انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا دور ہو جو آزمائشوں، مصیبتوں اور مشکلات سے خالی رہا ہو۔ پیدائش سے لے کر موت تک انسان مختلف شکلوں میں امتحانات سے گزرتا رہتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 4:22 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai
انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا دور ہو جو آزمائشوں، مصیبتوں اور مشکلات سے خالی رہا ہو۔ پیدائش سے لے کر موت تک انسان مختلف شکلوں میں امتحانات سے گزرتا رہتا ہے۔
انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا دور ہو جو آزمائشوں، مصیبتوں اور مشکلات سے خالی رہا ہو۔ پیدائش سے لے کر موت تک انسان مختلف شکلوں میں امتحانات سے گزرتا رہتا ہے۔ کسی کو معاشی پریشانیاں گھیر لیتی ہیں، کوئی جسمانی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے، کوئی ذہنی الجھنوں میں مبتلا رہتا ہے اور کوئی اپنے مشن، مقصد یا تعلقات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ گویا آزمائش زندگی پر وارد ہونے والی کوئی غیر معمولی چیز نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام انسانوں کی آزمائشیں یکساں نہیں ہوتیں۔ جس طرح لوگوں کے مقامات، ذمہ داریاں اور صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں، اسی طرح ان کے امتحانات کی نوعیت اور شدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ ایک طالب علم کا امتحان اور ایک استاد کا امتحان ایک نہیں ہوسکتا، ایک عام سپاہی کی ذمہ داری اور ایک سپہ سالار کی ذمہ داری برابر نہیں ہوسکتی۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے میں کارفرما نظر آتا ہے کہ جس کا مقام جتنا بلند، اس کی آزمائش بھی اتنی ہی بڑی اور کڑی ہوتی ہے۔
دنیا کا عمومی مشاہدہ بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔ ایک عام مزدور اور ایک بڑے ادارے کے سربراہ کی ذمہ داریاں برابر نہیں ہوتیں، اس لئے ان کی فکری اور عملی آزمائشیں بھی ایک جیسی نہیں ہوسکتیں۔ جس شخص کے کندھوں پر جتنی بڑی ذمہ داری رکھی جاتی ہے، اس سے اتنا ہی بڑا صبر، عزم اور استقامت مطلوب ہوتی ہے۔ جس درخت پر پھل زیادہ لگتے ہیں، پتھر بھی اسی کی طرف زیادہ پھینکے جاتے ہیں۔ جس چراغ کی روشنی زیادہ دور تک پہنچتی ہے، ہواؤں کی شدت بھی اسی کو بجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لیے بڑی آزمائش درحقیقت بڑی ذمہ داری اور بلند مقام کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ایام تشریق کی قضا نماز، گوشت کی تقسیم کا مسئلہ، قربانی میں شرکت
اسی اصول کا سب سے نمایاں اظہار انبیائے کرام علیہم السلام کی مقدس زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ اگر قربِ الٰہی اور محبوبیت ِ ربانی مصیبتوں سے مکمل نجات کا ذریعہ ہوتیں تو سب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں آزمائشوں سے خالی ہوتیں، لیکن تاریخ اس کے برعکس منظر پیش کرتی ہے۔ ان پر قوموں نے ظلم کئے، انہیں جھٹلایا گیا، ان کا مذاق اڑایا گیا، انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور بے شمار تکالیف سے گزارا گیا۔ لیکن یہی آزمائشیں ان کے درجات کی بلندی، ان کے کردار کی عظمت اور ان کی دعوت کی صداقت کا ذریعہ بن گئیں۔ گویا آزمائش نے ان کے مقام کو کم نہیں کیا بلکہ مزید روشن اور بلند کردیا۔
اسی حقیقت کو اللہ کے رسولؐ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ’’اللہ کے رسولؐ! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟‘‘
آپؐ نے فرمایا: ’’انبیاء و رسل پر، پھر ان لوگوں پر جو ان کے بعد مرتبے میں ہیں، پھر ان پر جو ان کے بعد ہیں۔ بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے دین میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش سخت ہوتی ہے اور اگر اس میں کمزوری ہو تو اسی کے مطابق آزمائش بھی ہلکی ہوتی ہے۔ پھر مصیبت بندے کے ساتھ رہتی ہے یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔‘‘
(جامع ترمذی)
یہ بھی پڑھئے: بحران کی زَد میں زمین: جنگوں کی آگ، بدلتا موسم اور دم توڑتے انسانی احساسات
یہ حدیث ہمیں آزمائش کا ایک نیا زاویۂ نگاہ عطا کرتی ہے۔ عام طور پر انسان مصیبت کو صرف تکلیف اور محرومی کے تناظر میں دیکھتا ہے، حالانکہ بہت سی آزمائشیں دراصل انسان کی تعمیر، تطہیر اور تربیت کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ سونا آگ میں جل کر اپنی قدر کھوتا نہیں بلکہ مزید نکھرتا ہے۔ سمندر کی گہرائی میں اترنے والا غوطہ خور ہی موتی حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات انسان کی روحانی اور اخلاقی نشوونما بھی مشکلات کی بھٹی سے گزر کر ہی ممکن ہوتی ہے۔ آسانیاں انسان کو سکون تو دے سکتی ہیں، لیکن اکثر مشکلات ہی اسے پختگی، بصیرت اور استقامت عطا کرتی ہیں۔
لہٰذا جب انسان آزمائشوں سے دوچار ہو تو اسے مایوسی، شکوے اور بے عملی کے بجائے انبیائے کرام ؑ کے اسوہ کو سامنے رکھنا چاہئے۔ صبر اس کا سہارا ہو، شکر اس کا شعار ہو، استقامت اس کی قوت ہو اور مقصد سے وابستگی اس کی پہچان ہو۔ مشکلات کے دباؤ میں راستہ چھوڑ دینا آسان ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو طوفانوں کے درمیان بھی اپنے مشن سے دست بردار نہیں ہوتے۔ آزمائشیں اگرچہ زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں، لیکن ان کا صحیح سامنا انسان کو وہ بلندی عطا کرسکتا ہے جس تک بسا اوقات آسائشوں کے راستے سے پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