رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے کا موقع پاتا ہے۔ یہ صرف دنوں کا ایک سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسا موسم ہے جس میں دلوں کے دروازے کھلتے ہیں اور اندر کی دنیا کو سنوارنے کا سامان مہیا ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 10:18 AM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے کا موقع پاتا ہے۔ یہ صرف دنوں کا ایک سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسا موسم ہے جس میں دلوں کے دروازے کھلتے ہیں اور اندر کی دنیا کو سنوارنے کا سامان مہیا ہوتا ہے۔
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے کا موقع پاتا ہے۔ یہ صرف دنوں کا ایک سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسا موسم ہے جس میں دلوں کے دروازے کھلتے ہیں اور اندر کی دنیا کو سنوارنے کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور نرمی پیدا ہو جاتی ہے، جیسے کسی بکھرے ہوئے گھر کو اچانک ترتیب دینے کا موقع مل گیا ہو۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ تنہا نہیں، بلکہ ایک وسیع رحمت کے حصار میں ہے جو اسے اپنی طرف بلا رہی ہے۔ اسی لئے اس مہینے میں عبادت بوجھ نہیں لگتی، بلکہ دل خود اس کی طرف آمادہ رہتا ہے۔
یہ جھکاؤ محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک گہرا تقاضا ہے۔ جب ماحول سازگار ہو جائے تو بیج جلد پھوٹتا ہے؛ اسی طرح جب دل پر دنیا کی گرد کچھ کم ہو جائے تو خیر کے بیج تیزی سے نمو پاتے ہیں۔ اسی لئے اس مہینے میں نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، گویا انسان کی تھوڑی سی محنت کو بھی بڑی قدر سے نوازا جاتا ہے۔ یہ اضافہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اصل مقصد انسان کو تھکانا نہیں بلکہ اٹھانا ہے، اسے اس کی بہتر صورت سے روشناس کرانا ہے۔ لیکن یہی حقیقت ایک اور پہلو بھی رکھتی ہے: جب روشنی تیز ہو تو سایہ بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔
چنانچہ جس مہینے میں نیکی کی قدر بڑھتی ہے، اسی میں بدی کی سنگینی بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص روشن دن میں آنکھیں بند کر لے تو اندھیرا اس کا اپنا انتخاب ہوتا ہے۔ رمضان میں گناہ صرف ایک خلاف ورزی نہیں رہتا بلکہ ایک موقع کے ضیاع کی علامت بن جاتا ہے۔ یہی پس منظر ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ان اُمور سے بچا جائے جو انسان کو اس بابرکت فضا سے کاٹ دیتے ہیں۔ قرآن نے بارہا ایسے مشاغل سے روکا ہے جو دل کو منتشر کریں اور مقصد سے ہٹا دیں۔ لہو و لعب اور لغویات کا مفہوم صرف کھیل تماشہ نہیں، بلکہ ہر وہ سرگرمی ہے جو انسان کو اس کی اصل ذمہ داری سے غافل کر دے۔ اگر کوئی چیز دل کو ذکر سے دور کر دے، فرائض کو مؤخر کر دے، یا نیکی کی رغبت کو کمزور کر دے تو وہ بظاہر مباح ہی کیوں نہ ہو، اپنے اثر کے اعتبار سے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۹): یہ بندۂ خدا کی عنایت ہے، مت پوچھو بندۂ خدا کون ہے
رمضان ہمیں صرف عبادت کی دعوت نہیں دیتا بلکہ ترجیحات کی درستگی سکھاتا ہے۔ یہ مہینہ انسان کے اندر ایک پیمانہ قائم کرتا ہے جس سے وہ اپنے اعمال کو تول سکے: کیا یہ عمل مجھے اوپر اٹھا رہا ہے یا نیچے کھینچ رہا ہے؟ کیا یہ دل کو روشن کر رہا ہے یا اسے بوجھل بنا رہا ہے؟ جب انسان یہ سوال خود سے پوچھنے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک بیداری جنم لیتی ہے۔اگر ہم اس مہینے کو محض رسم بنا دیں تو یہ وقت گزر جائے گا اور ہم وہی رہ جائیں گے جہاں پہلے تھے۔ لیکن اگر ہم اسے اپنے باطن کی اصلاح کا موقع سمجھ لیں تو یہی دن ہماری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ رحمت کے دروازے کھلے ہیں، فضا سازگار ہے، اجر بڑھا دیا گیا ہے؛ اب سوال یہ ہے کہ ہم اس موسم سے کیا حاصل کرتے ہیں۔ رمضان ہمیں مجبور نہیں کرتا، وہ ہمیں جگاتا ہے اور جو جاگ جائے، اس کیلئے تبدیلی ناممکن نہیں رہتی۔
یہ بھی پڑھئے: حقیقت ضرار، باغ والوں کا زعم اور نتیجہ، فرعون کا نشان عبرت بننا اور دُعائے یونسؑ
جب ہم نے یہ سمجھ لیا کہ رمضان انسان کے باطن کو سنوارنے اور ترجیحات کو درست کرنے کا مہینہ ہے، تو پھر ہر وہ سرگرمی جو اس ترتیب کو بگاڑے، خود بخود سوال کے دائرہ میں آ جاتی ہے۔ مسئلہ کسی کھیل یا تفریح کا نہیں، مسئلہ اس غلبے کا ہے جو مقصد کو پسِ پشت ڈال دے۔ اگر اس ماہِ مقدس و مبارک میں جاری ٹی ۲۰ ؍ عالمی کرکٹ مقابلہ نوجوانوں کے دل و دماغ پر اس قدر چھا جائے کہ عبادت ثانوی اور اسکور بنیادی بن جائے، تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ترجیح کس نے بدل دی؟ کھیل اپنی جگہ ایک جائز مشغلہ ہو سکتا ہے، مگر جب وہ عبادت کے وقت میں در آئے تو پھر وہ مشغلہ نہیں رہتا، مداخلت بن جاتا ہے۔
اسی طرح شب بیداری کا تصور بھی ہمارے ہاں عجیب صورت اختیار کر گیا ہے۔ رات جاگنے کو ہی مقصد سمجھ لیا گیا ہے، چاہے وہ جاگنا موبائل کی اسکرین کے سامنے ہو، ریلز کے لامتناہی سلسلے میں گم ہو کر ہو، یا سوشل میڈیا کی دنیا میں کھو کر ہو۔ حالانکہ رات کی خاموشی اس لئے قیمتی ہے کہ اس میں انسان کا دل کم منتشر ہوتا ہے اور وہ اپنے رب سے قریب ہو سکتا ہے۔ اگر رات جاگ کر بھی دل منتشر رہے، تو یہ جاگنا نیند سے بھی زیادہ غفلت بن جاتا ہے۔ شب بیداری دراصل کیفیت کا نام ہے، صرف وقت کا نہیں۔ یہ اس لمحے کا نام ہے جب انسان اپنے شور سے نکل کر سکوت میں داخل ہو، جب زبان تلاوت میں مشغول ہو، دل ذکر میں ڈوبا ہو، اور پیشانی سجدے میں جھکی ہو۔ نوافل میں کھڑا ہونا صرف جسمانی عمل نہیں بلکہ یہ اعلان ہے کہ انسان نے اپنی خواہشات کو پیچھے اور اپنے رب کو آگے کر دیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو رات کو عام رات سے ممتاز کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مدارس کو زکوٰۃ اس لئے دی جائے!
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کھیل دیکھتے ہیں یا موبائل استعمال کرتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے رمضان کو اس کے مقام پر رکھا ہے یا نہیں۔ اگر اس مہینے کی حرمت ہمارے دل میں زندہ ہو تو ہماری مصروفیات خود بخود ترتیب پا لیں گی لیکن اگر دل ہی غافل ہو جائے تو پھر، گستاخی معاف، مسجد بھی اسکور بورڈ بن سکتی ہے اور رات بھی محض اسکرین کی روشنی میں گزر سکتی ہے۔ رمضان ہمیں ضبط سکھانے آیا ہے،اگر ہم نے ضبط سیکھ لیا اور اس کو قبول کر لیا تو یہی مہینہ ہمیں اوپر اٹھا دے گا، اور اگر ہم نے غفلت کی، اسے نظرانداز کر دیا تو یہی مہینہ ہمارے ضائع شدہ مواقع کی گواہی بن جائے گا۔