Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھٹیوں میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے ماحول فراہم کیجئے

Updated: May 01, 2026, 3:32 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتا ہے لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

انسان کی فطرت میں بنیادی طورپر خیر کا غلبہ ہے ، اسی لئے ہر شخص سچائی ، انصاف ، دیانت داری ، مروت اور شرم و حیا کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں جھوٹ ، ظلم ، خیانت ، بے مروتی اور بے حیائی کو ناپسند کرتا ہے ، یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص اس کو جھوٹا کہہ دے تو اس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے اوربعض اوقات یہ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان بعض دفعہ بے حیائی کا کام کرتا ہے لیکن اپنے عمل پر پردہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔ یہ دراصل فطرت کی آواز ہے ؛ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت کے اعتبار سے اسلام پر پیدا ہوتا ہے ، یعنی خدا کی فرمانبرداری کے مزاج پر پیدا کیا جاتا ہے ؛ لیکن اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں ۔(مسند احمد) لیکن خارجی حالات کی وجہ سے بہت سی دفعہ انسان اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے ، اس کا رجحان گناہ کی طرف بڑھنے لگتا ہے، ظلم و ناانصافی، بے حیائی و بے شرمی، کبر و غرور اور دوسروں کی تحقیر سے اس کے قلب کو تسکین ملتی ہے ، یہ انسان کی اصل فطرت نہیں ؛ بلکہ خارجی عوامل کی وجہ سے پیدا ہونے والا انحراف ہے !

یہ بھی پڑھئے: رشتوں کو قائم رکھنے اور پرسکون زندگی کا نسخہ قطع رحمی نہیں، صلہ رحمی ہے

جو خارجی عوامل انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ، وہ بنیادی طورپر دو ہیں : ایک : ماحول ، دوسرے : تعلیم ، تعلیم کا مطلب تو واضح ہے ، ماحول کے اصل معنی گرد و پیش کے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے ، فکر و نظر اور عملی زندگی میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پانی کی اصل فطرت ٹھنڈا ہونا ہے ، وہ نہ صرف خود ٹھنڈا ہوتا ہے؛ بلکہ دوسرے کو بھی ٹھنڈک پہنچاتا ہے؛ لیکن جب سخت گرمی اور تپش کا موقع ہوتا ہے اور دُھوپ کی تمازت بڑھی ہوئی ہوتی ہے تو پانی بھی گرم ہوجاتا ہے اور پینے والوں کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی ، اسی طرح انسان پر اس کے ماحول کا اثر پڑتا ہے ۔
اگر اس کو نیک، شریف اور با اخلاق لوگوں کا ماحول میسر آجاتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت پروان چڑھتی ہے اور اس کی خوبیاں دو چند ہوجاتی ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے پانی میں برف ڈال دیا جائے کہ اس سے اس کی ٹھنڈک اور بڑھ جاتی ہے اور یہ پانی پیاسوں کے لئے اکسیر بن جاتا ہے ، اگر اس کو غلط ماحول ملے تو اس کے اندر جو خوبیاں تھیں وہ بھی بتدریج ختم ہوجاتی ہیں، اس کی مثال اس صاف شفاف پانی کی ہے ، جس کے اندر کسی نے گندگی ڈال دی ہو ۔
رسول اللہ ﷺ نے ماحول کی اہمیت اور اس کے اثرات کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا نیک آدمی کی مثال اس شخص کی ہے جو مشک رکھے ہو، اگر تم کو اس سے مشک نہ مل سکے تو خوشبو تو مل جائے گی ، اور خراب آدمی کی دوستی و ہم نشینی کی مثال بھٹی دُھونکنے والے کی ہے ، اگر تمہارا کپڑا نہ جلے تو کم سے کم اس کے دُھوئیں سے نہ بچ سکوگے ، (بخاری ، باب المناسک ، حدیث نمبر : ۵۵۳۴ ، مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الزہد ، حدیث نمبر : ۳۴۸۱۹) ماحول کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن و حدیث میں اس کی خاص طورپر تاکید کی گئی ہے کہ انسان اچھے ماحول میں رہے اور خراب ماحول سے اپنے آپ کو بچائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم راست گو اور راست عمل لوگوں کے ساتھ رہا کرو ۔ (التوبۃ : ۱۱۹)

یہ بھی پڑھئے: روحانی ترقی کیلئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے

مدینہ تشریف لانے کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے تمام مسلمانوں پر یہ بات واجب قرار دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ میں آکر مقیم ہوجائیں؛ چنانچہ جزیرۃ العرب کے طول و عرض سے صحابہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے، ہجرت کرنے والوں کی تعداد چند سو تھی؛ لیکن فتح مکہ کے موقع سے جو لوگ آپؐ کے ہم رکاب تھے، ان کی تعداد دس ہزار تھی، اور ظاہر ہے کہ فتح مکہ کی مہم میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ مدینہ بالکل خالی ہوجائے۔ بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کے علاوہ بہت سے جوان بھی مدینہ میں موجود رہے ہوں گے؛ تاکہ مدینہ کا تحفظ خطرہ میں نہ پڑجائے۔ ان میں بیشتر لوگ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے ۔ ہجرت کے حکم کا بنیادی سبب یہی تھا کہ لوگوں کو ایک معیاری دینی ماحول ملے ، جو وہ لوگوں کو دیکھ کر دین کو سیکھ سکیں اور اسلامی اخلاق کا نمونہ بن سکیں، یہ ماحول ہی کا اثر تھا کہ جو لوگ ظلم و جور ، قتل و قتال، بے حیائی و بے شرمی اور شراب و کباب کے لئے مشہور تھے، انہوںنے ایک ایسی بلند پایہ سوسائٹی کا نقشہ چھوڑا کہ انبیاء کرام کے سوا زمین کے سینے پر اور آسمان کے سائے میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی، یہ رسول اللہ ﷺکی بافیض صحبت اور ماحول کا اثر تھا ۔
ماحول کا اثر یوں تو ہر سن و سال کے لوگوں پر پڑتا ہے ؛ لیکن بچوں پر اس کا اثر زیادہہوتا ہے ۔ انسان کے جسم میں سب سے پہلے دماغ کی نشوو نما ہوتی ہے اور دماغ کی ترقی کا مرحلہ تیز رفتاری کے ساتھ طے پاتا ہے؛ اسی لئے بچوں میں کسی بات کے اخذ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے، وہ بولنے والوں سے الفاظ سیکھتا ہے ، چلنے والوں سے چلنے کا انداز سیکھتا ہے ، اپنے بڑوں سے اُٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے طریقے سیکھتا ہے ، گانا سن کر گنگناتا ہے ، گالیاں سن کر گالیاں ہی اس کی زبان پر چڑھ جاتی ہیں۔ وہی بچہ  اگر اچھی باتیں سنے تو ان کو دُوہراتا ہے ، ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو رُکوع و سجدے کی نقل کرتا ہے ، مسجد جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو مسجد جانے کی کوشش کرتا ہے ۔ غرض کہ اس کا ذہن تیزی سے ماحول میں پیش آنے والی چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: ظاہری و باطنی طہارت دونوں لازمی مگر طریقے الگ

موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ بچہ صبح سات بجے اسکول جانے کی تیاری کرتا ہے اور شام پانچ بجے یا اس کے بعد گھر واپس آتا ہے ، جانے سے پہلے کا وقت سونے اورتیاری کرنے میں گذرجاتا ہے ، واپسی کے بعد بھی مغرب تک کا وقت کھیل کود وغیرہ میں ، گویا اس کا پورا دن اسکول یا ٹیوشن کے ماحول میں گزرتا ہے ، مغرب کے تین ساڑھے تین گھنٹے کے بعد بچے سوجاتے ہیں؛ کیوں کہ ان کی  عمر کے لحاظ سے انہیں آٹھ گھنٹہ سونا چاہئے ، ان تین چار گھنٹوں میں انہیں اسکول کا ہوم ورک بھی کرنا ہے اور کھانا پینا بھی ہے ؛ اس لئے بہت کم وقت ایسا بچتا ہے جس میں وہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ بیٹھیں، کچھ وقت مغرب کے بعد اور کچھ وقت فجر کے بعد۔ عمومی صورت حال یہ ہے کہ والد آفس اور کاروبار سے اتنی دیر سے آتے ہیں کہ بچے نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں،  مائیں کھانا پکانے اور دیگر گھریلو امور میں اپنا وقت گزار دیتی ہیں، اکثر بچوں کے لئے ماں باپ کے پاس کوئی وقت نہیں  ہوتا۔ چند مسلم اداروں کے علاوہ دیگر اسکولوں کا، جہاں بچے کم و بیش ۷؍ گھنٹے گزارتے ہیں، جو ماحول ہے اس سے ہم سب بہت اچھی طرح واقف ہیں۔  
ان حالات میں ماں باپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دینی ماحول بنائیں، چھٹی کے اوقات اور بچوں کی تعطیل کے ایام اپنے بچوں کے ساتھ گزاریں ، ان اوقات میں انہیں ضروری دینی باتیں سکھائیں اور سمجھائیں، نماز اور تلاوت ِقرآن کا ماحول بنائیں، گھر کی خواتین ساتر  لباس پہنیں ، گھر کے بڑے مرد و عورت آپسی گفتگو میں تہذیب و شائستگی اور باہمی ادب و احترام کا لحاظ رکھیں، زبان کی حفاظت کریں اور کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں جس میں بچوں سے تربیت کی باتیں کہی جاسکتی ہوں۔ موجودہ حالات میں اگر ہم نے بچوں کو دین و اخلاق سے ہم آہنگ ماحول فراہم نہیں کیا تو آئندہ نسل کے لئے بڑا خطرہ ہے کیوںکہ ہمارا تعلیمی نظام بھی دین و اخلاق سے بیگانہ ہے اور تعلیم گاہ کا ماحول بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہے، ان حالات میں اگر والدین نے بچوں کو مناسب ماحول فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی تو یہ بچوں کے ساتھ یقیناً بڑا ظلم ہے اور ان کے والدین وسرپرست عند اللہ جواب دہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: آئیے، ہم اپنی اصلاح کیلئے خود ایسی کوشش کریں جس میں کامیاب ہوسکیں

 ماحول سازی کے متعلق ۱رشادات ِ  نبویؐ 
آپ ﷺنے مختلف طریقوں پر ماحول سازی کا حکم دیا ہے۔ آپؐ  نے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے ، آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں گھروں میں پڑھو ، یہ افضل طریقہ ہے۔(بخاری ، کتاب الاعتصام ، باب مایکرہ من کثرۃ السوال ، حدیث نمبر : ۷۲۹۰)حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے آپ ﷺکا ارشاد منقول ہے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو ، اس کو قبرستان نہ بناؤ۔(مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا ، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ )  اسی طرح آپؐ نے گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی خاص طورپر ترغیب دی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ؛ بلکہ اس میں تلاوت کیا کرو ، خاص کر سورۂ بقرہ کی ، کہ جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے ، شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ (مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا ، باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ ، حدیث نمبر : ۷۸۰ ) گھر میں تلاوت ِقرآن ایک ایسا عمل ہے جو ماحول بنانے میں بہت مؤثر ہوتا ہے ، گھر کے بچوں کے ذہن میں بھی یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ ہمیں قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہئے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK