آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ہوتی، نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے، اور اُلّو (کوئی منحوس چیز نہیں ہے) اور نہ ہی ماہِ صفر (میں کوئی نحوست ہے)۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 3:20 PM IST | Mumbai
آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ہوتی، نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے، اور اُلّو (کوئی منحوس چیز نہیں ہے) اور نہ ہی ماہِ صفر (میں کوئی نحوست ہے)۔
یقیناً تمام تعریفیں اللہ عز وجل کے لئے ہیں ، اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کر سکتا، اور اس کے حکم پر تعاقب نہیں کر سکتا، اور ہر چیز اسی کے قضا و قدر کی مرہون ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں ، اور اس کا ربوبیت، الوہیت ، اور اسماء و صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں، یا اللہ! آپؐ پر، آپؐ کی آل، اور صحابہ کرامؓ پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔ معزز سامعین، وحی کے مطابق عقیدہ توحید کے اصولوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ہر قسم کے خرافات سے خبردار کیا جائے، اور ہر قسم کی گمراہی سے متنبہ کیا جائے۔
بد شگونی زمانہ قدیم سے لے کر آج تک کچھ لوگوں میں پائی جانے والی خرافات میں سے ایک ہے، اسی طرح کوئی نظر آنے والی چیز یا سنا جانے والا لفظ طبیعت کو ناگوار گزرے یا موروثی طور پر کسی چیز کو ناپسند کیا جائے؛ ان چیزوں کے بارے میں بد شگونی لینا بھی انہی خرافات میں شامل ہے، مثلاً: ماہِ صفر میں کسی خاص پرندے یا لفظ کو دیکھنے یا سننے کو بدشگونی سے منسلک کرنا۔ چنانچہ کچھ لوگ اسی بد شگونی کی وجہ سے اپنے عزائم کو ختم کر دیتے ہیں اور اپنے مقاصد سے ہٹ جاتے ہیں۔ اس قسم کی باطل بدفالی اور وہم و بد شگونی پر مشتمل نظریات اسلام کی نظر میں کم عقلی اور کھوکھلے پن کی عکاسی کرتے ہیں، اور صحیح عقیدہ کے منافی ہیں؛ جو کہ خالق، قادر، مختار کل ، نفع و نقصان کے مالک اللہ کی ذات پر توکل کا نام ہے، کیونکہ تقدیر میں لکھے گئے اسبابِ کونیہ کے مطابق کوئی بھی کام اللہ کے ارادے، قدرت، اور اجازت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی لئے شرعی نصوص نے غلط نظریات سے خبردار کیا، اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا، تا کہ توحید کا عقیدہ صحیح سلامت باقی رہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام نے کم سنی کے نکاح کی ترغیب نہیں دی، لیکن مصلحتوں کی گنجائش بھی رکھی ہے
آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ہوتی، نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے، اور اُلّو (کوئی منحوس چیز نہیں ہے) اور نہ ہی ماہِ صفر (میں کوئی نحوست ہے)۔( بخاری و مسلم) اس حدیث مبارکہ کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ ان اشیاء کی بذاتہ خود کوئی تاثیر نہیں ہے، اور کسی بھی مسلمان کو ان کے بارے میں غلط نظریات بنانے کی اجازت نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے بارے میں توجہ کرنی چاہئے، چنانچہ ایک مؤمن پر یہ واجب ہے کہ وہ ان باطل امور اور غلط تصورات کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے، اور اپنی راہ اور سِمت سے ذرا بھی نہ ہٹے، اور اپنے عزائم کی تکمیل ، اور ضرورت و حاجت کو مکمل کر کے ہی دم لے، کیونکہ بد شگونی ایسا شرک ہے جو کہ عقیدۂ توحید کی کم ترین سطح کے بھی منافی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ :’’بدشگونی شرک ہے، بد شگونی شرک ہے۔‘‘
اگر بد شگونی لینے والے نے یہ نظریہ رکھا کہ بد شگونی والی چیز اختیار الٰہی کے بغیر بذاتہ خود نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، تو یہ -اللہ کی پناہ-شرک اکبر ہے، کیونکہ یہ نظریہ اس چیز کو تخلیق و ایجاد میں اللہ کے ساتھ شریک بنا رہا ہے۔
بدشگونی لینے والوں کی یہ بھی صورت ہے کہ: انسان کسی چیز سے بد شگونی لینے کے بعد اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے آگے بڑھے، لیکن اس کے ذہن پر گھبراہٹ، فکر اور خوف سوار ہو، اور بدشگونی والی چیز سے ایذا رسانی کا خدشہ دماغ میں رکھے، ایسی سوچ رکھنا شرک اور عقیدۂ توحید اور اللہ پر اعتماد میں کمی کی علامت ہے۔ اور جس کسی کے دل میں بدشگونی آئے تو اس سے بچے، اور اس بدشگونی والی رکاوٹ سے رو گردانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بھر پور بھروسہ و اعتماد کرے۔
اور جو شخص شیطان کے بہکاوے میں آکر بد شگونی میں پڑ جائے، اور جس کام کی نیت سے چلا تھا اُسے چھوڑ دے، تو بسا اوقات کم ترین سطح سے بھی نچلے درجے کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے سزا کے طور پر اس کے [بدشگونی والے]خدشات کو حقیقت میں بدل دیا جاتا ہے؛ کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر سچا توکل اور بھرپور بھروسہ ، یعنی جتنا بھروسہ کرنا چاہئے اُتنا، نہیں کیا۔
چنانچہ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! واجبات میں خلل پیدا کرنے والے اوہام سے بچو، رب ارض و سما کے بارے میں عقیدۂ توحید سے متصادم نظریات سے دور رہو، کیونکہ سب معاملات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اس کے فیصلوں کو کوئی بدل نہیں سکتا، اور اس کے فضل کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
حضرت فضیل ؒ کہتے ہیں: ’’اگر تمہارے دل میں مخلوق پر اعتماد کی کوئی جگہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ جو چاہو گے تمہیں عطا فرما دے گا۔‘‘ ہر مسلمان کیلئے اپنے دل کو صرف ایک اللہ کے ساتھ جوڑنا واجب ہے، اسے چاہئے کہ اللہ پر اپنے اعتماد کو بڑھاتا رہے، مشکل کشائی اور حاجت روائی کیلئے اللہ تعالی سے گڑگڑا کر مانگے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں! انسان کا جتنا وقت اللہ کی اطاعت میں گزرے تو وہ اس کے لئے وقت ِ با برکت ہے، اور جتنا وقت اللہ کی نافرمانی میں گزرے وہ اس کے اور پورے معاشرے کیلئے وقت ِ نحوست ہے۔ چنانچہ ابن رجب ؒ کے مطابق نحوست گناہوں اور نافرمانیوں کا ہی دوسرا نام ہے، کیونکہ ان سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے، اور جس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ناراض ہو تو اللہ کی ناراضگی کے سبب انسان دنیا و آخرت میں منحوس بن جاتا ہے۔
اسی طرح گناہگار اپنے اور دوسروں کیلئے نحوست کا باعث ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اگر اس پر عذاب نازل ہو تو دیگر لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے، خصوصاً ایسے لوگوں کو جنہوں نے اسے برائی سے نہیں روکا۔ یاد رہے کہ کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق برائی کی جگہوں سے دور رہنا بھی ضروری ہے۔
بدشگونی کیا ہے؟ ”تطیّر‘‘ اور ’’طِیَرۃ‘‘ کیا ہے؟
امام احمدؒ نے سند کے ساتھ مرفوعاً ذکر کیا ہے کہ: ’’ بد شگونی یہ ہے کہ جو آپ کی پیش قدمی یا پسپائی کا باعث بنے۔ عز بن عبد السلام ؒکہتے ہیں: ’’دل میں موجود بدگمانی کو عربی میں ”تطیّر‘‘ اور اس بدگمانی پر مرتب ہونے والے عمل کو ’’طِیَرۃ‘‘ کہتے ہیں۔
بدشگونی سے پناہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ’’ہر کسی کے دل میں بدشگونی آتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی وجہ سے اسے ختم کر دیتا ہے۔‘‘ اور ایک مسلمان پر بارگاہِ الٰہی میں پناہ حاصل کرنا اور دل کو صرف اللہ کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے، اس کے لئے وہ دعا میں گڑگڑا کر اللہ تعالی سے مانگے۔
عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :”اللہ کے رسولؐ کے پاس بد شگونی کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ان میں سے بہتر نیک فال ہے، اور بد شگونی کسی مسلمان کو پیش قدمی سے نہیں روک سکتی، اور اگر کسی کو غیر مرغوب چیز نظر بھی آئے تو وہ کہے: یا اللہ! بھلائی کو تو ہی لانے والا ہے، اور برائی کو تو ہی دور کرنے والا ہے، اور نیکی کرنے اور برائی سے بچانے کی طاقت صرف اللہ کی طرف سے ہے۔
اسی طرح وارد شدہ ادعیہ میں یہ بھی ہے کہ:
’’یا اللہ! بھلائی صرف تیری ہی طرف سے ہے، اور کوئی بھی پرندہ تیری ملکیت سے باہر نہیں ہے، اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔‘‘
(”ماہِ صفر اور بد فالی‘‘ پر مسجد ِ نبویؐ کے امام ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز کا خطبہ)