Inquilab Logo Happiest Places to Work

سفر حج عشق و محبت کا سفر ہے

Updated: May 22, 2026, 3:32 PM IST | Khurram Murad | Mumbai

حج کی حقیقت کو تم ایک دفعہ پالو، اچھی طرح اور پوری طرح جان لو، اسی کے مطابق خود کو ڈھالو، اسی کی روشنی میں ہر قدم اٹھائو، تو ایک کے بعد ایک، حج کے فیوض و برکات اور انعامات و فتوحات کے دروازے تمہارے لیے کھلتے چلے جائیں گے۔

The beauty and grandeur of the House of Allah are beyond words. Photo: INN
اللہ کے گھر کے حسن و جمال اور شانِ محبوبیت کا بیان الفاظ کے بس سے باہر ہے۔ تصویر: آئی این این

حج کیا ہے؟ اللہ سے محبت کرنا، اس کی محبت پانا۔ حج کا سفر محبت و وفا کا سفر ہے۔ اس کا مدعا اور حاصل، اللہ کے سواکچھ نہیں۔ اس کا ہر عمل محبت و وفا کا عمل ہے، اس کی ہر منزل محبت و وفا کی منزل ہے۔ یوں سمجھو کہ حج سارے کا سارا یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ ، اللہ اپنے ان پروانوں سے محبت کرتے ہیں اور یہ پروانے ان کی محبت میں سرشار ہیں، کی مجسم اور متحرک تصویر ہے۔

بات یہ ہے کہ اللہ تم سے، اپنے بندوں سے، بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضورپاکؐ نے ارشاد فرمایا، وہ ماں باپ سے بھی کہیں زیادہ محبت والے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں بے انتہا رحمت اور محبت کرنے والے ہیں۔ اللہ کو پکارو یا الرحمٰن کو، ایک ہی بات ہے۔ گویا اللہ کے معنی ہی الرحمٰن ہیں۔ ساتھ ہی وہ سارے دنیا والوں پر اپنی بے پایاں رحمتوں کی مسلسل بارش کر رہے ہیں۔ دنیا میں مخلوقات کے درمیان تم جہاں بھی اور جتنی بھی رحمت دیکھتے ہو، وہ سب بھی ان ہی کی رحمت کا جلوہ ہے۔ مگر دنیا میں وہ جتنی رحمت کر رہے ہیں، وہ ان کی رحمت کے ایک سو میں سے ایک حصے کے برابر بھی نہیں،اگرچہ اس کا بھی احاطہ اور شمار ممکن نہیں۔ ۹۹؍ حصے انہوں نے آخرت میں عطا کرنے کے لئے  رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تربیت کا یہ انداز ہمارے لئے نسخۂ کیمیا ہے

یہ اللہ ہی کی رحمت اور محبت ہے کہ انہوں نے ہمیں قرآن عطا کیا، تاکہ ہم آخرت کی رحمتوں میں سے حصہ پاسکیں۔ رسول پاکؐ جو رحمۃ للعالمین اور رؤف و رحیم ہیں، ہمارے اُوپر اللہ کی رحمت و شفقت کا مظہر ہیں ۔ موت کے بعد زندگی بخشنا اور اعمال کی جزا دینا بھی ان کی رحمت کا تقاضا ہے۔

 ہمیں دین اسلام عطاکرکے تو االلہ نے رحمت و انعام کی انتہا کردی، یہ ان کی نعمت کا اتمام ہے کہ یہی آخرت میں ان کی رحمت تک پہنچنے کا راستہ ہے ۔ یہ بھی ان کی ہمارے ساتھ محبت کا ثمر ہے، ان کا فضل اور نعمت ہے کہ انھوں نے اپنے اوپر ایمان، ہمارے دلوں میں ڈال دیا، اسے دلوں کی زینت بنا دیا، اسے ہمارے لئے محبوب بنادیا۔ ان کے ساتھ ہماری جتنی محبت ہے، ہوگی، وہ ان کی محبت اور ایمان کا ثمر ہے۔ جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ شدت سے اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ ایمان کی ساری شیرینی، مزا اور رنگ ان کے ساتھ اسی محبت کے دم سے ہے۔
یہ بیانِ محبت ذرا طویل ہوگیا۔ لیکن محبت کے بیان کی لذت! دل چاہتا ہے کہ ختم ہی نہ ہو۔ محبت کے سفر کی لذت! دل چاہتا ہے کہ وقت سے پہلے شروع ہوجائے، ختم ہونے کا نام نہ لے۔ اس کی ہر زحمت میں لذت کی چاشنی ملتی ہے۔ حج کی حقیقت کو دل کی گہرائیوں میں پالینے کے لئے کم سے کم اتنا بیان لذیذ ہی نہیں، ضروری بھی تھا۔
دیکھو، ویسے تو اس دین کا ہر حکم، جو نعمت و محبت کا اتمام ہے، بندوں سے ان کی محبت کا مظہر ہے،اور ان کی محبت کے حصول کا راستہ، جو بندوں کی غایت ہے۔ ’’سجدہ کس لئے کرو؟‘‘ تاکہ ہم سے قریب ہوجائو۔ ’’مال کس لئے دو؟‘‘ان کی محبت میں، ان کی محبت و رضا کے لئے۔ احکام، حرام و حلال کے ہوں، اخلاق و معاملات کے، ہجرت  کے… سب ہم پر ان کی شفقت و رحمت پر مبنی ہیں۔ مگر حج کی بات ہی دوسری ہے۔ یہ تم سے اللہ کی محبت کا، اور ان کی محبت کے اظہار کا بے مثال مظہر ہے، اور تمہارے لئے ان سے محبت کرنے کا،اپنی محبت کا اظہار کرنے کا اور ان کی محبت پانے کا انتہائی کامیاب و کارگر نسخہ۔ عبادات میں اس پہلو سے اس کی کوئی نظیر نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اخلاقی بنیادوں سے دوری اُمت کو کمزور کرتی ہے

ذرا غور کرو! اللہ تعالیٰ لامکان ہیں، وہ ہر جگہ موجود ہیں، وہ کسی مکان میں سما نہیں سکتے، ہرذرہ اور لمحہ ان کا ہے، اور ان کی جلوہ گاہ… لیکن یہ، ان کی، ہم جیسے اسیر مکان و زماں بندوں سے، بے پناہ محبت نہیں تو اور کیا ہے کہ انھوں نے، ہمیںاپنی محبت دینے اور ان سے محبت کرنے کی نعمت بخشنے کی خاطر،مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں ایک بظاہر بالکل سادے اور معمولی گھر کو ’اپنا گھر‘ بنالیا اور مشرق و مغرب میں تمام انسانوں کو اپنے اس گھر آنے کا بلاوا بھیجا، کہ آئو، سب کچھ چھوڑ کر،  لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے آئو۔ پتھروں کے اس گھر آئو، اس گھر میں اپنے خدائے لامکاں کی محبت اور قربت حاصل کرو۔ اس گھر میں، اس کے در و دیوار میں، اس کے گلی کوچوں میں، اس کی طرف سفر میں انہوں نے تمہارے جذبہ عشق و محبت کے لئے تسکین و سیرابی، شادکامی اور لذت و کیف کا وہ سارا سامان رکھ دیا جو ایک عاشق صادق اپنے محبوب کے کوچہ و دیار اور درودیوار سے پانے کی تمنا کرسکتا ہے۔
یہ بھی اللہ کی رحمت و محبت کا کرشمہ ہے کہ انہوں نے عشق و محبت کے اس مرکز میں، جو بظاہر حسن تعمیر اور جمال ماحول سے بالکل مبرا ہے، بڑی عجیب و غریب محبوبیت رکھ دی ہے! اس گھر کو انہوں نے اپنی بے پناہ عظمت و جلال کا مظہر بنایا ہے۔ اس کے سینے سے  رحمت و محبت، برکت و ہدایت اورانعام و اکرام کے لازوال چشمے جاری کئے ہیں۔ آیات بینات کا ایک اتھاہ خزانہ ہے جو اللہ نے اس گھر کی سادہ مگر محبت کے رنگ سے رنگین داستان کے ورق ورق پر رقم کردیا ہے۔ اللہ کے گھر کے حسن و جمال اور شانِ محبوبیت کا بیان اسی طرح الفاظ کے بس سے باہر ہے، جس طرح کسی حسین کے حسن کا اور کسی  لذیذ شے کی لذت کا، جو تم دیکھنے اور چکھنے ہی سے پاسکتے ہو۔
دوسری طرف اللہ نے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں اس گھر کی محبت ڈال دی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ جو جا نہیں سکتے، وہ بھی جانے کی آرزو اور شوق میں سلگتے رہتے ہیں، اور کچھ نہیں تو روزانہ پانچ دفعہ، اس گھر کی طرف رخ کرکے، گھر کے مالک سے قرب اور ہم کلامی کیلئے کوشاں ہوتے ہیں۔ لیکن ایک طرف دیار محبوب کی شانِ محبوبیت اور دوسری طرف محبت کرنے والوں کی محبت، ازل سے عشاق بے تاب کا ایک ہجوم بے پناہ ہے جو ہروقت اور ہرجگہ سے کھنچ کھنچ کر اس گھر کے گرد جمع ہوتا چلا آرہا ہے۔ خاص طور پر حج کے وقت، جس کو رب البیت نے جلوہ و زیارت کے لئے مخصوص و متعین کیا ہے۔ آج تم بھی اسی ہجوم کا ایک حصہ ہو، وہ ہجوم جو رب العالمین کا مہمان ہے،اور میری تمنا ہے،اور تمہاری بھی یہی تمنا ہونا چاہئے کہ محبت کی یہی چنگاری کشاں کشاں دیارِ محبوب کی طرف لئے جارہی ہو،۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مساجد و مدارس کی تعمیر میں غیر مسلم کے پیسے لگانے کا شرعی حکم

حج کے اعمال و مناسک کو دیکھو جو تم بجا لائوگے۔ یہ تمام تر عشق و محبت کے اعمال ہیں۔ یہ بھی اللہ کی محبت ہے کہ انہوں نے محبت کی ان ادائوں کی تعلیم دی، ان کو اپنے گھر کی زیارت کا حصہ بنایا، اور ان پر محبت اور اجر کی بشارت دی۔ یہ سنت ابراہیم ؑ کا ورثہ ہیں۔
یہ ہے وہ حج جس کے لئے تم روانہ ہو ئے ہو۔ جتنا عشق و محبت کا یہ سبق ازبر کرو گے، دل پر اسے نقش کرو گے، اسے یاد رکھو گے، اللہ کو تم سے جو محبت ہے اس کی حرارت اور طمانیت اپنے اندر جذب کرو گے، اللہ سے ٹوٹ کر پورے دل سے محبت کرو گے اور اس کا اظہار کرو گے، حج کے ہر عمل کو زیادہ سے زیادہ اس محبت کے رنگ میں رنگو گے، اس سے اللہ کی محبت کی طلب اور جستجو کرو گے، ان ہی کی محبت اور قرب کی آرزو اور شوق میں جلو گے، اتنا ہی تم حج کی آغوش سے اس طرح گناہوں سے پاک و صاف ہوکر لوٹو گے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلتے ہو، اور تمہارے حق میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت پوری ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK