• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدارس کو زکوٰۃ اس لئے دی جائے!

Updated: February 27, 2026, 9:38 AM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

انگریزوں کو اصل پر خاش مسلمانوں سے تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے ایمان کا سودا کریں، اس پس منظر میں بالغ نظر اور دردمند علماء نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی تدبیر کرنی چاہئے چنانچہ انہوں نے طے کیاکہ ہندوستان کے گوشے گوشے میں دینی درس گاہوں کا جال بچھا دیا جائے ۔

A large number of children in madrassas belong to poor families. Photo: INN
مدارس میں ایک بہت بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

آج  کل دینی مدارس کو زکوٰۃ دینے کے سلسلہ میں مختلف جہتوں سے بحث کی جارہی ہے۔ بعض حضرات کی رائے ہے کہ مصارف ِ زکوٰۃ میں مدارس کا ذکر تو نہیں ہے؟ اس لئے مدارس کو زکوٰۃ نہیں دینی چاہئے۔ بعض ذمہ دارانِ مدارس وہ بھی ہیں جو بذاتِ خود مدارس کو مصرف ِ زکوٰۃ سمجھتے ہیں  اور جو رقم موصول ہوتی ہے اس کو مدرسے کے ہر کام میں خرچ کرتے ہیں۔ اس لئے اس سلسلہ میں ایک متوازن طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زکوٰۃ کے  مصارف متعین هیں، مدارس اپنی ذات کے اعتبار سے زکوٰۃ کے مستحق نہیں هہیں؛ لیکن بالواسطہ  ضرور ہیںکیونکہ وہ مستحقین ِ زکوٰۃ کے وکیل ہیںاور ان کی کفالت کرتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدارس جن لوگوں پر خرچ کرتے ہیں وہ شرعاً زکوٰۃ کے اولین مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیا آپ راہِ خدا میں خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں؟

اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے دو باتیں پیش نظر رکھنی ضروری ہیں : اول یہ کہ زکوٰۃ کا مقصد کیا ہے ؟ اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں کیا رعایت ملحوظ ہے ؟ دوسرے کیا یہ مقصد دینی مدارس کو زکوٰۃ ادا کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے ؟ واضح رہے کہ قرآن مجید نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ذکر کئے ہیں، فقیر، مسکین یعنی غریب اور بہت زیادہ غریب، عاملین یعنی زکوٰۃ کی جمع و تقسیم کا کام انجام دینے والے لوگ، مؤلفۃ القلوب یعنی وہ نومسلم جن کو اسلام پر استقامت کے لئے یا وہ غیر مسلم جن کو اسلام کی ترغیب کے لئے کچھ دیا جائے، غلام، مقروض،  اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور مسافر۔ (التو بۃ:  ۶۰ ) 

ان مصارفِ زکوٰۃ پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے بنیادی طورپر دو مقاصد ہیں: غربا کی حاجت پوری کرنا، اسلام کی بلندی اور اس کی دعوت و اشاعت اور حفاظت و صیانت کے نظام کو تقویت پہنچانا ۔ 

مصرف زکوٰۃ کی روح کو سامنے رکھ کر دینی مدارس کے نظام اور اس کے کردار پر غور کیجئے… دینی مدارس کی حیثیت عام درس گاہوں کی نہیں ہے۔عام درس گاہوں کا مقصد بچوں کو ایسی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے جو آئندہ ان کو ملازمت دلائے اور زیادہ سے زیادہ کمانے کے لائق بنائے، جس تعلیم سے جس قدر مستقبل کی معاشی فلاح و بہبود متعلق ہے، وہ اسی قدر لوگوں کے لئے مرکز توجہ بھی ہے اور گراں بھی؛ بلکہ سرکاری تعلیم گاہوں کی زبوں حالی اور بے سروسامانی نے اب تعلیم کو ایک نہایت ہی نفع بخش اور نفع رساں تجارت بنا دیا ہے؛ لیکن دینی مدارس کی حیثیت اس سے مختلف ہے ، خاص کر ہندوستان میں اس کا ایک خاص پس منظر ہے ۔ 

یہ بھی پڑھئے: روزہ متنوع قسم کے اعمال کا مجموعہ ہے

مسلم دورِ حکومت تک وہ علوم جن کو آج ’’ جدید علوم ‘‘ کہا جاتا ہے ، اس قدر شاخ درشاخ نہ ہوتے تھے ، جیساکہ آج ہم دیکھ رہے ہیں ، بعض فنون مدون ہوچکے تھے؛ لیکن ان پر ایک آدھ کتابوں کی تدریس کے ساتھ تجربہ کافی سمجھا جاتا تھا، بعض فنون مدون بھی نہ ہوئے تھے اور ان کے تجربات سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے آئے تھے، جیسے مختلف شعبوں کی انجینئرنگ اور زراعت وغیرہ، اس کیلئے حکومت کی طرف سے عمومی نوعیت کی درس گاہیں ہوتی تھیں،  ان میں زبان ، مذہب ، اخلاق اور طب وغیرہ کی تعلیم مشترک طورپر ہوتی تھی اور مختلف قوموں کے لوگ مل جل کر تعلیم حاصل کیا کرتے تھے ۔ 

جب ہندوستان سے مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہونے لگا اور انگریز نہایت چالبازی کے ساتھ اپنے قدم بڑھانے لگے ، تو انہوں نے سونے کی اس چڑیا کے بال و پر نوچنے کو کافی نہ سمجھا ؛ بلکہ ہندوستان کو مستقل طورپر اپنے زیر اثر رکھنے کی غرض سے رعایا کی فکر و  نظر میں تبدیلی کو بھی ضروری سمجھا اور اس کے لئے چہاررخی تدبیریں کیں، چونکہ  ان کو زیادہ خطرہ مسلمانوں سے تھا جو اُن کے پہلے اقتدار میں تھے، اس لئے انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو اور خاص کر مسلمانوں کو اپنی فکری یورشوں کا نشانہ بنایا اور اسلام کے خلاف بے سروپا اعتراضات اور خلاف واقعہ شکوک و شبہات پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ ہندوستانیوں کی نئی نسل اپنے مذہب کے بارے میں غیر مطمئن اور بدگمان ہوجائے۔

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں مالِ غنیمت، غزوۂ بدر اور پھر زکوٰۃ کے مصارف کی بابت سنئے!

  انگریزوں کو اصل پُرخاش مسلمانوں سے تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کے ایمان کا سودا کریں ، اس پس منظر میں بالغ نظر اور دردمند علماء نے محسوس کیا کہ سیاسی اقتدار تو اب رُخصت ہونے کو ہے، کسی طرح مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی تدبیر کرنی چاہئے؛  چنانچہ انہوں نے طے کیاکہ ہندوستان کے گوشے گوشے میں دینی درس گاہوں کا جال بچھا دیا جائے اور ایک ایسی نسل کو وجود بخشا جائے جومادی منافع کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنی دنیا کو قربان کرکے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت پر کمربستہ رہے، فاقہ مستی اسے گوارہ ہو، معمولی کھانا اور معمولی پہننے پر وہ قناعت کرسکے اورخس پوش جھونپڑیوں میں چٹائیوں پر بیٹھ کر اپنے آپ کو خدا کے دین کی حفاظت اور سربلندی کے لئے وقف رکھے ۔ چنانچہ اس منصوبہ کے تحت پورے ملک میں مدارس و مکاتب کا قیام عمل میں آیا اورایک ایسے تعلیمی نظام کی تشکیل کی گئی جو اپنے اخراجات میں حکومت کا محتاج نہ ہو؛ بلکہ اگر حکومت مدد کرنا بھی چاہے تو اسے قبول نہ کیا جائے اور ہر طرح سرکاری مداخلت سے آزاد رہ کر یہاں سے دین کی حفاظت و اشاعت کے جذبہ سے سرشار اور ایثار و قربانی سے سرمست بادہ خواروں کی ایک بہت بڑی تعداد پیدا کی جائے؛ چنانچہ بالغ نظر اور دردمند علماء  پنی اس کوشش میں کامیاب رہے ۔

گزشتہ ڈیڑھ دو سو سال میں اسلام کے خلاف اس ملک میں جتنی یورشیں ہوئی ہیں، ان کا مقابلہ انہی بے نوا فقیروں اور ناسمجھ مسلمانوں کی تنقیدوں کا ہدف بننے والے مولویوں کا کارنامہ ہے۔ 

سیاسی قائدین نے سیاسی فائدے اُٹھائے اور موقع و حال کے مطابق اپنے ضمیر کی تجارت بھی کی، دانشور کہلانے والے حکومت کے اونچے عہدوں پر فائز المرام لوگ اعلیٰ تنخواہیں وصول کرتے رہے اور جہاں حکومت نے ضرورت محسوس کی ان کی زبان سے اپنی باتیں کہلوائیں اور انہوں نے بھی بے تکلف حق نمک ادا کیا؛ لیکن یہی دینی مدارس ہیں، جنہوں نے مادی نقصان کے باوجود اپنے کاز اور مقصد پر استقامت کی راہ اختیار کی اور اس سے انحراف نہیں کیا ۔ 

