اُس دن پھلوں کے تھال میں چکن پلاؤ کی ایک چھوٹی پلیٹ بھی تھی۔ میں نے جعفربھائی سے پوچھا کہ یہ پلاؤ کس کی عنایت ہے؟ جعفر ھائی نے کہا: ’’یہ بندۂ خدا کی طرف سے ہے۔ نام بتا کر میں اس کے ثواب کو ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔‘‘
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 10:12 AM IST | Abdul Kareem Qasim Shaikh | Mumbai
اُس دن پھلوں کے تھال میں چکن پلاؤ کی ایک چھوٹی پلیٹ بھی تھی۔ میں نے جعفربھائی سے پوچھا کہ یہ پلاؤ کس کی عنایت ہے؟ جعفر ھائی نے کہا: ’’یہ بندۂ خدا کی طرف سے ہے۔ نام بتا کر میں اس کے ثواب کو ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔‘‘
ماہ ِصیام میں صرف مسلمانوں کے چہروں پر ہی نہیں بلکہ ہر جگہ رونق اور چمک نظرآرہی ہے۔ مسجدوں پر برقی قمقمے جگمگا رہے ہیں تو ان میں نمازیوں کی کثیر تعداد دیکھ کر بھی خوشی ہورہی ہے۔ ایسے میں دل سے دُعا نکلتی ہے کہ یہ تعداد سال کے بارہ ماہ یوں ہی برقرار رہے (آمین)۔ رمضان اسپیشل صفحہ کے اس گوشہ میں ممبئی اور اطراف کے علاقوں میں ہونےوالی سرگرمی کی اطلاع ملتی ہے کہ کس علاقے میں رمضان کا اہتمام کس طرح کیا جارہا ہے اورمختلف افراد کے تاثرات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اسی گوشہ کو پڑھتے ہوئے ہمارے ’چچا ڈائری‘ یعنی عبدالحئی انصاری بھائی (مرحوم)کی بھی یادتازہ ہوجاتی ہے۔اپنی سبکدوشی تک وہ تواتر کے ساتھ رمضان ڈائری پر اپنا روزِ قلم آزماتے رہے اور قارئین کو محظوظ کرتے۔ اللہ عزوجل عبدالحئی بھائی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ ان کی ڈائری کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی انقلاب کا ہررکن ڈائری لکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حقیقت ضرار، باغ والوں کا زعم اور نتیجہ، فرعون کا نشان عبرت بننا اور دُعائے یونسؑ
مرحوم عبدالحئی بھائی کبھی سحری تو کبھی افطار کے وقت ممبئی اور اطراف کے علاقوں میں رونما ہونےو الی رمضان کی سرگرمیوں کا بغور مشاہدہ کرتے اور پھر اپنا مشاہدہ نہایت دلچسپ انداز میں بیان کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم اسی جگہ موجود ہوں۔ ہم صرف ان کی طرح لکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ وہی کوشش آج ان سطور کے قلمبند کرتے وقت بھی جاری ہے۔
میں جس علاقے میں رہائش پزیرہوں وہ سائن اور ماٹونگا کے درمیان واقع ہے جہاں برادران ِ وطن کی اکثریت ہے۔ یہاں رمضان کی اطلاع ہوجاتی ہے لیکن رونقیں ایسی نہیں ہوتیں جس طرح ممبئی کے مسلم علاقوں میں نظرآتی ہیں ۔ ہاں جمعہ کی نماز اور افطار کے وقت معلوم ہوتاہے کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جاری ہے کیوں کہ ٹوپی پہنے افراد نظرآنے لگتے ہیں۔ اکثریت برادرانِ وطن کی ہونے کی وجہ سے ان کے جذبات کا بھی خیال رکھنا پڑتاہے جس کی وجہ سے گوشت کے پکوان سے ہماری زبان محروم رہتی ہے۔ حالانکہ اس محرومی کو دور کرنے کیلئے بہت سے لوگ محمدعلی روڈ، بائیکلہ ، سیوڑی اور دھاراوی کا رخ کرتے ہیں۔ معافی کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے ایک عزیز ابراہیم شیخ کا شمار چٹوروں میں ہوتاہے۔ اکثروہ محمد علی روڈ یا بوہری محلے سے افطار کی ’’نان ویج‘‘اشیاء لے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ’’ رمضان میں اگر افطار کی تھال چکن کٹلیٹ، پیٹس، قیمے کا سموسہ، چکن ساٹھے اور ملائی کباب سے مزین نہ ہوتو رمضان کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اسی لئے تو مَیں گوشت کے پکوان لانے کیلئے جنوبی ممبئی کارخ کرتاہوں۔‘‘اُن کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے یہ کوئی دینی خدمت ہو!
یہ بھی پڑھئے: مدارس کو زکوٰۃ اس لئے دی جائے!
رمضان میں ہمارے یہاں مسافروں کیلئے افطار کا انتظام کیا جاتاہے۔ ایک سابقہ ڈائری میں، میں نے اس کی تیاری کرنے والے ۲؍ بھائیوں علیم الدین اور عظیم الدین شیخ کا ذکر کیا تھا۔ تعطیل کے روز مَیں اکثر افطار کی تیار ی کے وقت موجود ہوتا ہوں۔ علیم الدین پھل کاٹ کر تھال سجاتے ہیں تو ان کے بڑے بھائی عظیم شربت بناتے ہیں۔ اس دن افطار کا وقت قریب آ گیا تھا اسلئے عظیم الدین نے پھل کاٹنے میں مدد کی لیکن علیم الدین کو اُن کا پھل کاٹنا پسند نہیں آیا اوروہ فوراً کہہ اٹھے کہ ’’بھائی ، اگر مدد کرنی ہے تو جلد بازی میں غلط نہ کاٹو ورنہ پھلوں کا نقصان ہوجائے گا۔ ‘‘ اس پر عظیم الدین نے نہایت فرماں برداری کا ثبوت دیا اور چھری ایک طرف رکھ دی۔
اکثر ہمارے محلےکی مسجد کی افطاری میں پھل کی کثرت ہوتی ہے لیکن اس دن پھلوں کے تھال میں چکن پلاؤ کی ایک چھوٹی پلیٹ بھی نظر آئی۔ میں نے جعفربھائی سے دریافت کیا کہ بھائی یہ پلاؤ کس کی عنایت ہے؟ جعفربھائی نے کہا: ’’ یہ بندۂ خدا کی طرف سے ہے اور اس کا نام لے کر میں اس کے ثواب کو ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔‘‘ جعفر بھائی کا بھی جواب نہیں۔ بندۂ خدا کو جانتے ہیں مجھے ہی بتانا نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھئے: روزہ متنوع قسم کے اعمال کا مجموعہ ہے
جب سے فرقہ وارانہ حالات بدلے ہیں، ہمارے علاقے میں مذہبی ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے۔ محلے کی مسجد چھوٹی ہونے سے نمازیوں کی بڑی تعداد باہر نماز پڑھنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ یہ مسجد اندر کی طرف ہے اورباہر نماز پڑھنے سے کسی کو دقت نہیں ہوتی مگر پولیس اسٹیشن میں شکایت ہوئی اور اب ہر جمعہ کو پولیس وین کھڑی ہوجاتی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو بھی ایسا ہی ہوا تو ہمارے شناسا نے طنزاً کہا: دیکھو، نماز سے پہلے بے نمازی آگئے۔ جملے میں کاٹ تھی مگر غور کیجئے ہم میں بھی کتنے بے نمازی جمعہ ہی کو مسجد آتے ہیں!