• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسائل، مصائب، مشکلات اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا یعنی کیا؟

Updated: October 31, 2026, 4:27 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ دشواریاں دیکھ کر اپنا طور طریقہ نہ بدلیں بلکہ ایمان کی حفاظت کو یقینی بنائیں، معاملہ فہمی کا ثبوت دیں اور تدبر سے کام لیں۔

Every Muslim should pray to Allah that the Muslim Ummah remains protected from trials; however, should such a situation arise, one should adopt a course of action to navigate it with patience. Image: INN
ہر مسلمان کو اللہ سے دُعا کرنی چاہئے کہ ملت ِاسلامیہ آزمائشوں سے محفوظ رہے تاہم کبھی ایسا موقع آئے تو صبر کے ساتھ اس سے بچنے کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

حال ہی میں ہمارے غیرمسلم بھائیوں کا مذہبی تہوار گزرا ہے اور عنقریب دیگر تہوار بھی آنے والے ہیں۔ ایسے مواقع پر ہمیں چاہئے کہ ان کے مذہبی اجتماعات میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کریں اور ان کے لئے کسی طرح کی رکاوٹ کا سبب نہ بنیں، تاہم باہمی تعلقات کی خوشگواری اور معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے دینی تشخص اور ایمانی اقدار کی حفاظت کا بھی پورا اہتمام کریں تاکہ حسن معاشرت اور تحفظ دین دونوں کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ سکیں۔ مسلمانوں اور خاص کر علماء ، مذہبی جماعتوں اور پیشواؤں کا فریضہ ہے کہ وہ اس بارے میں پوری فکر مندی سے کام لیں ، مسلم سماج کو ایسے فتنوں سے بچائیں ، جہاں جلسوں ، اجتماعات اور جمعہ وعیدین کے خطبات میں اعمالِ صالحہ کی ترغیب دی جاتی ہے ، وہیں مسلمانوں کو ایمان کی حقیقت اور اس کی ا ہمیت بھی بتائی جائے ، جیسے عملی گناہوں کی شناعت بیان کی جاتی ہے ، اسی طرح کفروشرک کی برائی بھی ان کے سامنے رکھی جائے ، قرآن وحدیث سے بھی انھیں سمجھایا جائے اور عقیدۂ توحید کی معقولیت ،کائنات کی فطرت سے اس کی مطابقت اورشرک کی نامعقولیت بھی انھیں سمجھائی جائے ۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ وضوء اور روزہ کے نواقض کے مسائل تو بتاتے ہیں ؛ لیکن نواقض ایمان نہیں بتاتے، یعنی جن باتوں کی وجہ سے انسان کا ایمان ختم ہو جاتا ہے ، ان کوبھی بتانا چاہئے ، موجودہ حالات میں اس کی ضرورت و اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد کیلئے وقف زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کسی بندے کا کوئی حق نہیں، وہ خالص اللہ کی ملک ہے

سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو ایمان اور ہدایت کی اہمیت سمجھائی جائے ، کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حُسن انتخاب سے ملتی ہے۔ نبی کریمؐ کو بھیجا ہی گیا تھا انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ، پھر بھی آپؐ سے فرمایا گیا کہ ضروری نہیں کہ آپ جسے چاہیں ، وہ ہدایت پا جائے ، اللہ تعالیٰ اپنی مشیت خصوصی سے جس کو چاہتے ہیں ، ہدایت سے نوازتے ہیں۔(القصص: ۵۶) تمام رشتوں میں سب سے قربت کا رشتہ بیوی اور اولاد کا ہوتا ہے ؛ لیکن حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑکی بیوی نیز حضرت نوحؑ کی اولاد کے لئے ہدایت مقدر نہیں ہو سکی، (تحریم: ۱۰-ھود:۵۶) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مسلمان ہوا ، بارگاہ نبویؐ  میں حاضر ہوا اور آپؐ  نے اس کو وحی کی کتابت کرائی ؛ لیکن اللہ کی طرف سے اس کے لئے ہدایت پر قائم رہنا مقدر نہیں تھا ؛ اس لئے پھر مرتد ہوگیا ، پھر فتح مکہ کے موقع سے اس نے توبہ کی اور حضرت عثمان غنیؓ کی سفارش پر آپؐ نے اس پر اعتبار کیا۔ (مسند بزار ، حدیث نمبر: ۱۱۵۱) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر دُعا سکھائی ہے : اے اللہ ! ہدایت پانے کے بعد پھر ہمارے دل کو کجی میں مبتلا نہ فرما دیجئے۔  (آل عمران: ۸)

ایمان کی اس اہمیت کا تقاضہ ہے کہ ایمان کی حفاظت میں جن آزمائشوں سے گزرنا پڑے ، ایک  ایمان والا ان پر صبر کرے ، اور اس کے پایۂ استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے ، قرآن مجید میں اہل ایمان اور کفر کی نمائندہ ظالم قوتوں کے درمیان تصادم کے بہت سے واقعات نقل کئے گئے ہیں ، ان واقعات مین کہیں ایسا بھی ہوا کہ اہل ایمان کو غلبہ حاصل ہوا ، یاایسا معجزہ ظہور میں آیا کہ کفر کی طاقت پاش پاش ہو گئی ؛ لیکن بہت سی دفعہ اہل ایمان کو صبر وآزمائش کے مرحلوں سے گزرنا پڑا  اور بظاہر وہ ظلم کی چکی میں پستے رہے ، قرآن میں ان واقعات کے تذکرہ کا بظاہر یہی معنی ہے کہ ایمان اور عمل صالح کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کی کامیابی اور نجات کا وعدہ کیا ہے ، اور یہ ایک یقینی بات ہے ، ان شاء اللہ اہل ایمان ہی آخرت میں سرخرو ہوں گے ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے دنیا میں یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ بہر صورت مسلمانوں ہی کو مادی کامیابی حاصل ہوگی ، ان کے دشمن یقینی طور پر مغلوب ہوجائیں گے ، انھیں تکلیف سے آزمایا نہیں جائے گا اور اُن کے لئے پھولوں کی سیج بچھائی جائے گی ؛ بلکہ قرآن نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہیں جان ، مال اور اولاد کے نقصان سے ضرور ہی آزمائیں گے ۔

یہ بھی پڑھئے: دین محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، فہم، تحقیق اور جوابدہی کا نام ہے

(البقرۃ: ۱۵۵)

قرآن مجید میں متعدد واقعات ذکر کئے گئے، جن میں اصحاب ایمان کے بعض گروہوں کے ساتھ بڑا ظلم روا رکھا گیا ؛ لیکن کبھی انہوں نے دعوت حق سے منھ نہیں پھیرا ، قرآن مجید میں ان جادوگروں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں پورے مصر سے جمع کیا تھا ، جب ان جادوگروں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگر نہیں ہیں ؛ بلکہ واقعی اللہ کے نبی ہیں ، تو وہ ایمان لے آئے ، فرعون نے کہا : میں تم سب کے اُلٹے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا ، اور سولی پر چڑھا دوں گا ؛ لیکن ان حضرات نے جواب دیا کہ ہمیں تو یوں بھی اللہ کی طرف لوٹنا ہی ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے دُعاء کی کہ ہمیں صبر کرنے کی قوت عطا فرما اور اسلام کی حالت میں اس دنیائے فانی سے اُٹھا ۔ (الاعراف:۱۲۶)

قرآن مجید میں ایک اور واقعہ’’ اصحاب اُخدود‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے ، کچھ لوگ جو حقیقی عیسائیت پر قائم تھے ، مشرک حکمرانوں نے ان کو تبدیلیٔ مذہب کے لئے مجبورکرنے کی کوشش کی ، یہاں تک کہ ایک بڑی خندق کھود کر آگ سلگائی گئی ، تمام اہل ایمان کو اس دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا گیا اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے کیا گیا ۔ (البروج: ۸) اس کے باوجود وہ اس پر ثابت قدم رہے ، انھوں نے نذر آتش ہو جانا گوارا کیا ؛ لیکن دولت ایمان سے محرومی کو قبول نہیں کیا ۔

خود صحابہ کرامؓ نے ایمان کے لئے کتنی قربانیاں دیں ؟ سیرت کے صفحات قربانی کے ان نقوش سے روشن ہیں ، یہ اُمیہ ہے ، جو حضرت بلالؓ کو دوپہر کی دھوپ میں مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں گھسیٹتا اور گھسیٹواتا تھا ، پھر ان کے سینہ پر پتھر کی چٹان رکھ دیتا تھا کہ وہ اس گرم ریت پر حرکت بھی نہ کر سکیں ، اور کروٹ بھی نہ لے سکیں ، پھر کہتا تھا : تم کو مرنے تک اسی طرح رہنا ہے ، اس سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ تم محمدؐ کے نبی ہونے کا انکار کرو اور لات وعزیٰ کی عبادت کرو ،مگر  قربان جائیے، حضرت بلالؓ پر کہ  ان کے عشق ایمانی اور جذبۂ قربانی کو یہ بات بھی گوارا نہیں تھی اور ان کی زبان پر’’ اَحد اَحد‘‘ یعنی ’’اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے‘‘ کا کلمہ جاری رہتا تھا ۔ 

یہ بھی پڑھئے: کائنات کا ہر منظر ایک خاموش درس گاہ ہے

یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں صحابہ کرامؓ کو بے پناہ مصائب سے گزرنا پڑا۔ مسلمانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مسلمان ہونا کوچۂ عشق میں قدم رکھنا ہے ، عجب نہیں کہ اس میں آگ کے شعلوں پر چلنا اور کانٹوں بھرے راستہ کو طے کرنا پڑے؛ لیکن جب انسان جان ومال اورعزت وآبرو کی حفاظت کیلئے ایسی آزمائشوں کو برداشت کرتا ہے تو ایمان کی نعمت تو اس سے کہیں بڑھی ہوئی ہے ، اس کے لئے تو یہ قربانیاں ہیچ ہیں ؛ اس لئے ہر مسلمان کو اللہ سے دُعا کرنی چاہئے کہ ملت ِاسلامیہ ایسی آزمائشوں سے محفوظ رہے؛ لیکن اس عزم مصمم اور ارادۂ مستحکم کو اس کے سینہ میں جاں گزیں ہونا چاہئے کہ اگر صبر وآزمائش کے مرحلے آئیں گے ، تب بھی ہم اپنی وفاداری پر آنچ نہیں آنے دیں گے کہ پروانگی اس کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی کہ اس میں شمع پر جل مرنے کا جذبہ کامل موجود ہو ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس ، مذہبی تنظیمیں ، جماعتیں اور علماء ومشائخ اپنی اصلاحی سرگرمیوں کو مساجد ، مدارس اور خانقاہوں سے باہر لے کر جائیں ، خود اُمت کے دروازوں تک پہنچیں ،  ملت کے دلوں پر دستک لگائیں اور ان کے ایمان و اعمال کی حفاظت کو اپنی ضرورت سمجھیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK