Updated: May 11, 2026, 8:12 PM IST
| Washington/Tehran
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، تہران کے جواب میں جنگ کے فوری خاتمے، دوبارہ حملوں کے خلاف ضمانت، ۳۰ دنوں کے اندر ایرانی تیل کی فروخت پر ’آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول‘ (او ایف اے سی) کی پابندیاں ہٹانے اور ابتدائی معاہدے پر دستخط کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں کی بیک وقت رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کیلئے پیش کی گئی تازہ ترین امریکی تجویز پر ایران کے جواب کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے تہران کے جواب کو ”مکمل طور پر ناقابلِ قبول“ قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ”میں نے ابھی ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا۔۔۔ مکمل طور پر ناقابلِ قبول!“
ٹرمپ کا یہ ردعمل ایرانی سرکاری میڈیا کی اس رپورٹ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ تہران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنا جواب باضابطہ طور پر پہنچا دیا ہے۔ اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (آئی آر این اے IRNA) نے رپورٹ کیا کہ ”جنگ کے خاتمے کیلئے تازہ ترین امریکی تجویز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا جواب آج پاکستانی ثالث کو بھیج دیا گیا ہے۔“
ایران کے سرکاری براڈکاسٹر ’اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ‘ (آئی آر آئی بی IRIB) نے کہا کہ تہران کا جواب اس جنگ کے خاتمے پر مرکوز تھا جسے اس نے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تمام محاذوں، بالخصوص لبنان پر مسلط کردہ جنگ قرار دیا۔ ایران نے بحری سلامتی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، جوہری مقام کے قریب آنے والوں کو’تباہ‘ کرنے کا انتباہ
ٹرمپ کے ردِعمل سے ’فرق نہیں پڑتا‘: تہران
ایران نے بعد میں اپنے جواب کو ٹرمپ کی جانب سے مسترد کئے جانے کو ’غیر اہم‘ قرار دیا۔ ’تسنیم نیوز ایجنسی‘ کے حوالے سے ذرائع نے کہا کہ ”ایران میں کوئی بھی ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے تجاویز نہیں لکھتا۔“ ذرائع نے مزید کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ”صرف ایرانی عوام کے حقوق کی بنیاد پر“ تجاویز تیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر ٹرمپ اس تجویز سے غیر مطمئن تھے تو یہ قدرتی طور پر بہتر ہے۔“
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، تہران کے جواب میں جنگ کے فوری خاتمے، دوبارہ حملوں کے خلاف ضمانت، ۳۰ دنوں کے اندر تیل کی فروخت پر ’آفس آف فارین ایسٹس کنٹرول‘ (او ایف اے سی) کی پابندیاں ہٹانے اور ابتدائی معاہدے پر دستخط کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں کی بیک وقت رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر بھی اصرار کیا اور امریکی بحری ناکہ بندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اس تبادلے کے بعد ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ حساس فون کال کی جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل پر مکمل کنٹرول پرغور
”جنگ ختم نہیں ہوئی“: نیتن یاہو
اتوار کو نشر ہونے والے سی بی ایس نیوز (CBS News) کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ”ختم نہیں ہوئی“ کیونکہ تہران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ”ایران کے پاس اب بھی جوہری مواد، افزودہ یورینیم موجود ہے جسے وہاں سے نکالنا ہو گا۔“ انہوں نے کہا کہ امریکہ-اسرائیل مہم کا مقصد ایران کے افزودگی کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنا اور تہران کو میزائل اور پراکسی نیٹ ورکس دوبارہ بنانے سے روکنا ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل بالآخر ۸ء۳ بلین ڈالر کی سالانہ امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے اور اگلے عشرے کے دوران ”امداد سے شراکت داری“ کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہے۔