یہ بھی پڑھئے: زکوٰۃ کا مقصد صرف وقتی مددکرنا نہیں بلکہ ایمان کی مضبوطی اور معاشرتی بہتری ہے

مذہبی غیرت و حمیت اور اسلامی شعار کا احترام و اہتمام جس قدر اس خطہ میں پایا جاتا ہے اکثر مسلم ممالک بھی اس میں ان کی ہمسری نہیں کرسکتے اسلئے بلاخوف تردید اور بغیر کسی طرفداری کے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس وقت اسلام کی حفاظت و بقاء، اس کی دعوت و اشاعت اور اس کی سربلندی کا سب سے بڑا ذریعہ یہی مدارس ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان مدارس میں ایک بہت بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں نیزان مدارس میں ایک بہت بڑا حصہ معاشی اعتبار سے کمزور ہوتا ہے، پس ان مدارس کو زکوٰۃ ادا کرنے میں زکوٰۃ کے دونوں مقاصد کی بیک وقت تکمیل ہوتی ہے، غرباء کی ضرورت بھی پوری ہوتی ہے اور اسلام کی سربلندی کے مقصد میں بھی مدد ملتی ہے ۔ 

اس لئے ہمارے فقہاء نے خوب سوچ سمجھ کر ضرورت مند علماء اور علم دین حاصل کرنے میں مشغول طلبہ کو زکوٰۃ ادا کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس کو زیادہ باعث فضیلت بتایا ہے۔ مشہور محدث امام عبداﷲ بن مبارکؒ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی اعانتیں علماء ہی پر خرچ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مقام نبوت کے بعد علماء سے بڑھ کر کوئی بلند مرتبہ نہیں۔  (الاتحاف : ۴ ؍ ۴۱۷ ) مشہور فقیہ علامہ حصکفیؒ نے لکھا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو علم کیلئے فارغ کرلے اس کے لئے زکوٰۃ لینا جائز ہے؛ کیونکہ وہ دوسرے ذرائع معاش اختیار نہیں کرسکتا۔ (درمختار مع الرد : ۶؍ ۲۸۵ )

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں اُن تین سو تیرہ مسلمانوں کا ذکر ہےجو فتح و ظفر سے ہمکنار ہوئے

اور یہ کچھ فقہاء کی طبع زادبات نہیں ؛ بلکہ خود قرآن مجید سے ماخوذ ہے ، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

’’( صدقات میں ) ان فقراءکا حق ہے جو اﷲ کی راہ میں (کسب ِ معاش سے) روک دیئے گئے ہیں وہ (امورِ دین میں ہمہ وقت مشغول رہنے کے باعث) زمین میں چل پھر بھی نہیں سکتے ان کے (زُھداً) طمع سے باز رہنے کے باعث نادان   انہیں مالدار سمجھے ہوئے ہے، تم انہیں ان کی صورت سے پہچان لو گے، وہ لوگوں سے بالکل سوال ہی نہیں کرتے کہ کہیں (مخلوق کے سامنے) گڑگڑانا نہ پڑے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو تو بے شک  اﷲ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۷۳)

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جو محتاج اور ضرورتمند حضرات دین کے کام کی وجہ سے کسب ِ معاش میں مستقل طورپر لگنے کے موقف میں نہ ہوں، وہ صدقات اور اعانتوں کے زیادہ مستحق ہیں، اسی لئے اکابر مفسرین کا رجحان یہی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت اس سے اشارہ اصحابِ صفہ کی طرف تھا۔ (تفسیر کبیر : ۳؍ ۶۳۶ ، تفسیر قرطبی : ۳؍ ۳۴۰ ) بلکہ خود رسول اﷲ ﷺ  کے زمانہ سے یہ طریقہ مروج تھا کہ اہل ثروت صحابہ ؓاپنے صدقات کی کھجور اصحاب ِصفہ کیلئے پیش کیا کرتے تھے اور حضورؐ کی طرف سے ان کو اس کی ہدایت ہوتی تھی۔ اس لئے یوں تو تمام محتاج و ضرورت مند مسلمانوں کی زکوٰۃ سے مدد کرنی چاہئے لیکن دینی مدارس کا خصوصی استحقاق قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی، سلف صالحین کے عمل سے بھی اور یہ زیادہ مکمل طریقہ پر مقاصد زکوٰۃ کو پورا کرتا ہے اور ملک کے موجودہ حالات میں اسلام کی بقاء اور تحفظ کیلئے یہ کافی مؤثر ذریعہ اور طاقتور وسیلہ ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK