یونیفارم سول کوڈ کے نام پر جن مسائل کو بہت قوت کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے اور جن کو مختلف ریاستوں میں قانونی حیثیت دے دی گئی ہے ان میں ایک ۲۱؍ سال سے پہلے لڑکوں اور ۱۸؍ سال سے پہلے لڑکیوں کے نکاح کا مسئلہ ہے۔ برادرانِ وطن کو یہ تصور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کثیرآبادی کا ایک بنیادی سبب کم عمری میں لڑکے لڑکیوں کا نکاح ہے۔ زیرنظر مضمون میں اسی موضوع پر کچھ نکات پیش کئے گئے ہیں۔
مسلم معاشرہ میں ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے بالغ ہونے کے بعد ہی ان کا نکاح کیا جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این
بد قسمتی سے اس وقت بر سر اقتدار پارٹی مسلم شناخت کو مٹانے بلکہ سچائی یہ ہے کہ دستور ہند کا قتل کرنے اور سیکولرازم پر ہتھوڑا چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسی ہی ناروا کوششوں میں ایک یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) لانا اور مختلف قوموں، بالخصوص مسلمانوں کے پرسنل لاء کو ختم کرنا ہے۔ یونیفارم سول کوڈ کے نام پر جن مسائل کو بہت قوت کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے اور جن کو مختلف ریاستوں میں قانونی حیثیت دے دی گئی ہے ان میں ایک ۲۱؍ سال سے پہلے لڑکوں اور ۱۸؍ سال سے پہلے لڑکیوں کے نکاح کا مسئلہ ہے۔ برادرانِ وطن کو یہ تصور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کثیرآبادی کا ایک بنیادی سبب کم عمری میں لڑکے لڑکیوں کا نکاح ہے۔
ایک مخصوص عمر کے بعد نکاح کے سلسلہ میں کئی باتیں قابل غور ہیں:
اول یہ کہ جسمانی نشوونما تمام لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں نہیں ہوتی، موسمی حالات، غذا، ماحول اور موروثی اثرات کے تحت بلوغ کی عمر مختلف ہوتی ہے اور جسمانی قویٰ اور صلاحیت ِ تولید میں بھی فرق ہوتا ہے۔ نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ۱۸؍ سال سے کم عمر کی ہر لڑکی کے لئے ماں بننا نقصان دہ ہے، اور نہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ ۱۸؍سال کے بعد لڑکیوں میں لا محالہ ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ ماں بننا ان کی صحت کیلئے مضرت رساں نہ ہو؛ اس لئے ۱۸؍ (سال) ہی کی تعیین اور یہی عمر طے کرنا قابل فہم نہیں، قانون فطرت کے تحت عورت کی اس صلاحیت کا اصل معیار وہی ہے کہ جب وہ بالغ ہوجاتی ہے تو اس میں بنیادی طور پر حاملہ ہونے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رہائش،خورد ونوش،لباس اور بیوی کی دیگر جائز واجبی ضروریات کا پورا کرنا شوہر کی شرعی ذمے داری ہے
دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس وقت ٹی وی کے فروغ، فحش رسائل کی کثرت، انٹرنیٹ اوربے ہودہ فلموں کے ویڈیوز اور ان فلموں تک کم عمر لڑکوں کی رسائی کی وجہ سے صورت حال یہ ہے کہ نابالغ بچے تک جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہورہے ہیں، شادی سے پہلے ناجائزاسقاط حمل کی کثر ت ہوگئی ہے، سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات ؟یقیناً بے قید جنس پرستی زیادہ مضر ہے، تو اگرایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ماں باپ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے اخلاق و کردار کی حفاظت کے لئے بلوغ کے بعد جلد سے جلد ان کا نکاح کردینا مناسب سمجھتے ہوں تو کیا یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ انہیں اس عمر سے پہلے ہی نکاح کی اجازت دی جائے؛تاکہ وہ اپنے بچوں کو فساد اور بگاڑ کے گڑھے میں جانے سے بچا سکیں، اصل مسئلہChild Marraigeکا نہیں، بلکہ Child Sexکا ہے، حکومت کو اور سماجی تنظیموں کو چاہئے کہ یہ جو بے راہ روی کا طوفان ملک میں آرہا ہے، اور ہماری تعلیم گاہوں کو اپنا ہدف بنارہا ہے، پہلے اس کے سدباب کی کوشش کریں۔
تیسری بات یہ ہے کہ کم سنی کے نکاح کے واقعات اب خود ہی کم ہوتے جارہے ہیں، چودہ پندرہ سال کی عمر میں تو لڑکے اور لڑکیاں میٹرک کرتے ہیں، اب لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں میں بھی اعلیٰ تعلیم کا رجحان روز افزوں ہے،اور تعلیم کے درمیان عام طور پر شادی نہیں کی جاتی، لڑکوں کے لئے تو تعلیم کے بعد حصول روزگار کا بھی مسئلہ ہے، اس لئے روزگار کی تلاش اور حصولیابی میں کئی سال نکل جاتے ہیں، اور اس کے بعد ہی لڑکے شادی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس طرح قانون میں جو عمر متعین کی گئی ہے، عام طور پر اس سے کہیں زیادہ عمر میں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں، جوں جوں تعلیم بڑھتی جائیگی، کم سنی میں نکاح کا رجحان از خود کم ہوتاجائے گا، اور جب تک تعلیم عام نہ ہوگی، صرف قانون کے ذریعہ اس مقصد کو حاصل نہیں کیاجاسکتا؛ کیونکہ ایسی شادی کے واقعات شہر میں بہت کم پیش آتے ہیں، زیادہ تر دوردراز یہاتوں میں اس طرح کا رواج پایاجاتا ہے اور یہ نوبت بہت کم آتی ہے کہ وہ معاملات عدالت کے سامنے آئیں؛ اس لئے ایسے واقعات قانون کے دائرہ سے باہر ہی رہتے ہیں۔
چوتھی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس کو مسلمانوں کے ایک سماجی مسئلہ کی نظر سے دیکھتے ہیں؛حالانکہ کم سنی کی شادی کے واقعات مسلمانوں میں بہت کم ہیں، دیگر طبقات میں ان سے کہیں زیادہ ہیں، راجستھان میں اب بھی ’’اکھاتیج‘‘ کے موقع پر ہزاروں شیر خوار لڑکیوں کی شادی کردی جاتی ہے، مدھیہ پردیش، اڑیسہ اور ہریانہ وغیرہ کے بعض علاقوں میں ہندو سماج میں بہت ہی کم سنی میں نکاح کا رواج پایاجاتا ہے اور اس کا تناسب مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے، مثلاً ۲۰۱۶ء کے ایک سرکاری سروے کے مطابق ہندوستان میں ۱۲؍ ملین بچوں کی شادی ۱۰؍ سال سے کم عمر میں کردی جاتی ہے۔ ان میں ۸۴؍ فیصد ہندو اور صرف ۱۱؍ فیصد مسلمان ہیں۔ (بحوالہ سینسس آف انڈیا اور انڈیا اسپینڈ)
یہ بھی پڑھئے: کہانی، بچے کی شخصیت میں اعلیٰ اقدار کے پودے اگاتی ہے،ماضی و حال سے اس کے رشتوں کو مضبوط کرتی ہے
اصل مسئلہ ان رواجوں کو روکنا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ ہندو معاشرہ میںنکاح کے معاملہ میں لڑکی کی رضامندی اور ناراضگی کوبہت کم اہمیت دی جاتی ہے اور ان پر رشتے تھوپ دیئے جاتے ہیں، خاص کر کم عمری میں کئے گئے نکاح میں اصل عاقدین کاکوئی حصہ نہیںہوتا، مگر اسلام میں اکثر حالات میں نابالغی کے نکاح کی صورت میں بالغ ہونے کے بعد لڑکے اور لڑکی کو خیار بلوغ (بالغ ہونے کے بعد نکاح فسخ کروانے کا حق) حاصل ہوتاہے اور وہ اس نکاح کو رد کرسکتے ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، ایسا نہیں ہے کہ اسلام میں کم سنی اور نابالغی کے نکاح کو زیادہ بہتر قرار دیا گیا ہے۔ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے بالغ ہونے کے بعد ہی ان کا نکاح کیاجاتا ہے۔ قرآن مجید نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’اور یتیموں کی (تربیتاً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔‘‘ (سورہ نساء:۶) اس آیت سے واضح ہے کہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح کئے جائیں۔
پھر اسلام میں رشتہ کے انتخاب کی جو آزادی عاقدین کو دی گئی ہے، اور اس سلسلہ میں لڑکوں کی طرح لڑکیوں کو بھی اپنی ذات کے بارے میں فیصلہ کرنے کا جو اختیار دیاگیا ہے، اس کا تقاضا بھی یہی ہے؛کیوں کہ بالغ ہونے کے بعد ہی وہ قانوناً اس اختیار کو استعمال کرنے کے اہل ہونگے اور اس عمر کو پہنچنے کے بعد ہی انسان کے اندر بھلے برے کی تمیز بھی پیدا ہوتی ہے۔ رسول پاکؐ نے اپنی صاحبزادیوں کا نکاح عمر بلوغ کو پہنچنے کے بعد ہی فرمایا ہے، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اصل یہی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد نکاح ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے بالغ ہونے سے پہلے بھی نکاح کی گنجائش رکھی ہے، اور مختلف صحابہؓ نے کم عمری میں بچوں کے نکاح کئے ہیں۔
حاصل یہ ہے کہ اسلام نے کم سنی میں لڑکے یا لڑکی کے نکاح کی ترغیب نہیں دی ہے؛ البتہ اس سے منع بھی نہیں کیا ہے اور اس کی گنجائش رکھی ہے، جس کا ثبوت قرآن مجید، حدیث مبارکہ اور آثار صحابہؓ سے ملتا ہے اور اس امت کا اجماع و اتفاق بھی اس پر ہے، نیز یہ حکم بعض مصالح پر مبنی ہے۔ البتہ بالغ ہونے کے بعد تاکید کے ساتھ نکاح میں عجلت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ اس سے اخلاقی اقدار کا تحفظ متعلق ہے اور نکاح میں تاخیر سے اخلاقی بگاڑ کا اندیشہ ہے، جو ایک پاکیزہ سماج کیلئے ہرگز مناسب نہیں، نیز یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں میں کم سنی کی شادی کا رواج بمقابلہ برادران وطن بہت کم ہے اور خیار بلوغ کے ذریعہ اس کی تلافی کی گنجائش موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تحفہ :محبت کی خاموش زبان اور دلوں کو جوڑنے کا مؤثر ذریعہ
کم عمری میں نکاح کی دو مصلحتیں
(۱) بعض اوقات اخلاقی بگاڑ کا اندیشہ ہوتا ہے اور نکاح اسے ناجائزرخ پر لے جانے سے بچاتا ہے، اگر ایسے حالات سامنے ہوں اور ۱۸؍سال تک نکاح کو روکے رکھا جائے تو اس سے بہت سے اخلاقی مفاسد پیدا ہوسکتے ہیں، اور یہ اخلاقی بگاڑ بیک وقت صحت ِجسمانی کے لئے بھی مضر ہے، اور ساتھ ہی ساتھ سماج کے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں؛ کیونکہ کوئی شخص جب اخلاقی مفاسد کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کیلئے سماج ہی میں اپنی غذا تلاش کرتا ہے، اسلام میں حفاظت ِاخلاق کی بڑی اہمیت ہے، اور والدین بھی اس سلسلہ میں جوابدہ ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں رسولؐ اللہ نے فرمایا: جس کو بچہ ہو، تو اسے چاہئے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اور اس کی تربیت کرے، پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کردے۔(شعب الایمان ، حقوق ا لاولاد والہلین)
(۲) دوسری اہم مصلحت یہ ہے کہ بعض دفعہ باپ خرابیٔ صحت کے سبب لب گور ہوتا ہے، ظاہری حالات کے تحت اندیشہ ہے کہ اس کے بچوں کو یتیمی کا داغ لگ سکتا ہے، اور اس کی موت کے بعد خاندان میں ایسے ذمہ دار اور دیانت دار لوگ نہیں ہیں، جن سے امید رکھی جاسکے کہ وہ صحیح طور پر بچوں کی تربیت کرسکیں گے اور مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کے بے سہارا بچوں کی شادی کریں گے، ابھی بچے نابالغ ہیں؛ لیکن ایک موزوں اور مناسب رشتہ ہاتھ آرہا ہے، تو ایسی صورت میں مصلحت یہی ہے کہ اس وقت اس کا نکاح کردیاجائے کہ اس میں اس کے بیمار باپ کیلئے سکون قلب بھی ہے، اور اس کے بچوں کے مستقبل کے محفوظ ہونے کی امید بھی۔یہ مصلحتیں ایسی نہیںہیں، جنہیں نظر انداز کردیاجائے، اس لئے قانون ایسا بنانا چاہئے جس میں مفادات کو حاصل بھی کیاجائے اور نقصانات سے حفاظت بھی ہو۔