبات کا جائزہ لیتا ہے تو اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہونے لگتا ہے۔ تعصب انسانی باطن کی ایک ایسی کمزوری ہے جو عقل کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ یہ انسان کو حقیقت سے دور اور اپنے ہی خیالات کے قید خانے میں بند کر دیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK