Inquilab Logo Happiest Places to Work

قناعت اختیار کرلیجئے، ہر مشکل آسان محسوس ہوگی

Updated: March 27, 2026, 3:49 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai

جنگ کے ماحول میں انسان کا پریشان ہونا فطری ہے ، اگر ہم ایسے مواقع پر اسلام کی قناعت پسندی کی تعلیم کا اعادہ کریں اور اس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیں تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اللہ عزوجل نے جنگ ہو یا امن ہر حال میں مخلوقات کے رزق کا ذمہ اٹھا یا ہے۔ یہ یقین انسان کوبڑی راحت دیتا ہے اور لاحق فکرمندی دور ہوجاتی ہے۔

We should be grateful that we are not going through the same conditions as war-torn Gaza, where its inhabitants are in dire need. Photo: INN
ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ ویسے حالات سے نہیں گزر رہے ہیں جیسے جنگ زدہ غزہ کے ہیں اور جہاںکے باشندے دانے دانے کے محتاج ہیں۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ تقریبا ایک ماہ سے جاری امریکہ۔ ایران جنگ سے ساری دنیا میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے۔ حالانکہ اس میں راست طورپر صرف تین ممالک ہی شامل ہیں لیکن دنیا کے بیشتر ممالک اس سے کسی نہ کسی طرح متاثر نظر آرہے ہیں۔ ابھی تو صرف توانائی کا بحران شروع ہوا ہے لیکن ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ جنگ آج رک بھی جائے تو اس سے اٹھنے والا بحران کسی نہ کسی طریقے سے دنیا کے بیشتر ممالک کی الگ الگ ضروریات کو متاثر کرکے ہی رہے گا۔

ایک طرف سارے عالم پر چھائے ہوئے یہ مشکلات کے سیاہ بادل ہیں جن سے انسانی زندگی پر عرصۂ حیات تنگ ہونے کے مکمل آثار نظر آنے لگے ہیں، وہیں دوسری طرف اللہ عزوجل کی جانب سے انسان کو پانی کی طرح عطاکی ہوئی فطرت ہے کہ پانی کو جس طرح جس سانچے میں ڈھال دو وہ ڈھل جاتا ہے، بس اسی طرح انسان کی بھی فطرت ہے کہ اس پر جیسےبھی حالات آئیں وہ ان میں جی کر دکھا دیتا ہے۔انسان کے ہر حال میں زندگی گزارلینے کی سب سے بڑی مثال حضرت آدم ؑ ہیں جو اول تو جنت کی بیش بہا نعمتوں میں رہے اور پھر ایک پھل کھانے کی وجہ سے مصائب و آلام سے بھری اس زمین پراتاردئیے گئے لیکن بغیر کسی شکوہ شکایت کے یہاں پر بھی اپنی طبعی عمر گزار کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ ان سے بڑی مثال زندگی میں حالات کی تبدیلی کے ساتھ نباہ اور قناعت کی اور کیا ہوسکتی ہے! یہی قناعت ہے جو نبی کریم حضرت محمدؐ کی لائی ہوئی شریعت کی ایک اہم تعلیم ہے کہ جس میں ہر مومن کو مہیا وسائل پر شکر کرتے اور غیر مہیا وسائل پر صبر کرتے ہوئے زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بیمار کی عیادت بہت بڑا عمل ہے، ستر ہزار فرشتے رحمت کی دُعا بھیجتے ہیں!

قناعت دراصل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغت میں معنی اس طرح درج ہیں: ’’کسی بھی چیز سے راضی ہونا اور اس کو بغیر شکوہ شکایت کے قبول کرنا۔‘‘ اسلامی تعلیمات کی اصطلاح میں قناعت کے معنی ہوں گے: ’’ اللہ نے انسان کے لئے جو کچھ مقدرکیا ہے اس پر راضی رہنا، دوسروں کے پاس موجود چیزوں کا لالچ نہ کرنا اور ضرورت کے مطابق چیزوں پر اکتفا کرنا۔‘‘

یہ تین جملے نہیں بلکہ اطمینان بخش، پرسکون اور آرام دہ زندگی گزارنےکے وہ نسخے ہیں جن سے دنیا کا ہر انسان اپنی زندگی میں آنے والی بیشتر مشکلات کوحل کرسکتاہے۔

اسی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں قناعت کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ جو شخص تم میں سے اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر میں امن سے ہو، جسمانی طور پر تندرست ہو، اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک موجود ہو، تو گویا اس کے لئے پوری دنیا اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ جمع کر دی گئی ہے۔‘‘

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں سرکارِ دو عالم ؐ نے قناعت کو دنیا میں سب سے امیر شخص ہونے کا ذریعہ بھی بتلا یا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ نے جو تمہارے لئے مقدر کیا ہے اس پر راضی رہو، تم سب سے زیادہ غنی (مالدار) ہو جاؤ گے۔‘‘ گویا کہ قناعت انسان کو فقیری میں بھی امیری کا درس دیتی ہے، اور انسان کو جو اس کے پاس بہت تھوڑا ہے اس پر صبر و شکر کے ذریعہ اس کو ذہنی سکون پہنچاتی ہے۔ ایسا ذہنی سکون جس سے اس کی زندگی گل گلزار بن جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: خواہشوں کا غلام نہیں، اُن کا رہبر بنیں!

اسلامی تعلیمات میں اسی اہمیت کی وجہ سے حضرت ابو حاتم الرازیؒ نے قناعت کی اہمیت کو ان الفاظ کے ساتھ اجاگر کیا تھا کہ’’اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے عظیم نعمتوں میں سے ایک قناعت ہے۔ جسم کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی راحت نہیں کہ انسان اللہ کے فیصلے پر راضی رہے اور اس کی تقسیم پر بھروسہ رکھے۔ اگر قناعت میں صرف یہی ایک خوبی بھی ہوتی کہ یہ انسان کو سکون دیتی ہے تو بھی ایک عقلمند کے لئے لازم تھا کہ وہ کسی بھی حال میں قناعت کو ترک نہ کرے۔‘‘

ہر مسلمان کو غور کرناچاہئے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ ؑ کا جو قصہ آیا ہے اس میں ہم سب کے لئے قناعت کا بھی ایک اہم درس چھپا ہوا ہے۔ اللہ عزوجل سورۃ القصص میں ارشاد فرماتا ہے:’’اس پر موسی نے ان کی خاطر (یعنی حضرت شعیب ؑ کی بیٹیوں کی خاطر) ان کے جانوروں کو پانی پلادیا، پھر مڑکرایک سائے کی جگہ چلے گئے اور کہنے لگے: میرے پروردگار! جو کوئی بہتری تو مجھ پر نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘ قرآن مجید میں جن دعاؤں کا تذکرہ ہوا، ان میں یہ دعا اپنے اندر ایک امتیاز اور عجیب سی چاشنی رکھتی ہے۔ حضرت مولانا تقی عثمانی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: اس غریب الوطنی میں جہاں کوئی شخص شناسا نظر نہ آتا تھا، حضرت موسیٰؑ خود سے کوئی نعمت تجویز کرنے کے بجائے معاملہ اللہ پر چھوڑ رہے ہیں، اور دعا کررہے ہیں کہ اے اللہ ! جو چیز تو مجھے دے گا، میں سمجھوں گا بس اسی کی دعا میں نے مانگی ہے۔‘‘  اسی قناعت کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی دانا شخص نے سو باتوں کی ایک بات لکھی ہے کہ: اپنی زندگی کو صرف ضرورتوں تک محدود رکھو، خواہشوں تک مت لے جاؤ۔ اس لئے کہ ضرورتیں فقیروں کی بھی پوری ہوجاتی ہیں اور خواہشیں بادشاہوں کی بھی ادھوری رہ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اخلاص کا ایک ذرّہ

آج جب اس جنگ نے سارے عالم پر نئے وسائل زندگی میں شدید قلت کے آثار پیدا کئے ہیں، اس وقت دنیا پریشان ہے کہ اب آنے والے وقتوں میں انسانی زندگی کی ضروریات کا کیا ہوگا۔ اگر ہم ایسے موقع پر اسلام کی قناعت پسندی کی تعلیم کا اعادہ کریں، اس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیں تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ اللہ عزوجل نے جنگ ہو یا امن، ہر حال میں مخلوقات کے رزق کا ذمہ اٹھا یا ہے، البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آنے والے حالات میں بہتری کیلئے دعا بھی کرتے رہیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ حالات کٹھن ہوسکتے ہیں لیکن ہمارا مقدر اور رزق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ٹھیک ہے گیس پر نہیں تو چولہے پر روٹی بن جائے گی، من چاہی ڈش نہیں تو کوئی بروقت میسر غذا ہی اللہ عزوجل دے دے گا، لیکن دے گاضرور۔ اہلِ غزہ گزشتہ دو سال سے اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اس بات کا یقین کرنا اور جو میسر آئے اس پر قناعت کرنا اور راضی رہنا ہر ایمان والے کے لئے یہ دوایسی سوچ ہیں جو اس کی زندگی میں ہر مشکل حالت میں آسانی پیدا کرسکتی ہیں، ہر آنسو کو مسکراہٹ میں تبدیل کرسکتی ہیں اور ہر گھبراہٹ نیز فکر مندی کو اطمینان کے قالب میں ڈھال سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK