تعمیر ِ امت سے مراد امت مسلمہ کی مکمل تعمیر ہے: فکری، اخلاقی، روحانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے۔ قرآن مجید امت کو ’’بہترین امت‘‘ (آل عمران: ۱۱۰) قرار دیتا ہے، مگر یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب نوجوان اس ذمہ داری کو سنبھالیں۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 4:29 PM IST | Alisha Sharif Mominati | Mumbai
تعمیر ِ امت سے مراد امت مسلمہ کی مکمل تعمیر ہے: فکری، اخلاقی، روحانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے۔ قرآن مجید امت کو ’’بہترین امت‘‘ (آل عمران: ۱۱۰) قرار دیتا ہے، مگر یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب نوجوان اس ذمہ داری کو سنبھالیں۔
اُمت مسلمہ کی بقا، ترقی اور عظمت کا دارومدار نوجوان نسل پر ہے۔ نوجوان وہ قوتِ محرکہ ہیں جو معاشرے میں تبدیلی لا سکتے ہیں، فکری انقلاب برپا کر سکتے ہیں اور اللہ کے دین کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔ جوانی وہ سنہری دور ہے جب انسان کے پاس طاقت، صحت، جوش، وقت اور صلاحیتوں کا خزانہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نعمت کا قیامت کے دن سخت احتساب فرمائے گا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ کیا جائے: اس نے عمر کہاں گزاری؟ اس نے جوانی کہاں صرف کی؟ اس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور علم سیکھا تو اس پر عمل کتنا کیا؟‘‘ (سنن ترمذی)
یہ بھی پڑھئے: آزمائش زوال نہیں، عروج کا راستہ ہے
تعمیر ِ امت سے مراد امت مسلمہ کی مکمل تعمیر ہے: فکری، اخلاقی، روحانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تعلیمی اعتبار سے۔ قرآن مجید امت کو ’’بہترین امت‘‘ (آل عمران: ۱۱۰) قرار دیتا ہے، مگر یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب نوجوان اس ذمہ داری کو سنبھالیں۔ آج کے دور میں نوجوان سوشل میڈیا، مغربی ثقافت، بے روزگاری اور فکری فتنوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ دکھانا ضروری ہے۔
احادیثِ نبویؐ میں نوجوانوں کی اہمیت اور ذمہ داری
سایۂ الٰہی کی بشارت: ’’سات قسم کے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا، ایک وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی گزاری۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم)
پانچ نعمتوں کا اہتمام: ’’پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت سمجھو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے۔‘‘ (حاکم)
گھرانے کی اصلاح: حضرت مالک بن حویرث ؓ (نوجوان) اور ان کے ساتھیوں کو آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، انہیں دین سکھاؤ، نماز قائم کرو۔‘‘ (بخاری)
قیادت کی مثال: سرکار دو عالمؐ نے حضرت اسامہ بن زید ؓ (۱۸-۲۰ ؍ سال) کو فوج کا کمانڈر بنایا۔ جب اعتراض ہوا تو فرمایا کہ تم ان کے والد زید کی قیادت پر بھی اعتراض کر چکے ہو۔
علم کی دعا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (نوجوان) کے لئے دعا فرمائی:’’اے اللہ! اسے دین کا فقیہ بنا اور قرآن کی تعبیر سکھا۔‘‘ وہ بعد میں ترجمان القرآن بنے۔
یہ بھی پڑھئے: دل کی سختی بڑھ جائے تو احساس کی موت ہونے لگتی ہے!
عصر حاضر کے چیلنجز اور حل
آج نوجوان مغربی ثقافت، سوشل میڈیا کی لت، بے روزگاری، نشہ، فحاشی اور فکری گمراہی کا شکار ہیں۔اس سے دوری کا بہترین حل یہ ہے:
* قرآن کی روزانہ تلاوت اور تدبر۔
* سیرت نبوی ﷺ کا مطالعہ۔
* نیک صحبت اختیار کرنا اور
* وقت کی پابندی (ٹائم مینجمنٹ)۔
نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ امت کے مسائل حل کرنے کے لئے پروجیکٹس شروع کریں جیسے تعلیمی ادارے، فلاحی تنظیمات، میڈیا پلیٹ فارمز وغیرہ۔ یاد رہے، نوجوان امت کا سرمایہ، مستقبل اور امید ہیں۔ اگر وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں چلیں تو امت پھر سے سربلند ہو گی۔
ارشاد باری ہے: ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کیلئے ظاہر کی گئی ہے۔‘‘ آج ضرورت ہے کہ اس منصب کو سمجھا جائے۔ (آل عمران: ۱۱۰)
قرآن مجید میں نوجوانوں کا ذکر
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر نوجوانوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔ سورۂ کہف میں فرمایا گیا:
’’(اب) ہم آپ کو ان کا حال صحیح صحیح سناتے ہیں، بیشک وہ (چند) نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے لئے (نورِ) ہدایت میں اور اضافہ فرما دیا، اور ہم نے ان کے دلوں کو (اپنے ربط و نسبت سے) مضبوط و مستحکم فرما دیا، جب وہ (اپنے بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے: ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گے۔‘‘ (الکہف: ۱۳-۱۴)۔
یہ نوجوان ظالم بادشاہ دقیانوس کے دور میں تھے۔ انہوں نے بت پرستی سے انکار کیا، سلطنت کی نعمتوں کو ٹھکرایا، غار میں پناہ لی اور اللہ نے انہیں صدیوں تک زندہ رکھ کر ایک نشانی بنا دیا۔ تفسیر میں آتا ہے کہ ان کی عمر ۱۸؍ سے ۳۰ ؍سال کے درمیان تھی۔ ان کی جرأت، توکل اور ایمان کی مضبوطی نوجوانوں کیلئے سبق ہے کہ مادّی طاقت کے سامنے اللہ پر بھروسہ کر کے باطل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اقراء کے ساتھ باسم ربک بھی ضروری ہے
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے نوجوان
’’پس موسٰی (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند جوانوں کے سوا (کوئی) ایمان نہ لایا، فرعون اور اس کے سرداروں کے ڈر سے۔‘‘ (سورہ یونس: ۸۳)
حضرت لقمان کی نصیحت
سورۂ لقمان میں لقمان حکیم اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہیں: ’’اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔‘‘ (لقمان:۱۷)
حضرت اسماعیل ؑ کا قربان ہونے کے لئے تیار ہوجانا
’ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ (سورہ الصافات: ۱۰۲)
حضرت یوسف ؑکی دعا
حضرت یوسف علیہ السلام جب نوجوان تھے تو زلیخا کے فتنے کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا: ’’اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں ۔‘‘(یوسف: ۳۳)