Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسان کی حیات ِصالحہ اور اس کی طبعی عمر

Updated: August 07, 2026, 4:17 PM IST | Maulana Abul Kalam Azad | Mumbai

اعمالِ صالحہ و اخلاق ِ فاضلہ کے قائم رکھنے کے لئے ذوقِ فطری دیا گیا، خیر و شر کی حد بندی کردی گئی لیکن کیا تمہارے اعمال اس قانونِ الٰہی سے آزاد ہیں؟ نہیں!

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا معدوم تھی، وجود میں آئی، پھر معدوم ہو جائے گی۔ نباتات، حیوانات، معدنیات کا وجود صفحہ ہستی پر نہ تھا۔ خدا نے ان کو پیدا کیا اور وہی ایک دن ان کو الٹ بھی دے گا۔ دنیا کے نشیب و فراز مٹ جائیں گے اور خدا اور خدا کے فرشتے ایک ہموار میدان میں کھڑے ہوکر انسان کے اعمالِ فاسدہ و صالحہ کا جائزہ لیں گے:

’’یقیناً جب زمین پاش پاش کر کے ریزہ ریزہ کر دی جائے گی، اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے قطار در قطار (اس کے حضور) حاضر ہوں گے۔‘‘ (سورہ الفجر:۲۲)

اعمالِ صالحہ و اخلاق ِ فاضلہ کے قائم رکھنے کے لئے ذوقِ فطری دیا گیا، خیر و شر کی حد بندی کردی گئی لیکن کیا تمہارے اعمال اس قانونِ الٰہی سے آزاد ہیں؟ نہیں! تمہارے اعمال، تمہارے اخلاق، تمہارے فضائل بھی دنیا کی اور  چیزوں کی طرح معدوم تھے ۔ قوت ِ صالحہ نے ان کو پیدا کیا مگر وقت و مکان کے لحاظ سے ان میں بھی ایک سلسلۂ وجود و عدم جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک سے زائد بیوی کی شرعی اجازت اور مسلم پرسنل لاء میں بار بار دخل اندازی

جس طرح دنیا کی ایک عمر ہے، اشخاص کی ایک محدود زندگی ہے،اقوام کے موت و حیات کی ایک مدت ہے، یہی حال تمہارے فضائل و مناقب کا بھی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا سلسلۂ نسب قیامت تک قائم رہے گا مگر بنی آدم کا نسب چار پشتوں سے زیادہ نہیں چل سکتا۔ ایک شخص  جدوجہد کرکے فضائل کا اکتساب کرتا ہے ، علوم سیکھتا ہے، حکومت کی بنیاد ڈالتا ہے، مذہب کا سنگ بنیاد رکھتا ہے، اس کا بچہ اس جدوجہد کا ذکر اس کی زبان سے سنتا ہے، اس کے اعمال کو دیکھتا ہے، باپ مر جاتا ہے اور وہ انہی طریقوں پر عمل کرتا ہے جن پر باپ نے عمل کرکے یہ بنیاد قائم کی تھی۔ لیکن دیوار میں ذرا سا شگاف ہوجاتا ہے، کیونکہ باپ حصول ِ محاسن کا مؤجد تھا، یہ مقلد ہے اور مقلد و مجتہد کا فرق ظاہر ہے ۔ دو پشت اس طرح گزر جاتی ہے اور شرف خاندانی قائم رہتا ہے۔ تیسری پشت شروع ہوتی ہے اور یہ سلسلۂ خاندان صرف آباء و اجداد کی سنی سنائی باتوں کی تقلید کرتا ہے ۔ اس لئے شگاف میں اور زیادہ وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر چوتھی پشت شروع ہوتی ہے اور مغرور انسان آباء و اجداد کے فضائل اور جدوجہد کا مرقع زریں دیکھتا ہے اور یقین کرلیتا ہے کہ اب یہ وراثت دائمی ہے۔ جدوجہد اور عمل حق کی کوئی ضرورت نہیں۔  جب قلعہ مستحکم ہوگیا تو پھر فوج کی کیا حاجت ہے؟ پس وہ ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ خیال دیکھ کر محرکات و وسائل عمل بھی اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور کسی دوسرے خاندان کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔ وہ خاندان ان آلات و اسلحہ کو لے کر اٹھتا ہے،  اور قلعہ فتح کرلیتا ہے۔ دیوار دھم سے گر پڑتی ہے اور چار پشت کے بعد اعمالِ صالحہ کا گھرانا عموماً دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے۔

اگرچہ بہت سے خاندانوں کا شرف اس سے زیادہ مدت قائم رہتا ہے اور بہت سے خاندان اس سے پہلے بھی برباد ہوجاتے ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اعمالِ صالحہ کی  متوسط عمر یہی ہے۔ قرآن حکیم اور حدیث و تاریخ سے اس کی تائید ہوتی ہے:

’’ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اس (حرام) میں کوئی گناہ نہیں جو وہ (حکم ِحرمت اترنے سے پہلے) کھا پی چکے ہیں جب کہ وہ (بقیہ معاملات میں) بچتے رہے اور (دیگر اَحکامِ اِلٰہی پر) ایمان لائے اور اَعمالِ صالحہ پر عمل پیرا رہے، پھر (اَحکامِ حرمت کے آجانے کے بعد بھی ان سب حرام اَشیاء سے پرہیز کرتے رہے اور (اُن کی حرمت پر صدقِ دل سے ایمان لائے، پھر صاحبانِ تقویٰ ہوئے اور (بالآخر) صاحبانِ اِحسان (یعنی اﷲ کے خاص محبوب،  مقرب اور نیکوکار بندے بن گئے، اور اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ (المائدہ:۹۳)

یہ بھی پڑھئے: میراث کی تقسیم، اہمیت اور ہمارا رویہ

ایمان و عمل صالح کے بعد ایک درجہ قائم ہوگیا۔ اس کے بعد خدا نے تین   بار تقویٰ و ایمان و احسان کی ہدایت کی، اس لئے یہ چاروں درجے مکمل ہوگئے۔ چوتھے درجہ پر احسان کا حکم دیا کہ عمل صالح کی تکمیل احسان ہی ہے۔

خدا نے اگرچہ ان مراتب اربعہ کو چند متعین اشخاص کے ساتھ محدود کردیا ہے، لیکن یہ قرآنِ حکیم کا عام انداز ہے کہ باپ کے اعمال کو اولاد کی طرف منسوب کیا گیا ہے ، اس کے بعد کے تینوں مراتب نیچے کی پشتوں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ 

حدیث شریف میں آنحضرت ؐ نے حضرت یوسفؑ کے مناقب کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے: ’’شریف، شریف کا بیٹا، شریف کا بیٹا، شریف کا بیٹا، یوسف بن یعقوب ہے۔‘‘

ایک بار نوشیرواں نے نعمان سے کہا: ’’کیا عرب میں کوئی قبیلہ سب سے ممتاز ہے؟‘‘ اس  نے کہا ہاں! نوشیرواں نے وجہ فضیلت پوچھی۔ نعمان نے  جواب دیا : ’’جس خاندان میں تین سردار متصل ہوتے چلے آئیں، پھر چوتھے کی باری آئے تو تمام قبیلہ میں وہ خاندان ممتاز خیال کیا جاتا ہے۔‘‘ نوشیرواں نے اس خاندان کو طلب کیا تو آل حذیفہ بن بدرالفرازی نے شرافت کی یہ آخری سند پیش کی۔ اگر سلاطین عالم کے خاندانوں پر نگاہ غائر ڈالی جائے تو وہ بھی اس کی تائید کریں گے اور خلافت ِ راشدہ کا دور تو اس کی واضح مثال ہے ۔ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے: ’’بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو اس کے بعد۔‘‘ آپؐ نے چوتھے دَور کا ذکر نہیں کیا کہ فتنہ و فساد کا  زمانہ قابل ذکر نہیں۔

یعنی آپ ؐ نے کرم کا انحصار چار پشتوں میں کیا، جس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت ِ یوسف ؑ کے خاندان نے شرافت کی مکمل مدت کو پورا کرلیا اور یہی چار پشتوں کی مدت اس کی آخری سرحد ہے۔

عموماً اقوام کی عمر، اشخاص سے زیادہ ممتاز ہوتی ہے۔ یہی حال اخلاق و فضائل کا بھی ہے۔ اشخاص اور اشخاص کے ساتھ ان کے محاسن زندگی بھی چلے جاتے ہیں لیکن قوم باقی رہتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی اخلاقی روح بھی قائم رہتی ہے۔ پس اگر ہم اخلاقی زندگی کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو ہم کو اپنے تمام اعمالِ صالحہ کو جمہوریت کے قالب میں ڈھال لینا چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: طرزِ عمل کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کی مقدار سے بھی ہوتا ہے

اسلام کے قالب میں فطرتاً یہ روح موجود تھی اس لئے اس کے تمام قوائے طبعی ایک مرکز پر جمع ہوکر جسم کو حرکت دیتے تھے لیکن امتداد ِ زمانہ نے اس مرکز کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا۔ اس لئے شخصیت  نے جمہوریت کی جگہ لے لی اور خلافت نے حکومت کی صورت اختیار کرلی۔  جب تک بدن میں قوت تھی مرض کے نتائج علانیہ محسوس نہیں ہوئے،  لیکن جب جسم کی قوت میں اضمحلال پیدا ہوا تو دفعتاً ظاہر ہوگئے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ مرض نے رطوبت غریزی کو خشک کردیا ہے اور حرارت ِ اصلیہ کا چراغ بجھ گیا۔ اس وقت خدا کا فرشتہ پکار اٹھا ’’بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں۔‘‘ (سورہ الروم: ۴۱)  رطوبت اگرچہ خشک ہوگئی ہے ، حرارت اگرچہ بجھ گئی ہے مگر جسم باقی ہے اور وہ پھر اسی معجونِ مرکب سے توانائی حاصل کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK