Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک سے زائد بیوی کی شرعی اجازت اور مسلم پرسنل لاء میں بار بار دخل اندازی

Updated: August 07, 2026, 4:03 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

بھارت کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور مختلف مذہبی برادریوں کو اپنے شخصی قوانین کے مطابق عائلی معاملات چلانے کا حق دیتا ہے، مسلم پرسنل لاء بھی اسی آئینی اور قانونی نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت نکاح، طلاق، وراثت اور تعددِ ازدواج جیسے مسائل کا فیصلہ کیا جاتا ہے، ایسے میں اگر حکومت باربار انہی امور کو سیاسی اور انتظامی مداخلت کا موضوع بنائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ مسلمانوں اور مسلم پرسنل لاء کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

If the government is really serious about protecting women`s rights, it should take equal and non-discriminatory measures for women of all classes. Photo: INN
اگر حکومت واقعی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے تمام طبقات کی خواتین کیلئے یکساں اور غیر امتیازی اقدامات کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

جمہوریت کا بنیادی اصول محض اکثریت کی حکمرانی نہیں، بلکہ تمام شہریوں، بالخصوص مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کے حقوق کا یکساں تحفظ ہے۔ حقیقی جمہوری حکومت اپنی اقلیتوں کو ان کے مذہب، تہذیب، ثقافت، زبان اور شخصی قوانین کے ساتھ باوقار زندگی گزارنے کا پورا حق دیتی ہے، نہ کہ اکثریت کے مذہبی یا سماجی تصورات ان پر مسلط کرتی ہے۔ مضبوط جمہوریت کی پہچان یہ ہے کہ وہ اکثریت کی عددی برتری کو اقلیتوں کے آئینی حقوق پر غالب نہ آنے دے، بلکہ انصاف، رواداری اور تکثیری اقدار کی بنیاد پر ہر شہری کو اس یقین کے ساتھ جینے کا حق دے کہ اس کا مذہب، تہذیب اور شناخت ریاست کیلئے  یکساں قابلِ احترام ہیں۔

بھارت کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور مختلف مذہبی برادریوں کو اپنے شخصی قوانین کے مطابق عائلی معاملات چلانے کا حق دیتا ہے، مسلم پرسنل لاء بھی اسی آئینی اور قانونی نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت نکاح، طلاق، وراثت اور تعددِ ازدواج جیسے مسائل کا فیصلہ کیا جاتا ہے، ایسے میں اگر حکومت باربار انہی  امور کو سیاسی اور انتظامی مداخلت کا موضوع بنائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ مسلمانوں اور مسلم پرسنل لاء کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میراث کی تقسیم، اہمیت اور ہمارا رویہ

حالیہ خبر، جس میں ’’تعددِ ازدواج سے متاثرہ مسلم خواتین‘‘سے درخواستیں طلب کرنے کی بات کی گئی ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے،  گزشتہ چند برسوں میں بھی ایسے متعدد اقدامات سامنے آئے جنہیں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے مذہبی تشخص اور شخصی قوانین میں مداخلت کے طور پر دیکھاہے۔ طلاقِ ثلاثہ کو جرم قرار دینے والا قانون، بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں بتدریج یکساں سول کوڈ کا نفاذ، مذہبی مقامات اور وقف سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں، اور دیگر اقدامات نے اس احساس کو مزید تقویت دی ہے  کہ موجودہ حکومت کی زبان پر بھلے ہی سب کے وکاس اوروشواس کی بات ہو؛ لیکن اس کا طرز عمل اور برتائو جمہوریت کے نام پر اکثریت کے جبر کو اقلیت پر مسلط کرناہے۔ برسراقتدار پارٹی ان اقدامات کو اصلاحات قرار دیتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ  یہ انتخابی سیاست، اکثریت کے جذبات کی تسکین کا ذریعہ اورسنگھ پریوار کے ایجنڈہ کو نافذ کرنے کے مرحلہ وار اقدامات ہیں۔

گھریلو تشدد، جہیز، ازدواجی استحصال، ترکِ زوجیت اور دیگر مسائل ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں، اگر حکومت واقعی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے تمام طبقات کی خواتین کیلئے یکساں اور غیر امتیازی اقدامات کرنا  چاہیے، نہ کہ صرف ایک مذہبی برادری کے شخصی قوانین کو بار بار موضوع بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعددِ ازدواج کا مسئلہ کئی پہلوؤں سے قابل غور ہے: مذہبی ، سماجی اور اخلاقی۔  مذہبی اعتبار سے یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

دنیا کے مشہور مذاہب میں شاید ہی کوئی مذہب ہو، جس نے تعدد ازدواج کو جائز نہ رکھا ہو، اسلام نے بھی تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے؛ لیکن اس کے لئے بنیادی طور پر دوباتوں کی تحدید رکھی ہے، اول : یہ کہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار تک ہی تعدد ازدواج کی اجازت ہے، دوسرے: یہ اجازت عدل کے ساتھ مشروط ہے ، یعنی جو شخص ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان حقوق کی ادائیگی اور سلوک و برتاؤ میں برابری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، اسی کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے، پس اسلام نے ایک طرف سماجی ضرورت کی رعایت بھی کی ہے اور دوسری طرف ان حدود و قیود کے ذریعہ اس اجازت کو متوازن بنانے کی کوشش بھی کی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: طرزِ عمل کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کی مقدار سے بھی ہوتا ہے

دوسرا پہلو سماجی ضرورت کا ہے۔ عام طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کی شرح پیدائش (Rate of Birth) میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا ؛ لیکن شرح اموات (Rate of death) میں مردوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر حادثات میں مردوں کی جانیں کام آتی ہیں ، مثلاً : پہلی جنگ ِعظیم، جو ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ ء تک جاری رہی، میں اسّی لاکھ صرف فوجی فوت ہوئے، شہریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے، ظاہر ہے کہ یہ فوجی مرد تھے، دوسری جنگ ِعظیم ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۵ء تک جاری رہی ، جس میں کل ساڑھے چھ کڑور آدمی یا تو ہلاک ہو گئے یا معذور۔ ان میں غالب ترین اکثریت مردوں کی تھی، اس جنگ ِعظیم میں برباد ہونے والا قائد ملک جرمنی تھا، ۱۹۲۰ء سے ۱۹۴۰ء تک جرمنی میں یہ کیفیت تھی کہ ہر مرد کے مقابلہ شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی تین عورتیں تھیں۔ فرانس میں ۱۹۰۰ء کی مردم شماری کے اعتبار سے عورتوں کی تعداد مردوں سے چار لاکھ،تئیس ہزار، سات سو نوسے زیادہ تھی اور آسٹریلیا میں ۱۸۹۰ء میں چھ لاکھ ، چوالیس ہزار، سات سو چھیانوے عورتیں مردوں سے زیادہ تھیں۔ عراق ایران جنگ (۱۹۸۸ء  تا  ۱۹۷۹ء) میں عراق کی ایک لاکھ اور ایران کی بیاسی ہزار عورتیں بیوہ ہو گئیں ۔ 

جنگوں کے علاوہ جو دوسرے ٹریفک یا صنعتی حادثات پیش آتے ہیں اور جو لوگ غنڈہ گردی کا نشانہ بنتے ہیں، وہ بھی عام طور پر مرد ہی ہوتے ہیں،  پھر اگر جیلوں میں طویل المدت قیدیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں  نوے فیصد (۹۰) سے زیادہ تعداد مردوں کی ہوتی ہے؛ کیوں کہ طویل قید بھیانک جرائم پر ہوتی ہے اور اپنی نفسیاتی کمزوری کی بنا پر مجرم ذہن کی عورتیں بھی بھیانک قسم کے جرائم کا حوصلہ نہیں کر پاتیں، ان اسباب کی بناء پر عام طور پر ایک مرد کے مقابلہ ایک سے زیادہ عورتوں کا تناسب پایا جاتا ہے،  امریکہ جیسے ملک میں جس میں حادثات سے حفاظت کا زیادہ ترقی یافتہ نظام قائم ہے اور دفاعی ٹکنالوجی میں ترقی اور بالادستی کی وجہ سے حریف ملکوں کے مقابلہ اس کی فوجی ہلاکت کاتناسب بہت کم ہوتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۷ء میں وہاں عو رتوں کی آبادی بمقابلہ مردوں کے تقریباً اسی لاکھ زیادہ تھی ۔

اگر تعدد ازدواج کی اجازت نہ دی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد تجرد اور محرومی کی زندگی گزارے، اس لئے تعدد ازدواج مردوں کی ہوس اور نفسانی طمع کی تکمیل نہیں ؛ بلکہ ایک سماجی ضرورت ہے ۔ 

تعددِ ازدواج میں ایک پہلو عورت کے ساتھ رحمدلی کا بھی ہے،  اگر ایک عورت دائم المریض ہو اور کسی مناسب یا نامناسب وجہ سے مرد دوسرے نکاح پر مصر ہو تو اگر تعدد ازدواج کی گنجائش نہ رکھی جائے تو، یا تو وہ اسے طلاق دے دے گا، جس کا مذموم ہونا ظاہر ہے یا وہ غیرقانونی تعدد ازدواج کا راستہ اختیار کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے

تعددِ ازدواج کے مسئلہ میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے والوں کا رویہ بھی قابل توجہ ہے، کہ ایک طرف وہ قرآن مجید کی اجازت سے فائدہ اُٹھاکر دوسرا نکاح کرتے ہیں اور دوسری طرف قرآن ہی کی لگائی ہوئی عدل و انصاف کی شرط کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ تعدد ازدواج ایک سنجیدہ فیصلہ ہے نہ کہ پہلی بیوی سے انتقام کا طریقہ، عوام تو عوام ، خواص اور اہل علم بھی جب دوسرا نکاح کرتے ہیں تو کھلے ہوئے ظلم و جور سے اپنا دامن آلودہ کر لیتے ہیں اور زیادہ تر پہلی بیوی کو اور بعض واقعات میں دوسری بیوی کو ’’ معلقہ ‘‘ بنا کر رکھ دیتے ہیں، یہ صریحاً ظلم اور گناہ ِ عظیم ہے اور رب العالمین  کی شریعت سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔ جو شخص عدل پر قادر نہ ہو (جیسا کہ مذکور ہوا) اس کیلئے ایک ہی بیوی پر قناعت کرنا واجب ہے،  ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا درست نہیں؛ چنانچہ ارشاد باری ہے کہ اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل نہ کر سکوگے تو تمہیں ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہئے  ( النساء : ۳۔)

اس لئے حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج کی اجازت ایک سماجی و عمرانی ضرورت اور عفت و پاک دامنی کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور اپنے نتائج و اثرات کے اعتبار سے خود عورتوں کیلئے بعض حالات میں باعث ِرحمت ہے؛ البتہ ضروری ہے کہ تعدد ازدواج کیلئے شریعت کی حدود و قیود کا لحاظ رکھا جائے؛  ورنہ یہ قانون حکم ِشریعت کا استعمال نہیں؛ بلکہ ’’ استحصال‘‘ ہوگا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK